پرویز احمد
سرینگر// صدر ہسپتال سرینگر میں پچھلے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے بلڈ بینک تقریباً غیر فعال ہے۔ بلڈ بینک تو کام کررہا ہے لیکن یہاں صرف خون کا عطیہ دیا جاسکتا ہے لیکن اس خون سے پلیٹ لیٹس،پلازمہ،خون کی سرخ اور سفید خلیاں نہیں بنائے جاسکتے کیونکہ اسکے لئے یہاں موجود مشین پچھلے ڈیڑھ سال سے ناکارہ ہے۔المیہ یہ ہے کہ ایسے نازک مریضوں کو پیلٹ لٹس، پلازمہ اورآر بی سی ڈبلیو بی سی کیلئے خون کا عطیہ کرنے والے ڈونروں کو سکمز یا پرائیویٹ ہسپتالوں میں لیجانے پڑتا ہے کیونکہ اس کیلئے صدر ہسپتال میںApheresis Machineخراب پڑی ہے۔ہر ایک بلڈ بینک یونٹ میںپلیٹ لیٹس، پلازمہ، آر بی سی اور ڈبلیو بی سی کو علیحدہ کرنے والی یہ اہم مشین ہے ۔وادی کے سب سے بڑے ہسپتال میں داخل مریضوں کی تعداد ایک وقت میں قریب 600سے زائد ہوتی ہے، جبکہ صدر ہسپتال میں مریضوں کے داخلہ کی گنجائش 800ہے۔اتنے بڑے ہسپتال میں Apheresis Machin ڈیڑھ سال تک خراب ہونے کے نتیجے میں وادی کشمیر کے علاوہ خطہ پیر پنچال اور چناب کے لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا یہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔
صدر ہسپتال انتہائی ایمرجنسی طبی مرکز کے طور پرکام کرتا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال یا نازک مریضوں کی فوری طبی امداد فراہم کرنے کا بنیادی طبی مرکز ہے۔لیکن اسی ہسپتال میں اتنی اہم بلڈ بینک کی مشین خراب ہونے کی بھنک بھی لگنے نہیں دی گئی ہے بلکہ ہسپتال انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مشین ٹھیک کرنے کرلئے صرف 15000 روپے کی ضرورت ہے، اور یہ معمولی رقم مشین کو ٹھیک کرنے کیلئے مہیا کرانا بڑی بات نہیں تھی لیکن انتظامیہ پچھلے ڈیڑھ سال سے سوئی ہوئی ہے اور یہ اقدام انکی طرف سے مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ صدر سپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نجی کمپنی کے ساتھ مفاہمت ہونے کی وجہ سے وہ اس مشین کو خود ٹھیک نہیں کرسکتے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر عندلیب بشیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ہم اس مشین کو خود ٹھیک نہیں کرسکتے کیونکہ گورنمنٹ میڈیکل کالج نے ٹی بی ایس نامی کمپنی سے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے ہیں، جن کی یہ فراہم کردہ مشین ہے ۔ڈاکٹر عندلیب نے کہا ’’ پچھلے ہفتے کمپنی کے ا نجینئر آئے تھے اور انہوں نے اس کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ مشین کا ایک حصہ خراب ہوگیا ہے اور انجینئروں کے مطابق اس کو تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ ہوگیا ہے لیکن وہ ابھی نہیں آئے ہیں۔ ڈاکٹر عندلیب نے بتایا کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کی رقومات ادا نہیں ہوئی ہے اور اس وجہ سے وہ کام بھی نہیں کررہے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ اصل میں سرکار نے رقومات ادا کرنے پر روک لگا دی ہے لیکن اب جی ایم سی ایڈمنسٹریٹر نے ترجیحات پر ان کی ایک ماہ کی رقومات ادا کرنے کافیصلہ کیا ہے اور اس کے بعد ہی مشین ٹھیک ہوجائے گی۔