صحافت ایک عظیم اور ایک طرح سے پیغمبری پیشہ ہے کیونکہ یہ اطلاعات کی رسائی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ملک و ملت کے مظلوموں ،لاچاروں، بے بسوں اور بے زبانوں کی زبان بننا صحافت ہے۔صحافی سماج کا جُز ولاینفک ہو تا ہے ۔یہی صحافی قوم و ملت کی ترقی اور توقیر کے لئے رہنما خطوط کھینچ کے سماج کے سامنے رکھتا ہے اوران ہی خطوط پر پھر معاشرے کی تعمیرنو ہوتی ہے ۔حق پرست صحافیوں نے روزِ اول سے ہی مظلوموں کے حق میں اپنی آوز بُلند کی ہے ،جس کے بدلے میں چند کو تو اپنی عزیز جانوںسے ہی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔تاہم ہمارے یہاں ایسے صحافی بھی ہیں جن کا دن رات پروپگنڈوں میں گُزرتا ہے اور وہ اسی چاہ میں ہوتے ہیں کہ کس خبرسے کہاں دولت اکٹھی ہو سکتی ہے۔اُن کی صحافتی زندگی کا یہ مشن ہی ہوتا ہے کہ کب اور کیسے مظلوموں اور بے کسوںکو کچلا جائے ،حق و حقائق کو کب اور کیسے توڑمروڑ کے عوام کے سامنے لایا جائے ،غریبوں کی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر وہ’ وڈھیروں ‘کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاںبنے ہوتے ہیں ۔غرض وہ صحافتی اور صحافتی ادارے صحافت کے نام پر گالی ہوتے ہیں ۔
جب ہم ملکی میڈیا کی بات کرتے ہیں تو وہاں سوائے چند ایک میڈیا اداروں کے اکثر ملک و ملت کے لئے نقصان دہ ہی ثابت ہوئے ہیں۔بھلے ہی اُن کے شور و غل سے وقتی طور ملکی عوام کو لگتا ہو کہ یہ ملک کے خیر خواہ ہیں لیکن اصل میں وہ ملک و ملت کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں ۔ملکی میڈیا کا مشن ہی پروپگنڈا ہے۔ یہاں جب کسی کو گناہ گار ثابت کرنا ہو تو پہلے باضابطہ اسکا میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے ،یعنی give dog a bad name and akill him کے مصداق اسکو بُرے نام سے اتنا پکارا جاتا ہے، بھلے ہی وہ بے گناہ ہو لیکن اس کو گناہگار سمجھ کر سلاخوں ے پیچھے یا ملک بدر کیا جاتا ہے۔غریبوں اور لاچاروں پہ کیا گُزر رہی ہے ،اُن کو اسکی پروا ہ نہیں۔ کورونا مہاما ری میں کتنے مزدو ر ہزاروں میل پیدل سفر کر کے گھر کے قریب موت کے منہ میں چلے گئے ،اِن کو فکر نہیں ۔شعبہ صحت کی کیا حالت ہے ،کتنے مریض وینٹی لیٹر کی کمی کے سبب موت کے گھاٹ اُتر گئے ،یہ حکومت سے جواب طلبی سے قاصر ہیں۔ہسپتالوں میں مریضوں کا حال کیا ہے کسی کو پرواہ نہیں،بھوک مری کا کتنے لوگ شکار ہیں،تعلیم کے شعبہ کی حالت کیا ہے ،بے روز گاروں کی فوجیں تیار ہو رہی ہیں کسی کو کوئی فکر نہیں۔بس اگر ان کو پڑی ہے تو وہ مسلمانوں کی کہ وہ کیا کھاتے ہیں اور کب کھاتے ہیں ۔ تاہم ملکی سطح پہ چند صحافتی ادارے ہیں جو حقائق کو سامنے لاکے ملک سے خیر خواہی کا حق ادا کر رہے ہیں لیکن اُن کوبھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے ۔وہ چاہے حکومتوں کی طرف سے اُن کو ستانے کا عمل ہو یا مالی دشوراوں کا سامنا ہو یا دھمکیوں اور غنڈہ گردیوں کا شکار ہونا ہو۔
بہر حال یہ تو ملکی سطح کے میڈیا کی بات تھی اب ذرا ہم اپنی یو ٹی کے میڈیا کی خبر لیتے ہیں ۔یہاں تو ۵؍اگست کے بعد سے ہی میڈیا پر شدید قسم کی قدغن لگ گئی ہے ۔کسی کو بھی قومی و سیاسی مسائل کو اپنی اصل میں سامنے لانے کے لئے راستہ فراہم نہیں کیا جاتا ہے بلکہ قومی و سیاسی مسائل پر بولنا اور لکھنا اب یہاں ایک گناہ عظیم تسلیم کیا جا رہا ہے ۔یہاں کشمیر کی صحافت کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ یہاں نیم صحافیوں کی ایک فوج ابھرچکی ہے ۔جب سے انٹرنیٹ اور فیس بُک کا دور چلا ہے، ہر ایک گلی اورمحلے سے صحافی نکل رہے ہیں۔ صحافت کے اُصول و قواعد کیا ہیں، وہ کوئی نہیں جانتا ،بس سب اس بات میں مگن ہیں کہ کب یوٹیوب سے ہم پیسے کمانے شروع کر دیں اُس کے لئے بھلے ہی صحافت کی عصمت دری کیوں نہ ہو ۔یہاں چند یوٹیوب صحافی ایسے ہیںجو حقائق کو سامنے لانے کے دوران صحافتی اُصولوں کو بُری طرح پامال کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔سماجی مسائل توہیں ،کالی بھیڑیں بھی ہمارے سماج میں ہیں ،گناہ بھی بہت زیادہ ہیں ،رشورت اور اقرباء پروری بھی عروج پر ہے ،لیکن اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ کوئی صحافی صحافتی اُصولوں کی مٹی پلید کر کے سماج کا ہمدرد بننے کی کوشش کرتا پھرے ۔بلکہ سماج کے حساس طبقے کو اس طرح کے صحافیوں کی قبیح حرکات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور حکومت کو بھی اس طرح کی قبیح حرکات کے مرتکب صحافیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہئے۔ایک صحافی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حقائق سامنے لائے ،کسی سے بھی سوال پوچھے ،کسی بھی جگہ جائے ،سماج میںپھیلی بُرائیوں کو عوام کے سامنے لائے ،کرپشن اور دیگر مسائل کو بھی ارباب حل و عقد کے سامنے لائے مگر ایک صحافی کو یہ حق کسی بھی صورت میںنہیں ہے کہ کسی انسان کے ساتھ صحافتی اُصولوں کی عصمت دری کر کے اس کو اور اس کے سارے خاندان کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے ،یہ انتہائی گھناونی حرکت تسلیم کی جائے گی ۔لیکن افسوس یہاں کشمیر میں آئے روز نت نئے واقعات رونما ہو رہے ہیں ،بلکہ ہر ایک معاملے میں مختلف قسم کی عصمت دریاں ارباب حل و عقد اور دیگر عام عوام کے ذریعے بھی رونما ہو رہی ہیں ۔تاہم صحافت کی عصمت دری تب ہوتی ہے جب ہم کسی ملزم یا گناہگار سے اسکو گناہ سے تائب ہونے کا موقعہ نہ د ے کراسکے لئے با عزت زندگی جینے کے سارے راستے بند کر دیتے ہیں۔حقائق کو سامنے لانے میں پس وپیش کریں ،کسی بھی واقعہ سے متعلق جانبداری کا مظاہرہ کریں ،بے زبانوں کی آواز نہ بنیں ،حق کو نیچا اور باطل کوا ونچا دکھانے کی کوشش کریں ،مظلوم کے خلاف اور ظالم کے حق میں اسٹوری بنائیں تو اسکو ہم صحافت کی عصمت دری ہی کہیں گے ۔
بلاشبہ صحافت معاشرے کو صحیح راہ دکھاتی ہے لیکن اس طرح کی صحافت سے اس گناہ گار کے ساتھ ساتھ اس کے سارے گھر والے ،خاندان ،بہو اور بیٹیو ں کی عزت بھی دائو پر لگ جاتی ہے ۔۔۔یہاں تک کہ اس گھر کی بچیوں اور بہنوں کے نکاح میں بھی اس قسم کی صحافت سے سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ضرورت اس صحافت کی ہے جس میں کسی کی کردار کشی نہ ہو ۔کیا اگر کسی گناہ گار کی عزت اچھالنے سے اُس کے سارے خاندان کی عزت دائو پر لگ جاتی ہے اور پھر وہی لوگ اُس صحافی پر کسی قسم کا حملہ یا کارروئی کرتے ہیں تو کس کو ہم گناہ گار ٹھہرائیں گے ؟ضرورت اس بات کی ہے جو کوئی بھی ہم میں سے یوٹیوب اور فیس بُک پر یا اور کسی صحافتی ادارے میں کام کرنا چاہتا ہے تو اُنہیں چاہئے کہ کم سے کم صحافتی اُصولوں کا مطالعہ ضرور کریں تاکہ ہمارے سماج میں خامیوں اور بُرائیوں کا بر وقت اور احسن طریقے سے سد باب ہو سکے ۔اور یہاں کے سینئر صحافیوں اور اداروں کو چاہئے کہ وہ نئے اور اُبھرتے ہوئے صحافیوں کے لئے کبھی کبھی ورکشاپس کا اہتمام کریں اور وہاں اُن کو صحافت کے اُصولوں سے روشناس کرائیں تا کہ یہاں کی صحافت بھی حقائق کو سامنے لانے کے دوران صحافتی اُصول مدنظر رکھ کے سماج میں بُرائیوں کا خاتمہ کریں تاکہ ایک کامل سماج کی تعمیر یقینی بن سکے ۔