پرویز احمد
سرینگر // صدر ہسپتال اور سپر سپیشلٹی ہسپتال شرین باغ میں روزانہ کی بنیاد پر علاج و معالجے کیلئے آنے والے 10ہزار سے زائد مریضوں میں سے درجنوں کو دو ہفتوں تک ایم آر آئی کیلئے مختلف ہسپتالوں کے چکر لگانے ہونگے اور انتہائی علیل اور ایمرجنسی مریضوں کو بھی ایم آر آئی کیلئے 10کلو میٹر دورمینٹل ہسپتال کاٹھی دروازہ اور بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال جانا ہوگا۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے منتظمین کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ صدر ہسپتال اور سپر سپشلٹی ہسپتال میں نصب ایم آر آئی مشینیں کی صفائی (De icing)کا کام جمعرات سے شروع ہوگا اور دو ہفتوں تک مریضوں کومینٹل ہسپتال کاٹھی دروازہ اور بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال برزلہ جانا ہوگا۔ صدر ہسپتال ، سپر سپشیلٹی ہسپتال شرین باغ اور دیگر کئی ہسپتالوں میں پچھلے کئی سال سے اہم مشینری خراب پڑی ہے۔ ان میں ایم آئی آر، ایکسرے ، ایس پی جی اور دیگر مشینیں شامل ہیں۔ بدھ کو میڈیکل کالج انتظامیہ نے صدر ہسپتال اور سپر سپشیلٹی میں ایم آئی آر مشینوں کی مرمت اور صفائی کیلئے 2ہفتوں تک ایم آر آئی بند کردیا ہے جس کی وجہ سے مریض نجی تشخیصی مراکز پر جاننے پر مجبور ہونگے۔دونوںہسپتالوں میں روزانہ 10ہزار سے زائد لوگ علاج و معالجہ کیلئے آتے ہیں جن میںٹریفک اور دیگر حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کے علاوہ حرکت قلب بند ہونے اور سٹروک کے بھی لوگ شامل ہوتے ہیں۔ایسے افراد کوایمرجنسی بنیادوں پر ایم آئی آر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن فی الحال صدر ہسپتال یا سپر سپشیلٹی میں یہ سہولیات بند ہونگیں۔پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر عفت حسن شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ایم آئی آر مشین کی De icing کرنا لازمی ہوگیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مشین کی صفائی پر انجینئروں نے زور دیا کیونکہ انتظار کرنا مریضوں کیلئے خطر ناک ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایمرجنسی مریضوں کیلئے سہولیات دستیاب رکھی ہیں اور ان کو ایمبولنس گاڑیوں میں مینٹل ہسپتال اور بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال منتقل کیا جائے گا اور ان کیلئے سہولیات دستیاب رکھی جائیں گی۔