بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر کی عدالتیں بڑھتی ہوئی مقدمات کی تعداد سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، جہاں 3.43 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر مقدمات فوجداری نوعیت کے ہیں اور کئی اضلاع میں زیر التوا مقدمات کی تعداد تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گریڈ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کل 3,43,962 زیر التوا مقدمات میں سے 2,26,678 فوجداری اور 1,17,284 دیوانی مقدمات ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ 1.88 لاکھ یعنی54.84فیصدسے زائد مقدمات ایک سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ہیں۔ فوجداری مقدمات میں صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے، جہاں 56.15فیصد مقدمات ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں، جبکہ دیوانی مقدمات میں یہ تناسب 52.33فیصد ہے۔ پری لٹیگیشن(قبل از مقدمہ کارروائی) اور پری ٹرائل(قبل از سماعت کارروائی) مقدمات کم ہیں، صرف 75 ایسے مقدمات پورے جموں و کشمیر میں موجود ہیں۔وادی میں سری نگر ضلع سب سے آگے ہے، جہاں 63,786 مقدمات زیر التو ہیں، اس کے بعد بارہمولہ میں25,255 اور اننت ناگ میں23,923 ہیں۔ دیگر اضلاع میںبدگام میں16,769، کپوارہ میں15,153، پلوامہ میں14,283، کولگام میں11,104، شوپیان میں7,786، گاندربل میں7,373 اور بانڈی پورہ میں7,300 مقدمات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق سری نگر میں مقدمات کی کثرت کی بنیادی وجوہات میں آبادی کی کثافت، عدالتوں کی مرکزیت، اور قریبی اضلاع سے مقدمات کا آنا شامل ہے۔جموں صوبے میں جموں ضلع سب سے زیادہ بوجھ لیے ہوئے ہے، جہاں 72,250 مقدمات زیر التوا ہیں۔ اس کے بعد کھٹوعہ میں 13,407، راجوری میں13,031، ڈوڈہ میں7,896، رامبن میں7,633، پونچھ میں6,512، ریاسی میں6,310، سامبا میں6,244 اور کشتواڑ میں3,974 ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں کا زیادہ بوجھ اس کے عدالتی اور انتظامی مرکز ہونے کی وجہ سے ہے، اور ساتھ ہی سرحدی اور پہاڑی اضلاع کے مقدمات کا اضافی بوجھ بھی شامل ہے۔اعداد و شمار کے مطابق خواتین کی جانب سے دائر کردہ مقدمات کل کا تقریباً 7فیصد کی شرح سے23,453 مقدمات ہیں، جبکہ بزرگ شہریوں کے 24,263 مقدمات زیر التوا ہیں، جس میں 19,695 دیوانی اور 4,568 فوجداری مقدمات شامل ہیں، جو عدالتی تاخیر میں حساس طبقات کے لیے تشویش کا سبب ہیں۔ تقریباً 4فیصد مقدمات ایک دہائی سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں، جو طویل عرصے سے جاری قانونی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔