بھاجپا الگ ریاست کا مطالبہ کرکے لداخ کی طرح جموں کا بھیڑا بھی غرق کرنا چاہتی ہے :وزیراعلیٰ
کیف حسن زیدی
جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو بی جے پی اور شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی پر ایس ایم وی ڈی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس میں ایم بی بی ایس کے داخلوں کے خلاف احتجاج پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں داخلہ لینے والے طلباء خالصتاً میرٹ پر کوالیفائی ہوئے ہیں اور کسی بھی وجہ سے نہیں۔
ویشنو دیوی میڈیکل داخلہ
جموں میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے جموں میں ہونے والے مظاہروں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئےکہا کہ یہ احتجاج بلا جواز اور خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا’’احتجاج کس بات پہ؟ ان بچوںنے سخت محنت سے اپنی میڈیکل سیٹیں حاصل کی ہیں۔ کسی نے ان پر کوئی احسان نہیں کیا اور نہ خیرات میں ملی ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مظاہرین نہیں چاہتے کہ وہ طلباء ادارے میں تعلیم حاصل کریں تو انہیں کہیں اور جگہ دی جائے۔ انکا کہنا تھا ’’موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، مجھے نہیں لگتا کہ وہ طلباء ایسے ماحول میں اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہیں گے‘‘۔ایک والدکے طور پر بات کرتے ہوئے، عمر نے کہا کہ وہ اپنے بچے کو کسی ایسے ادارے میں پڑھنے کو ترجیح نہیں دیں گے جہاں سیاست اور دشمنی تعلیمی زندگی پر حاوی ہو۔ انہوں نے مرکزی حکومت اورمرکزی وزارت صحت سے طلباء کو دوسرے میڈیکل کالجوں میں منتقل کرنے کو کہا، یہ کہتے ہوئے کہ سیاسی اور مذہبی ایجنڈوں کی وجہ سے تعلیم کو نقصان پہنچنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔وزیر اعلیٰ نے غیر معمولی طور پر سخت لہجے میں کہا’’ہم طلباء کو ایسی جگہ پر پڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے جہاں سیاست ہو رہی ہو، اس میڈیکل کالج کو بند کر دو، یہ کھولنے کے لائق ہی نہیں ہے۔ ہمیں ایسے میڈیکل کالج کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
جموں سٹیٹ ہُڈ
بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے عمرعبداللہ نے پارٹی پر لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کرکے افراتفری پھیلانے کا الزام لگایا اور جموں میں اسی تجربے کو دہرانے کے خلاف خبردار کیا۔انہوں نے کہا’’لداخ کو الگ یوٹی بنا کر لداخ کا بھیڑا انہوںنے غرق تو کرہی دیا ،اب اگر جموں کو الگ کرکے جموں کا بھیڑا غرق کرنا ہے تو کرلیں‘‘۔وزیراعلیٰ نے اس ضمن میں مزید کہا’’وہ لداخ کو نہیں سنبھال سکے اور اب وہ جموں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔جو چاہو کرو، لیکن براہ کرم جموں و کشمیر کو تباہ نہ کرو‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہر مسئلے کو مذہب کی نظر سے دیکھتی ہے اور الزام لگایا کہ تعلیم، کھیل اور صحت کو بھی فرقہ وارانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوںنے مزید کہا’’ان(بی جے پی) کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے، اس لیے اب وہ جموں کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ ہر جگہ وہ مذہب کو لاتے ہیں‘‘۔اُن کا مزید کہناتھا’’یہی بی جے پی والے 2019میں جب بنارہے تھے تو تب کیوںنہیں بنایا؟۔لداخ ان سے سنبھلا نہیں،اب جموں کو یہ الگ کرنا چاہتے ہیں،کس بنیاد پر ؟مذہب کی بنیاد پر؟۔باقی چیزیں آپ کرئے ،جموں وکشمیر کو کیوں تباہ کررہے ہیں،ایک طرف کہتے ہیں کہ یوٹی حکومت لوگوںکا خیال نہیں رکھتی لیکن تباہ کرنے میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں‘‘۔انکا کہنا تھا کہ کہیں نہ کہیں ان کی سیاست ناکام ہوئی ہے اور اب انہیں جموںکا سٹیٹ ہُڈیاد آیا۔
ریزوریشن
ریزرویشن کے معاملے پر عمر نے صحافیوں سے کہا کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر سے جواب طلب کریں۔ انہوں نے کہا’’ ایل جی کے گھر جائیں اور ان سے پوچھیں کہ کابینہ ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا کیا ہوا، ہم نے اسے پیش کر دیا، اب یہ ایل جی پر منحصر ہے‘‘۔انکا کہناتھا’’ہم نے اپنا کام کردیا،کابینہ سب کمیٹی نے رپورٹ کابینہ میں پیش کی ۔کابینہ نے اُسے منظور کیا اور فائل لوک بھون بھیج دی ۔اب یہ ایل جی پر منحصر ہے کہ وہ اسے منظور کرے یا نہ کرے اور آپ کو لوک بھون جاکر ایل جی سے ہی اس بارے میں پوچھناچاہئے‘‘۔
چیلنجز
چیف منسٹر نے مکمل ریاست کی بحالی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال وہ بدستور چیلنج رہے جبکہ موجودہ حالات میں بجٹ اجلاس کا انعقاد بھی آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری اور اس کو پیش کرنا بھی ایک چیلنج ہے۔سیاحتی سیزن کو بھی ایک چیلنج سے تعبیر کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ مارچ اپریل سے سیاحتی سیزن شروع ہوگا،امید کرتے ہیں کہ یہ سیزن اچھاجائے تاہم یہ ایک چیلنج ہے اور چیلنجز رہیں گے۔ڈیلی ویجروں کے ریگولرائزیشن پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ اجلاس میں اس پر کیا بحث ہوگی، اس بارے میں قیاس کرنا قبل از وقت ہوگا۔
کھیل تنازعہ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ کھیل کو کھیل کی طرح ہی دیکھتے ہیں لیکن یہ سوال اُن سے کیاجاناچاہئے جو کھیلوںپر بھی سیاست کررہے ہیں۔ ان کا کہناتھا’’جب وہ ٹیم کو دیکھتے ہیں تو کھلاڑیوںکے مذہب کو دیکھتے ہیں۔مذہب کے علاوہ ان کوکچھ دکھتا نہیں ہے۔جب فٹبال ٹیم میں مسلمان زیادہ تھے ،تو انکو اس پر اعتراض تھا ۔جب کرکٹ ٹیم میں مسلمانوںکی تعداد کم ہوگئی تو ان کو کرکٹ ٹیم سے کوئی اعتراض نہیں رہا۔یہ چیز میں مذہب لاتے ہیں،تعلیم ،کھیل کودمیں ۔کھانے پینے میں حد ہی کردی ۔اب رہا ہی کیا؟اسی لئے جب کوئی ایشو چلا نہیں تو جموںکو الگ کرنے میں لگے ہوئے ہیں‘‘۔
کرکٹ
عمر عبداللہ نے بنگلہ دیش کے سٹار کرکٹر مستفیض الرحمان کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انہیں آئی پی ایل سے ہٹانا ٹیم کی خواہش نہیں تھی بلکہ انہیں نکالنے کیلئے اوپرسے مجبور کیاگیا۔ بین الاقوامی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ اگر کسی کو بنگلہ دیش سے شکایات ہیں تو انہیں مناسب سطح پر اٹھانا چاہئے اور لوگوں کو سیاسی تنازعات میں نہیں گھسیٹنا چاہئے۔