سرینگر //ایک طرف جہاں مرکزی سرکار نے وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع کو تپ دق سے پاک ضلع قرار دیا ہے وہیں دوسری جانب جموں و کشمیر میں پچھلے2سال کے دوران 6716افراد ٹی بی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ سٹیٹ ٹیوبر کلوسز آفیسر ڈاکٹر ریحانہ کوثر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ سال 2019 میں 4080تپ دق مریضوں کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 3715مریض سرکاری اور364مریضوں کی نشاندہی نجی اسپتالوںمیں ہوئی ہے‘‘۔انہوںنے کہا ’’سال 2020کے دوران لاک ڈائون کے بائوجود بھی 2836ٹی بی مریضوںکی نشاندہی کی گئی جن میں 2431سرکاری اسپتالوں جبکہ 405مریضوں کی نشاندہی نجی کلنکوں نے کی ۔ڈاکٹر ریحانہ نے بتایا ’’ مرکزی سرکار کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں سال 2015سے لیکر ابتک جن ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ٹی بی مریضوں کی کمی میں 80فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے ، ان کو پہلے زمرے میں شامل کیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ پہلے زمرے میں لکش دیپ اور جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع کو شامل کیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ جموں و کشمیر سے بڈگام اور ادھمپور ضلع کو شامل کرنے کی درخواست دی گئی تھی اور آئی سی ایف آر، عالمی ادارہ صحت اور دیگر نمائندوں نے دونوں اضلاع کا سروے کیا ، 2دو ماہ تک جاری رہا ‘‘۔ڈاکٹر ریحانہ نے بتایا ’’ بڈگام ضلع میں سال 2015میں 257ٹی بی مریض موجود تھے جو سال 2020میںکم ہوکر 170رہ گئے‘‘۔انہوں نے کہا کہ سال2021میں بڈگام ضلع اس مرض سے آزاد ہوگیا ۔آئی سی ایم آرکے سروے کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ریحانہ کا کہنا تھا کہ سروے میں ضلع بڈگام میں3296گھروں میں رہنے والے 17,490افراد کو دائرے میں لایا گیا جن میں صرف 2میں تپ دق کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ریحانہ نے بتایا ’’ سرینگر ضلع میں بھی ٹی بی مریضوں میں88فیصد کمی آئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر شہر کیلئے آئندہ سال مرکزی سرکار کو سروے کیلئے درخواست دی جائے گی۔ ضلع سرینگر تپ دق افسر ڈاکٹر مس تہجینا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ضلع سرینگر میں سال 2019 میںٹی بی کی تشخیص کیلئے 9410مریضوں کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں 1669 میں ٹی بی کی تصدیق ہوئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ سال 2020کے دوران 7122افراد کے تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جن میں1127ٹی بی مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ سال 2021کے 3ماہ کے دوران 948ٹیسٹ کئے گئے جن میں 240مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے‘‘۔