اسلامی نقطۂ نظر سے کائنات کا نظام محض مادی اسباب و علل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مربوط اخلاقی ترتیب کا مظہر ہے، جہاں ہر عمل اپنے نتیجے کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ ظلم، ناانصافی اور استحصال وقتی طور پر اگرچہ طاقت اور غلبے کا تاثر دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اپنے اندر ہی زوال کے اسباب سموئے ہوتے ہیں۔اسلام نےباربار اقوامِ سابقہ کے واقعات کو بطورِ عبرت پیش کردیاہے تاکہ انسان یہ سمجھ سکے کہ اقتدار کا دوام عدل و توازن سے مشروط ہے نہ کہ محض قوت و تسلّط سے۔اس لئے مسلمان کے لئے یہ بات ذہن نشیںرہنی چاہئے کہ وہ تاریخ کے ان اصولوں کو محض نظری بحث تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی اجتماعی زندگی میں ان کو رہنما بنائیں،کیونکہ موجودہ عالمی حالات کو دیکھ کر یہ تلخ حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے کہ طاقت، مفادات اور جغرافیائی سیاست کے پیچیدہ جال میں ہر سطح پر انسانیت کی بنیادی قدریں پس ِ پشت ڈالی جا رہی ہیں۔
ایسے میں یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم دینی بصیرت اور تاریخی شعور کی روشنی میںتمام اسباب کو سمجھیں، ان کے ممکنہ نتائج کا ادراک حاصل کرکےاس حقیقت سے روشناس ہو سکیں کہ جب ظلم اپنی حدوں کو پار کر جاتا ہے تو وہ لازماً اپنے انجام سے ٹکراتا ہے اور یہی ٹکراؤ تاریخ کے دھارے کو ایک نئے رُخ پر ڈال دیتا ہے۔آج جب ہم موجودہ عالمی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو حالیہ عالمی تناظر میں ایران کے خلاف بھڑکائی گئی جنگ تاریخی دھارے کی ایک نئی کڑی معلوم ہوتی ہےجو محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ اس کے پس ِ پردہ کارفرما جیوپولٹیکل مفادات، عالمی طاقتوں کی حکمت ِ عملی اور اثر و رسوخ کی کشمکش کی بھی مظہر ہے۔ بلاشبہ اس کشیدگی کو بعض طاقتور ممالک نے اپنے تزویراتی مقاصد کے تحت ہوا دی ہے، تاہم اب حالات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جہاں یہ حکمتِ عملی خود اپنے نتائج سے دوچار ہو رہی ہے اور قدرتی مکافاتِ عمل پوری شدّت کے ساتھ ظاہر ہورہی ہے۔گویا جو تنازع ابتداء میں محدود دائرے میں تھا، وہ بتدریج غیر یقینی، انتشار اور وسیع تر عدم استحکام میں تبدیل ہو رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب انسانی منصوبہ بندی فطری اور اخلاقی اصولوں سے ٹکراتی ہے تو اس کا انجام قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔
بے شک جب کوئی طاقت اپنی معاشی، عسکری اور سیاسی استعداد سے بڑھ کر مداخلت کرنے لگتی ہےتو ایسی حد بالآخر خود اس طاقت کے لئے بوجھ بن جاتی ہے ، وہ اپنی ہی پالیسیوں کے دباؤ تلے کمزور پڑنے لگتی ہےاور وقتی برتری کے باوجود طویل المدت عدم استحکام اور زوال کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔چنانچہ ایران پر ٹھونسی جنگ کو جن قوتوں نےمحدود دائرے میں رکھنے کا منصوبہ بنایا تھا، وہ خود غیر یقینی، خوف اور داخلی انتشار کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ غیر متوقع نتائج کی یہ لہر اس امر کی دلیل ہے کہ انسانی منصوبہ بندی جب فطری اصولوں سے ٹکراتی ہے تو اس کا انجام بے قابو ہو جاتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک میں قیادت کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام اب محض سرکاری بیانیے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ جنگوں کے حقیقی اخراجات چاہے وہ انسانی جانوں کی صورت میں ہوں یا معاشی بوجھ کی شکل میں جب عوام کے سامنے آتے ہیں تو ان کا صبر جواب دینے لگتا ہے۔
جمہوری معاشروں میں یہ بے چینی ایک بڑے سیاسی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ معیشتوں کو بھی تباہ کر دیتی ہیں۔ بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات، عالمی منڈیوں میں عدمِ استحکام اور داخلی وسائل کی بے دریغ کھپت یہ سب مل کر معیشت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔چنانچہ جب معاشی بحران شدّت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کو بھی متاثر کرتے ہیں اور یوں ایک مکمل زوال کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔خصوصاًجب کسی جنگ کی اخلاقی بنیاد کمزور ہو اور اس کے مقاصد مبہم ہوں تو فوج کے اندر بھی سوالات جنم لیتے ہیں،جو بغاوت کا پیشِ خیمہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔المختصرآج کے حالات ہمیں یہ واضح سبق دیتے ہیں کہ عالمی نظام کو محض طاقت کے بل پر نہیں بلکہ انصاف، باہمی تعاون اور مضبوط اخلاقی اصولوں پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بصورتِ دیگر مکافاتِ عمل کا یہ اٹل سلسلہ نہ صرف چند مخصوص ممالک بلکہ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔