کابل، 31 اکتوبر (یو این آئی) افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ قندھار میں عوام کے سامنے نظر آیا ہے۔ افغانستان کی خبر رساں ایجنسی پڑواک نے اتوار کو ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔پڑواک کے مطابق، اخندزادہ کو پانچ سال قبل تحریک کا روحانی پیشوا مقرر کیا گیا تھا، لیکن ستمبر میں انہیں طالبان کی عبوری حکومت میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔پڑواک ذرائع کے مطابق طالبان رہنما نے دارالعلوم حکیمہ اسکول کے طلباء سے خطاب کیا اور مبینہ طور پر انہیں مذہبی موضوعات کی وضاحت کی۔ اس دوران اخندزادہ نے سیاست کا بالکل ذکر نہیں کیا۔ اخندزادہ نے جب تقریر کی تو اسکول کے احاطے کے ارد گرد سیکورٹی فورسز کا سخت پہرہ تھا۔اس دوران میڈیا کو اندر جانے نہیں دیا گیا اور ان کی تقریر کے بعد اس کا ایک آڈیو کلپ سوشل میڈیا نیٹ ورک پر جاری کر دیا گیا۔