اسد مرزا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’حالیہ انکشافات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کے دفتر اور گھر سے کچھ ایسے خفیہ دستاویزات برآمد ہوئے ہیں، جو ان کی تحویل میں نہیں ہونے چاہئے تھے اور یہ انکشاف ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکی صدر جوبائیڈن کے گھر اور دفتر سے برآمد ہونے والے خفیہ دستاویزات کا انکشاف ان کے لیے باعثِ … بن سکتا ہے۔ کیونکہ اس انکشاف کے بعد اب ان کے خلاف قانونی جانچ شروع کی جاسکتی ہے۔ اپنے دفاع میں بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ ان دستاویزات کی دریافت کے بارے میں جان کر’’حیران‘‘ ہیں۔ اس سے قبل،انھوں نے اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کو فلوریڈا رہائش گاہ میں خفیہ دستاویزات کو اپنی تحویل میں رکھنے کے لیے ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا تھا۔
دراصل یہ دستاویزات اس زمانے سے تعلق رکھتے ہیں جب صدر جو بائیڈن سابق صدر براک اوباما کے دورئہ اقتدار میں نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ اسی طرح ٹرمپ کے یہاں ملنے والے دستاویزات ان کے دورِ صدارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ امریکی قوانین کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی بائیڈن کی تحویل میں کوئی خفیہ دستاویزات ہونا چاہیے تھے۔ ہر انتظامیہ کے دستاویزات کو صدارتی عبوری دور کے دوران امریکی نیشنل آرکائیوز کی قانونی تحویل میں دے دیا جانا چاہیے۔
بائیڈن کا دردِ سر : تازہ ترین انکشافات صدر بائیڈن کے لیے دردِ سر بن سکتے ہیں۔ امریکی کانگریس اس انکشاف کی تفتیش کر سکتی ہے۔ حالیہ عرصے میں ایوانِ نمائندگان میں اپنی بڑھی ہوئی اکثریت سے وہ حوصلہ مند ہے،اور ایسا کوئی موقع وہ کھونا نہیں چاہتی جس سے کہ صدر بائیڈن کی مشکلات میں اضافہ ہو۔ کانگریس کے ریپبلکن ممبران پہلے ہی بائیڈن خاندان اور ان کے بیٹے ہنٹر کے مالی معاملات کی تحقیقات کے سلسلے کی تیاری کر رہے ہیں، کانگریس کے اسپیکر کیون میک کارتھی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کانگریس کو اس نئے انکشاف کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔
دریں اثناء، اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ اور قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ایورل ہینس کو ایوان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے اعلیٰ ترین ریپبلکن نمائندے مائیک ٹرنر کی طرف سے خطوط بھیجے گئے ہیں، جن میں تازہ ترین انکشافات پر 23؍ جنوری کو خفیہ بریفنگ کی درخواست کی گئی ہے۔دریں اثنا، امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے سابق ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک جانشین، صدر جو بائیڈن کے خفیہ ریکارڈز کے حوالے سے آزادانہ طور پر تفتیش کے لیے دو مختلف خصوصی مشیروں کو مقرر کیا ہے۔ٹرمپ کی تحقیقات کرنے کے لیے پراسیکیوٹر جیک اسمتھ اور سابق امریکی اٹارنی رابرٹ ہر کو گارلینڈ نے صدر جوبائیڈن کے معاملے کی تحقیقات کے لیے مقرر کیا ہے۔
بائیڈن اور ٹرمپ کے معاملات میں مماثلت : دراصل جان بوجھ کر خفیہ دستاویزات کو ہٹانا یا اپنے پاس رکھنا امریکی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے۔ کلاسیفائیڈ یعنی کہ خفیہ مواد کو صحیح طریقے سے ذخیرہ کرنے اور محفوظ کرنے میں ناکامی قومی سلامتی کے لیے خطرات کا باعث بھی بن سکتی ہے، اگر یہ دستاویزات غلط ہاتھوں میں چلے جائیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں مقدمات میں غیر واضح تضادات ہیں۔
ٹرمپ کے معاملے میں، ٹرمپ کے دفتر چھوڑنے کے بعد نیشنل آرکائیوز نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک کوشش کی کہ وہ اپنے پاس رکھے ہوئے تمام دستاویزات کی بازیابی کرائیں،لیکن اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ جب ٹرمپ نے بالآخر جنوری 2022 میں دستاویزات کے 15بکس واپس کیے تو آرکائیوز کے اہلکاروں نے دریافت کیا کہ ان میں خفیہ مواد موجود تھا۔
اس معاملے کو محکمہ انصاف کو بھیجا گیا تھا، جس نے گزشتہ سال مئی میں قانونی چارہ جوئی شروع کی تھی۔ اس کے بعد بھی تفتیش کاروں نے ٹرمپ کے گھر کی تلاشی لی، جہاں ان کے وکلاء نے مزید دستاویزات ان کے حوالے کیے اور کہا کہ اب ان کے پاس مزید دستاویزات نہیں ہیں، لیکن یہ بیان جھوٹا نکلا۔کیونکہ اس کے بعد اگست 2022 میں تلاشی کے وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے تیسری مرتبہ کی تلاشی میںایف بی آئی نے 13,000 اضافی دستاویزات برآمد کیے تھے، جن میں سے تقریباً 100 کو حساس نوعیت کے دستاویزات کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔
صدربائیڈن کے معاملے میں، گارلینڈ نے کہا کہ صدر کے وکلاء نے نومبر 2022 میں آرکائیوز اور محکمہ انصاف کو مطلع کیا تھا کہ انہوں نے اس مہینے کے شروع میں واشنگٹن ڈی سی میں پین بائیڈن سینٹر کے تھنک ٹینک کی الماری کے اندر درجن بھر سے کم خفیہ فائلیں دریافت کی تھیں۔دریافت کے بعد، وکلاء نے بائیڈن کے ولیمنگٹن اور ریہوبوتھ بیچ، ڈیلاویئر میں گھروں کی اضافی تلاشی جاری رکھی، جہاں دسمبر 2022 اور جنوری 2023 دونوں میں مزید دستاویزات برآمد ہوئیں، سبھی کو حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
بائیڈن اور ٹرمپ کے لیے قانونی خطرات : ان کی طرف سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو بائیڈن کے مقابلے میں کافی زیادہ پریشانیوں کا سامنا ہے۔ کیونکہ آج تک، محکمہ انصاف کی طرف سے کوئی ایسی معلومات نہیں دی گئی ہے کہ بائیڈن نے جان بوجھ کر ریکارڈ اپنے پاس رکھا یا حکومت کو واپس کرنے سے انکار کیا۔
نیز ، موجودہ صدر کی حیثیت سے ، بائیڈن کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنے کا امکان نہیں ہے۔ محکمہ انصاف نے اپنی دیرینہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے کہ موجودہ صدر پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
اسی پالیسی نے ٹرمپ کی اس وقت مدد کی تھی جب وہ صدر تھے اور اس وقت کے خصوصی مشیر رابرٹ مولر کے زیر تفتیش تھے۔ اس صورت میں، مولر نے اس بات کا تعین کرنے سے انکار کر دیاتھا کہ آیا ٹرمپ نے محکمہ کی پالیسی کی وجہ سے روس اور ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم کے درمیان ممکنہ تعلقات کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی تھی۔
تاہم، سیاسی نقطہ نظر سے، بائیڈن کے گھر اور دفتر سے خفیہ دستاویزات کی برآمدگی ،ان کے اور ان کی پارٹی کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ بائیڈن نے 2022 کا اختتام سال کے آخر میں ہونے والی کئی فتوحات کے ساتھ کیا، ان کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا جس کی بنا پر توقع ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں اعلان کریں گے کہ وہ 2024 میں دوسری مدت کے لیے صدارتی انتخابات میں امید وار رہیں گے۔دستاویزات کی برآمدگی ریپبلکن پارٹی کو آنے والے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران ان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے حملے کی ایک نئی لائن فراہم کرسکتی ہے اور ٹرمپ کے خلاف اس معاملے کو موڑنا ان کے لیے مزید مشکل بنا سکتا ہے، جو پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ صدر کے لیے ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کریں گے۔جبکہ اپنی طرف سے فی الوقت یہ اعلان کرنا بھی سیاسی طور پر غلط ہے۔ کیونکہ جب تک آپ اپنی پارٹی کے امیدوار کے طور پر پارٹی اراکین کی رضا مندی حاصل نہیں کرلیتے ہیں تب تک آپ اس کا اعلان نہیں کرسکتے ہیں، جیسا کہ ٹرمپ نے کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ انھیں اس بات کا بھی خمیازہ بھگتنا پڑے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمزدبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ رابطہ کے لیے: www.asadmirza.in)