بلاشبہ اس وقت ساری دنیا کورونا جیسی مہلک بیماری سے نبرد آزما ہے اور انسانی معاشرے میں ایک خوف وہراس کا ماحول جاری ہے۔کورونا ئی قہر نے ایک طرف جہاں قوموں كى لائف اسٹائل كے ساتھ ساتھ لوگوںكے سوچنے سمجھنے كے انداز تک بدل ڈالے ہیں۔وہیں دوسری طرف دنیامیں کورونائی قہر کا سب سے بڑا مار کھانے والا طاقتور ملک امریکہ خانہ جنگی جیسی صورت حال کا شکار ہے جبکہ دنیا کی لگ بھگ نصف آبادی پر مشتمل دوبڑے ملک بھارت اور چین بھی باہمی کشیدگی میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ جس کے باعث اب اس بات پر تما م مفكرين كا اجماع ہے كہ كرونا كے بعد كى دنيا پہلے جیسے ہی نہیںرہنے والی ہے بلکہ سياسى وسماجى سطح پر بڑی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔اس قہر سے بچنے یا اس پر قابو پانے کے لئے عالمی سطح پر جو سوچ او ر اپروچ منظر عام پر آیا ہےاس میں نہ مکمل یکسوئی نظر آرہی ہے اور نہ ہی انسان اور انسانیت کی بقا کا کوئی مثبت پہلودکھائی دے رہا ہےبلکہ اس میںاعلیٰ اقدار ،نیک جذبات ، پاکیزہ اصول ، مثبت روایات اور ٹھوس مقاصد و اہداف کا فقدا ن چھایا ہوا ہے،جس سے یہی عندیہ مل رہا ہے کہ کرونا کا قہر بھی اُس گمراہ انسان کی کم ظرفی ،رذالت،طبقانیت،رنگ و نسل ،منافرت اور تفریق کو مٹا نہیں پارہا ہے جس کی بدولت آج ساری دنیاعذاب میں مبتلا ہے۔یہ انسان آج بھی اسی نہج پر قائم ہے جہاں طاقت،اَنا،خود سری اورسرکشی سے صرف مفروضوں اور دلیلوںکو تقویت ملتی رہتی ہےاور انسانیت،سچائی اور انصاف کی تذلیل ہورہی ہے۔
فارن پاليسى ميگزين نے بھی حال ہى ميں كرونا اور مابعد كى دنيا كے حوالے سے ايك سروے كروايا، جس ميں مختلف ميدانوں سے وابستہ لوگوں ، سياست دانوں،بيوروكريٹوں، نامى گرامى يونيورسٹيوں كے پروفيسروں ، سائنس دانوں، طبى ميدان سے وابستہ ڈاكٹروں، ملٹى نيشنل كمپنيوں كے مالکوںاور تعليم وريسرچ كے ميدان كے شہسواروںکو نمائندگی دی گئی تھی۔سروے رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سےکہا گیا کہ’’ کرونائی وباپورى دنيا كے منظرنامے كو بدل دے گى یعنی كورونا كے بعد كى دنيا ناقابل تصور حد تك تبديل ہو جائے گى، كئى ممالك كى چودهراہٹ خطر ے ميں پڑے گی ،معاشى سرگرميوں كو مفلوج كركے ركھ دے گى اور بڑ ے اور طاقتور ممالك ميں رسہ كشى کو بھی عروج پر پہنچائے گی ، 2008 كى عالمى كساد بازارى اس كے سامنے پھيكى پڑ جائے گى، چين و امريكہ ، چین و بھارت،امریکہ ایران اور بھارت و پاکستان كے درميان جارى كشيدگى اور مقابلہ داری ساری دنیا کے لئے پيچيدگى كا سبب بنے گی، عالمى معاشيات كے پيمانے بدل جائيں گے – ،ترقى پذير ممالك كورونا سے سب سے زياده متاثر ہوں گے، بے روزگارى كئى ممالك كے سماجى تانے بانے كوبھی متاثر كردے گى اور آپسى رسہ كشى او ر اختلافات كى وجہ سے معاشرت زمین بوس ہو جائے گی‘‘۔
قطع نظر اس کے عالمی ماہرین کے یہ خیالات اور خدشات کہاں تک درست ثابت ہوں گے ،تاہم اتنا تو سچ ہےكہ كورونا ئی فضا میںکیا ہم پہلی جیسی زندگى جى رہے ہیں؟ اگر سماجى لحاظ سے غور كريں تو ہمارے سماج ميں بڑى تبديلى واقع ہو چكى ہے، ہمارے خاندانى تعلقات نے نئے رنگ و روپ اختيا ركرلئے ہيں، قربت كى جگہ پر دورى كو ترجيح دى جانے لگى ہے، مل بيٹھ كر بات چيت كى جگہ انفراديت كو فروغ ملا ہے، رشتے ناطے بذريعہ فون يا وہاٹس اَپ پرنبھائے جانے لگے ہيں، عبادت گاہوں،گھروں اور تفریح گاہوں كى مجلسيں مفقود ہو گئى ہيں، سماجى رابطے بھی آن لائن ہو گئے ہيں۔ يہ تبديليا ں اس وقت ہيں جب کہ كرونا نےاپنے بال وپر مكمل طور پر نہيں نكالے ہيںکہ اس نے پورے تعليمى نظام كى شكل كو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے، نرسرى سے ليكر يونيورسٹى تك ہر مرحلے كى تعليم آن لائن ميں تبديل ہوگئی ہے، گھروں ميں موبائل اور ڈيسك ٹاپ كم پڑنے لگے ہيں، كيونكہ آن لائن كلاس كرنے والوں كى تعداد زياده ہے اور وسائل كم،اوپن يونيورسٹيز كى معنويت ميں اضافہ ہو گيا ہے، آن لائن ريسرچ كلاسز اور كانفرنسز كا انعقا د ہو رہا ہے۔ تجارتی اعتبار سے بات کی جائے تو ہر طرف خستہ حال صورت حال واضح نظر آرہی ہے،کاروبار کو بحال کرنے کے لئےمشروط بنیادوں پر باری باری تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی پالیسی بنائی گئی ہے ۔ سیاسی اعتبار سے دیکھا جائےتوہر فردکی شہرى آزادى اور انسانی حقوق پر مزيد قدغن لگ گئی ہے۔جابرانہ اور استحصالى نظام كى صورت حال پیدا ہوگئی ہے، ہروقت انسان کومشینى آلات كے گھیرے ميں رکھا جارہا ہے، جس كے ذريعے اسكى نقل وحركت پر نظر ركھی جارہی ہے، جمہورى لبادے ميں حكومتيں ڈكٹيٹرشپ كا مظاہره كررہی ہیںاور اب پچھلے ایک ہفتہ سے یہ ایک سازشی خبر یورپ اور امریکی ممالک میں ٹوئٹر پر تیزی سے گردش کررہی ہے کہ 21جون 2020 کو دنیا ختم ہوجائے گی۔
جی ہاں، امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ برطانوی میڈیا میں ٹوئٹر پر جاری ہونے والی افواہوںمیں کہا جا رہا ہے کہ قدیم مایا تہذیب کے کیلنڈر کے مطابق21جون کو قیامت آنے والی ہے۔قدیم مایا تہذیب کے رہ جانے والے ایک کیلینڈر میں 8 سال قبل جو دعویٰ کیا گیا تھا کہ 21 دسمبر 2012 کو قیامت آنے والی ہے، اس کا مطلب سال 2012 نہیں بلکہ 2020بتایا گیا ہے۔
نام نہاد سائنس دانوں کا یہ سازشی نظریہ ایک ایسے وقت میں دنیا میں پھیلا یاگیاہے جب کہ دنیا بھر میں کورونا کی وبا، زلزلے، سیلاب، ٹڈی دل کے حملے، نسلی تعصب کے خاتمے کے خلاف پرتشدد مظاہرے اور جابرانہ نظام کے خلاف اٹھنے والی آوازیںاوراسی طرح کے دیگر واقعات رونما ہو رہے ہیں۔کیا اس کا یہی مطلب نکالا جائےکہ جہاں کرونائی ہوا نے انسان کی موجودہ سائنسی و ٹیکنالوجیکل ترقی کی تیز رفتار دھار پر زنگ چڑھادی وہیں یہ انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کی زنگ آلودہ دھار میںبہہ کر خود اپنی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے اور اب دنیا میں پھیلائی ہوئی خطرناک کثافت کو پھر سے فروغ دینے کے لئے نت نئے حیلے اور بہانوں کو تراش رہا ہے تاکہ نیا نظام پرانے نظام کی جگہ لے لیں اور نئی خرابیاںپرانی خرابیوں کی جگہ پر آجائیں۔خیر کچھ بھی ہو ،آثار یہی نظر آرہے ہیں کہ مختلف ملکوں میں رسہ کشی،کشیدگی اور مقابلہ داری کی جو نئی لہر پیدا ہورہی ہے وہ کرونائی کثافت سے زیادہ زہر آلود ثابت ہوسکتی ہےکیونکہ اب وہ رواداری بھی باقی نہیں رہی ہے جس میں ایک فلاسفر کے نزدیک سب مذاہب سچے تھے،ایک مورخ کی نظر میں سب مذاہب جھوٹے تھے اور سیاسی مدبر کے نزدیک تمام مذاہب اس کی مطلب براری کے لئے یکسان تھے۔