او پی ڈی میںمریضوں کی قطاریں، ہزاروں مریض جراحیوں کے منتظر
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیرکو صحت کی دیکھ بھال کے اہم چیلنجوں کا سامنا ہے، جس میں ہر 3,500 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ دیہی علاقوں میںاس سے بھی شدید قلت ہے، جہاں پرائمری ہیلتھ سینٹرز میں 700 سے زیادہ ڈاکٹروں اور ماہرین کی کمی شامل ہے۔ طبی شعبہ میں پیشرفت کے باوجود، یہ خطہ بھیڑ بھرے ہسپتالوں، ناقص انفراسٹرکچر، اور دیہی مراکز میں آلات کی کمی کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔دیہی علاقوں میں بہت سے ذیلی مراکز اور پی ایچ سی میں ضروری سامان، بجلی، اور بعض اوقات ناکافی عمارتوں کی کمی ہے۔ڈاکٹروں، ماہرین(سرجن، اینستھیٹسٹ، پیڈیاٹریشنز) اور نرسوں کی شدید کمی ہے، کیمونٹی ہیلتھ سینٹروں میں 220 میں سے 104 اسپیشلسٹ کیا اسامیاں خالی ہیں۔سرینگر اور جموں میں ٹریشری نگہداشت کے ہسپتال ریفر مریضوںسے بھرے پڑے ہیں، جس کی وجہ سے ہسپتالوں کے وارڈوں میں ہجوم اور طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ڈاکٹر کی دستیابی: رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہر 2,461 افراد میں ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ایک صحت کی سہولت تقریباً 3,500 لوگوں پر محیط ہے۔ دیہی علاقوں میں ضروری افراد کے لیے خالی اسامیوں کی شرح زیادہ ہے NHM کے تحت ڈاکٹروں میں 19% کمی ہے۔وادی میں گذشتہ کئی دہائیوں کی طرح رواں سال بھی مریضوں کو علاج ومعالجے کیلئے گھنٹوں قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ جراحیوں کیلئے یہ انتظار کئی مہینوںپر محیط ہوتا ہے۔ اس تاخیر کی بڑی وجہ نہ صرف بنیادی ڈھانچی کی کمی اور صحت و طبی تعلیم کے اعلیٰ افسران کی عدم توجہی ہے بلکہ مریضوں کو نجی کلنکوں کی طرف دھکیلنے کیلئے جراحیوں میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے۔ موتیا بن،پائلز، ہرنیا ، پتہ کی پتھری جیسی جراحیوں کیلئے مریضوں کو کئی ماہ تک انتظار کرایا جارہا ہے جبکہ ہسپتالوں میں کام کرنے والے سینئر ڈاکٹر ہی ان جراحیوں کو اپنے نجی کلنکوں پر چند منٹوں کے اندر ہی انجام دیتے ہیں۔ محکمہ صحت و طبی تعلیم کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کوبنیادی ڈھانچے اور عملے کی کمی درپیش ہے لیکن جن شعبہ جات میں 50 فیصدسے زائد ڈاکٹر تعینات ہیں وہاں پر بھی مریضوں کو 3سے 8ماہ تک جراحیوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مذکورہ افسران کا کہنا ہے کہ جب تک سینئر ڈاکٹروں کی جواب طلبی نہیں ہوگی تب تک او پی ڈی رش اور جراحیوں کے منتظر لوگوں کی تعداد میں کمی نہیں آئے گی۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ وادی میں بھی 7اپریل 2026کو صحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے اور ہرسال کی طرح اس سال بھی عالمی ادارہ صحت نے شعبہ طب میں سائنس کی ایجادات اور تجربات کا بیماریوں کو دور کرنے میں اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ آج بھی وادی کے ٹریشری کیئر ہسپتالوں، ضلع اور سب ضلع ہسپتالوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اوپی ڈی میں اپنی باری کی منتظر نظر آتی ہے یا پھر جراحیوں کیلئے کئی مہینوں تک انتظار کرتے رہتے ہیں۔شعبہ صحت و طبی تعلیم حکام کا کہنا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہمارا بنیادی ڈھانچہ ، بہت کم ہے اور وہ اس بوجھ کیلئے کافی ہے۔