غلام محمد
سوپور//گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں ایک ٹیچر کے خلاف جنسی زیادتی کے سنگین الزامات کے بعد سوپور میں پیر کو کشیدگی پھیل گئی، طالبات نے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کر دیا، جس سے پولیس اور انتظامیہ نے فوری کارروائی کی۔ طالبات کے ساتھ سنگین بدسلوکی کے الزامات کے بعد ایک سینئر لیکچرر کو معطل کر دیا۔ جموں و کشمیر پولیس نے بھی اس لیکچرر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے ، جو گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول، سوپور میں تعینات تھا۔ ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر کی جانب سے جاری ایک سرکاری حکم کے مطابق، اردو کے لیکچرر کو اس کے طرزِ عمل کی تحقیقات مکمل ہونے تک فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم کو ضلع بانڈی پورہ کے گریز علاقے میں واقع بی ایچ ایس ایس بدوگام کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے ، جبکہ جوائنٹ ڈائریکٹر (نارتھ) کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے ، جو 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرے گا۔
پیر کے روز اسکول میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب طالبات نے مبینہ ہراسانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسکول کے باہر جمع ہو کر لیکچرر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ جیسے جیسے احتجاج میں شدت آئی، پولیس اور سول انتظامیہ کے سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے اور طالبات کو پْرسکون کرنے کی کوشش کی۔ سوپور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، افتخار طالب نے کہا کہ ایک مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس واقعے کے پیش نظر حکام نے سوپور کے تین تعلیمی اداروں میں ہفتہ تک کلاس ورک معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکم نامے کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول سوپور، بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول سوپور اور گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور میں 15 اپریل سے 18 اپریل تک تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔عہدیداروں نے بتایا کہ یہ فیصلہ جاری مظاہروں کے پیش نظر اور صورتحال کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔حکام نے یقین دلایا ہے کہ انصاف کو یقینی بنانے اور قیام امن کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔