اب جبکہ اقوام عالم اس بات کی معترف ہورہی ہیںکہ کرونا کی وبائی بیماری کے خاتمہ کا وقت غیرمعینہ اورغیر یقینی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ابھی تک کوئی ویکسین بھی نہیں بنی ہے تووقت آگیا کہ ساری دنیا اس بات کو تسلیم کرلے کہ اب زمین پر موجود انسان کو اس بیماری سے بچنے یااس سے محفوظ رہنے کے لئے جہاں ایک لمبے عرصے تک احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا پڑے وہاں جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے اپنا روزمرہ زندگی کا کام کاج شروع کرنا ہوگا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک نظر نہ آنے والے کیڑے کی یلغار سے تمام دنیا مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس پر قابو پانے کی ویکسین کب تیار ہو گئی۔ یہ کیڑا اب تک لاکھوں جانیں نگل چکا ہے اور کوئی نہیں جانتا کے یہ مزید کتنی جانوں کو نگل لے جائے گااورپھر اس وائرس کے بعد دنیا کیسی ہو گی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ظاہر ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے جدھرانسانی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں وہیں اِس نے پوری دنیا کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔امریکی سٹاک ایکسچینج کورنا کی وجہ سے کریش کر گئی۔پیٹرولیم کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح تک گر گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں بہت حد تک کمی آگئی۔ ہرطرح کا نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔سیاحتی مقامات،شاپنگ مالز، کارو باری ادارے،تعلیمی شعبے کے ساتھ ساتھ مسجد، مندر ،گوردوارہ وگرجے کو تالے لگ گئے۔تمام ممالک میں مکمل طور پر لاک ڈاون ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے ہمسایہ ممالک کے ساتھ آمدرفت اور تجارت کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔جس کی وجہ سے وہ غریب ممالک جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے ،مزید پس کر رہ گئے۔اگرچہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر لوگوں کی بے روزگاری کو دیکھتے ہوئے حکومتوں نے لا ک ڈاون میں نرمی لاتے ہوئے چھوٹے تاجروں کو احتیاتی تدابیر کے ساتھ کاروبار کھولنے کی مشروط اجازت بھی دے دی ہے۔وائرس کی ابھی تک ویکسین نہیں بن سکی ہے اس لئے واحد حل خود کو احتیاتی تدابیر اپناتے ہوئے محفوظ رکھنا ہے۔کرونا کی اس لڑائی میں ڈاکٹرز نے فرنٹ لائن پر آکر مرتے ہوئے لوگوں کی جانیں بچائیں۔اپنے فرض کی انجام دہی میں بہت سے ڈاکٹرز نے اپنی زندگی کے نذرانے بھی پیش کئیاوراس کے ساتھ ساتھ پولیس اور صحافیوں کا کردار بھی قابل ستائش ہے۔
کووڈ ۔19کے بحران نے صحت عامہ کی خدمات میں معاشرتی تفاوت کو بھی بے نقاب کردیا ہے، جہاں دنیا کی 80 فیصد آبادی کے لئے کسی قسم کا سماجی تحفظ (Comprehensive Social Protection) میسر نہیں ہے۔ سماج کے دبے کچلے طبقات اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے تئیں معاشرتی تفریق کی کئی مثالیں حکومتی اداروں کی سطح پر دکھائی دے رہی ہیں۔ این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروس) کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے کووڈ19سے متاثرہ شدید بیمار لوگوں میں ایک تہائی کا تعلق سیاہ فام اور نسلی اقلیتی طبقات سے ہے۔یہ بھی تو سچ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام عام انسانی زندگی کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنے منافع کو ہر چیز کے اوپر رکھتا ہے۔یہ فطری طور پر استحصال کرنے والا اور محنت کش طبقہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے والا نظام ہی ہے جو ایک وبائی بیماری کے بیچ انسانی جانوں کی قیمت پر ’نفع کمانے کے مواقع‘ تلاش کرتا ہے۔ آج، دنیا بھر میں لاکھوں کارکنان اس وائرس کا شکارہیں کیونکہ وہ نہ تو بیماری کی رخصت کے مستحق ہیں اور نہ ہی کام سے غیر حاضر رہنے کے متحمل۔ لاک ڈائون پر مجبور، سرمایہ دارانہ معیشتیں اب دوبارہ کھلنے اور منافع کمانے کے لئے بے چین ہو رہی ہیں۔غور کرنے والی بات ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام دنیا کے لئے کس قدر مناسب ہے۔ اس مقصد کے لئے، خیرات میں دی جانے والی کوئی بھی رقم اس کی خامیوں کو چھپا نہیں سکتی۔ تاہم ہمیں بھی سرمایہ داری کے مقابلہ میں سوشلزم والے مباحثے سے آگے بڑھنا چاہئے، سرمایہ دارانہ نیز سوشلسٹ دنیا،دونوں کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہئے اور مزید انسانیت پسند، انصاف پسنداور جمہوری عالمی نظام کی سمت کام کرنا چاہئے۔
آج دنیا کے پاس سب سے زیادہ انسانی وسائل تو ہیں لیکن انسانی وسائل کے ذخیرے،طاقت کوسوائے جنگ و جدل کے استعمال کرنے کے ذرائع محدود کر دیئے گئے ہیں۔کورونانے دنیا کے نئے ماحول ،نئی ضروریات کو بھی سامنے لایا ہے۔نئے وبائی امراض کے خطرات سے انسانوں میں ایک دوسرے سے خیر سگالی طور پر ہاتھ ملانے،گلے ملنے کے قدیم روایتی طریقے اب ختم ہونے کے مرحلے میںداخل ہو چکے ہیں۔خیر سگالی کے اظہار کے لئے اب انسانوں کو متبادل طریقوں پر غور کرنا پڑے گا۔دنیا میں قدرت کا توازن برقرار رکھنے کا اپنا ایک نظام ہے۔کرونا سے جہاں دنیاڈیڈ لاک اور اموات کا شکار ہو رہی ہے وہاںمجموعی طور پرٹریفک،آلودگی و دیگر کئی مختلف وجوہات سے ہلاک ہونیوالوں کی تعداد میں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے،آلودگی کم ہوئی ہے،جنگلی اور قدرتی حیات کو بھی انسانی بداعمالیو ں سے کافی سکون ملا ہے۔اگرچہ بچوں کو جوانوں کے مقابلے میں اس وبا میں مبتلا ہونے کے خدشات کافی کم ہیں تاہم اس بیماری اور لاک ڈاون سے دوسرے کئی جسمانی، ذہنی اورنفسیاتی اثرات ہیں جو بچوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا کے ساٹھ فی صد بچے اس وقت لاک ڈاون میں ہے جس سے ان کی معاشرے میںنقل و حرکت اور دوسروں تک رسائی محدودہوئی ہے۔تمام برے اثرات اس امر سے سب سے زیادہ منسلک ہیں کہ بچے اب سکول جانے سے قاصر ہیں۔رپورٹ کے مطابق 188 ممالک میں لاک ڈاون ہے اورایک اعشاریہ پانچ بلین بچے اور جوان اس لاک ڈاون سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بہت سے بچے جن کو کھانا ان کے تعلیمی ادارے سے ملتا تھا اب وہ اس سے محروم ہو چکے ہیں۔ 368 ملین بچے 143 ممالک میں متاثرین خوراک ہیں۔دوسری بڑی پریشانی جس کا بچوں کو سامنا کرنا پڑ سکتاہے، وہ ہے خاندانی تشدد، تنہائی اور گھٹن کے شکار خاندانوں میں تشدد کا بڑھتاہوا رجحان ہے ،جس سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔لاک ڈاون کے حالات میں بچے سکول جانے سے قاصر ہیں۔ ان کی تعلیم جاری رہے ،اس سلسلے میں انٹرنیٹ کا استعمال کیا جانے لگا ہے۔ اب دنیا بھر میں آن لائن کلاسیں لینے کے لئے بہت سے ٹولز درکار ہیں جو کہ لازمی طور پر تمام طالبعلموں کے پاس نہیں ہیں۔ اس طرح ان کے علم حاصل کرنے کے عمل میں بھی فرق آیا ہے۔کم آمدنی والے ممالک میں صرف 30 فی صد ایسے ہیں جو ڈیجیٹل ٹریننگ دینے کے اہل ہیں۔ اسی طرح بہت سے ممالک میں لڑکیوں کی نسبت لڑکوں کی انٹرنیٹ تک رسائی زیادہ ہے، جس سے لڑکیوں کی تعلیم پر اور زیادہ برے اثرات پڑتے ہیں۔انٹرنیٹ کے استعمال سے بچوں اور جوانوں کی توجہ صرف تعلیم پر اور تعلیم تک ہی محدود نہیں رکھی جا سکے گی، جس سے ان کے اخلاق اور رحجان تباہ ہونے کے خدشات بھی در پیش ہیں۔ غیر اخلاقی سرگرمیوں سے بچانے اور بچوں کی مثبت تربیت اور دیکھ بھال میں اب والدین یا بڑوں کا بہت ہی زیادہ ہاتھ ہو گا جو اپنے بچوں کو درست انداز سے آگے بڑھا سکتے ہیں اور اس عارضی مصیبت کے عرصہ میں انہیں مستقل نقصان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ہم سب بڑوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آئندہ نسل کو تباہ اورخراب ہونے سے بچانا ہو گا ورنہ یہ کورونا سے بھی بڑی وبا بن کے سامنے آئے گی۔
دنیابھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 45 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ تین لاکھ سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔برطانوی حکومت کے تازہ اندازوں کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے مقابلے کے لیے 123.3 ارب پائونڈ خرچ ہوچکے ہیں۔امریکہ میں تین کروڑ 65 لاکھ افراد بے روزگاری الائونس وصول کرنے کی درخواست دائر کر چکے ہیں۔جاپان کی حکومت نے صحت کی ملک گیر ایمرجنسی ختم کر دی ہے۔نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والی پابندیوں میں نرمی کے بعد ہزاروں کاروباری ادارے دوبارہ کھول دیئے گئے ہیں۔کورونا نے دنیا بدل کے رکھ دی ہے۔ کوئی ملک اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں، جسے کسی نہ کسی شکل میں اس وبا نے متاثر نہ کیا ہو۔جوں جوں اس وبا کا دورانیہ بڑھتا جا رہا ہے، فرد اور معاشرے پر اس کے منفی اثرات بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔بھارت کی اگر بات کی جائے تو حکمران طبقہ واحد طبقہ ہے، جس کو بظاہر اس وبا نے وقتی طور پر فائدہ پہنچایا ہے۔مودی حکومت کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اسکے یکطرفہ فیصلوںکے سبب ملک معاشی پالیسیاں جس بْری طرح سے ناکام ہو کر تباہی لے آئی تھیں، اس تباہی پر کورونا کی چادر چڑھ گئی ہے۔ اسی طرح ملک میں مسلمانوں کے خلاف کئے گئے جارحانہ فیصلوں ،قوانین کا نفاذ ، شاہین باغ احتجاج اوردہلی کے حالیہ فسادات وظالمانہ اقدامات کے ساتھ ساتھ کشمیر کے تئیںغیر منصافانہ پالسیوںکے سبب حکومت کے خلاف نفرت کی جو فضا چھائی تھی،اْس کو بھی وقتی طور پر کورونا نے صاف کردیاہے۔حکمران مطمئن ہیں کہ جب تک کورونا ہے، حکومت کے خلاف اپوزیشن یا کسی اور جانب سے کوئی مہم جوئی نہیں ہو سکتی۔ موجودہ حکومت کی پاپولرازم اور افراط و تفریط پر مبنی خارجہ پالیسی کی وجہ سے چین، سعودی عرب، ترکی اور ایران وغیرہ کے ساتھ بھی اس کے تعلقات ٹھیک نہیںہیں۔کورونا نے عوام کے سامنے ان سب حوالوں سے حکومت کی جواب دہی ختم کردی ہے اور تاحال سیاست اور صحافت سے بھی یہ موضوعات غائب ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جاری آہ و فغاں کی کیفیت کے باوجود اقتدار کے ایوانوں میں سکون اور اطمینان نظر آتا ہے۔بھارت میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 90 ہزار تک پہنچ گئی ہے جس کے بعد اس نے متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے چین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جہاں سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا.تاہم مارچ کے اواخر سے نافذ کیے گئے سخت لاک ڈائون نے مرض پھیلنے کی شرح کو کم سطح پر رکھا ہوا ہے۔ریاستی رہنمائوںکاروباری شخصیات اور ملازمت پیشہ شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ نقصان کی شکار معیشت کو واپس کھول دیں تاہم متوقع ہے کہ حکومت لاک ڈاون میں توسیع کر دے گی جو اتوار کو ختم ہوچکی ہے۔ادھراقوام متحدہ کے کووڈ 19 کے لیے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کو سختیوں کو معمول بنانا پڑے گا اور شاید معمولات زندگی پہلے کی طرح کبھی بحال نہ ہوسکیںاور کرونا کے ساتھ ہی جینا پڑے گا۔