کابل//افغانستان میں طالبان نے خواتین سمیت تمام سرکاری ملازمین کیلئے عام معافی کا اعلان کردیا۔طالبان نے سرکاری ملازمین سے کہا کہ کابل میں حالات معمول پر آرہے ہیں، کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، تمام ملازمین معمول کی زندگی کا اعتماد کے ساتھ آغاز کریں اور کام پر واپس آ جائیں، انہیں ان کی تنخواہیں دی جائیں گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا۔طالبان کی طرف سے سرکاری ملازمین کے نام پیغام میں کہا گیا کہ اپنے اداروں میں نئے سرے سے کام پر آئیں، تاہم اپنے خیالات کو 20 سال پہلے کے حالات کے مطابق بحال کریں، رشوت، غبن، تکبر، بدعنوانی، سستی کاہلی اور بے حسی سے بچیں، جو پچھلے 20 سال سے کسی وائرس کی طرح سرکاری اداروں میں پھیلی ہوئی ہے۔طالبان کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد متعدد سرکاری ملازمین اور ڈاکٹرز کام پر واپس آگئے ہیں جبکہ کابل شہر کی سڑکوں پر ٹریفک پولیس نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی کی جانب سے سامنے آیا۔انعام اللہ نے افغانستان میں ان کی حکومت کے لیے امارات اسلامیہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امارات اسلامیہ نہیں چاہتی کہ خواتین متاثر ہوں، شرعی قوانین کے مطابق انہیں حکومتی اسٹرکچر میں ہونا چاہیے۔
ملابرادرکو اہم ذمہ داری ملنے کا امکان
کابل //طالبان کے سیاسی ونگ کے سربراہ اور نائب امیر ملاعبدالغنی برادرک 20سال بعد افغانستان پہنچیں گے اور انہیں افغانستان میں اہم ذمہ داری سونپے جانیکاامکان ہے۔ طالبان کے قطرسیاسی دفتر کی قیادت دوحا سے ہنگامی طور پر قندھار روانہ ہوگئی ہے۔ قندھار میں قطر طالبان رہنماؤں کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں اور شہر میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ کابل میں اقتدار کی خلا کے باعث ملا برادر کو فوری طور اہم ذمہ داری دیے جانے کا امکان ہے۔
صورتحال پر امریکہ کا پاکستان، بھارت، چین اور روس سے رابطہ
نیویارک //امریکا نے پاکستان سمیت نصف درجن دیگر ممالک سے رابطہ کیا ہے جس کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ افغانستان کی صورت حال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔پاکستان، چین، روس، بھارت اور ترکی کے وزرائے خارجہ اور برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ان اعلیٰ سفارتکاروں میں شامل تھے جن سے امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے رابطہ کیا۔انہوں نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں سے بھی بات کی۔خیال رہے کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2 ہزار 252 کلومیٹر طویل سرحد ہے جبکہ چین کی واخان راہداری کے ساتھ ایک چھوٹی لیکن حساس سرحد افغانستان کے ساتھ منسلک ہے۔روس اور افغانستان کے درمیان سرحد نہیں تاہم 1989 میں جنگ زدہ ملک سے اپنی فوجوں کے انخلا کے بعد سے افغان باغیوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر چکا ہے۔