لندن //: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کلینیکل مینجمنٹ میں نظرثانی شدہ ہدایات جاری کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ کورونا وائرس کے مریض جن میں مستقل، نئی یا بدلتی علامات ہیں تو انہیں فالو اپ دیکھ بھال تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر ’لانگ کووڈ‘ کہلائے جانے والے پوسٹ کورونا وائرس صورتحال پر وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد جو انتہائی تھکاوٹ، مستقل کھانسی وغیرہ جیسے طویل المدتی مسائل کا سامنا کرنے والے مریضوں سے شواہد اکٹھے کیے گئے۔ایک بیان کے مطابق صورتحال کو سمجھنا ڈبلیو ایچ او کے کام کے ترجیحی شعبوں میں سے ایک تھا۔اس حالت اور اس کے ذیلی اقسام اور کیس کی تعریفوں کی تفصیل پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے ڈبلیو ایچ او آئندہ ماہ مشاورت کا ایک سلسلہ ترتیب دے گا۔یہ سائنسی تفہیم حالت کے نام سے آگاہ کرے گی، مشاورت میں مریضوں کے گروپس سمیت اسٹیک ہولڈرز وسیع فہرست شامل ہوگی۔گھر میں موجود کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ڈبلیو ایچ او نے خون میں آکسیجن کی سطح کی پیمائش کے لیے پلس آکسیمٹری کے استعمال کی تجویز پیش کی ہے۔اس میں کہا گیا کہ’اس کے لیے گھر کی دیکھ بھال کے دوسرے پہلوؤں، جیسے مریض اور مریض کی دیکھ بھال کرنے والوں کو آگاہی کی فراہمی اور مریض کی باقاعدگی سے دیکھ بحال کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے۔