یو این آئی
ممبئی//امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور روپے پر جاری دبا کے باعث گھریلو شیئر بازاروں میں منگل کو بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں اہم اشاریے تقریبا دو فیصد تک نیچے آ گئے۔بی ایس ای کا سینسیکس 1,456.04پوائنٹس یعنی 1.92 فیصد گر کر 74,559.24 پوائنٹس پر بند ہوا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی-50 اشاریہ بھی 436.30 پوائنٹس یعنی 1.83 فیصد گر کر 23,379.55 پوائنٹس پر بند ہوا۔یہ دونوں اہم اشاریوں کی پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔ شیئر بازاروں میں مسلسل چوتھے دن گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
خاص طور پر اس ہفتے کے ابتدائی دو دنوں میں بازار میں زبردست فروخت کا رجحان رہا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، جس کے باعث بیرونی ممالک کے بیشتر اہم بازار بھی دبا میں آ گئے۔اس کے علاوہ روپے کی قدر آج تاریخی کم ترین سطح تک گرنے سے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑا ہے۔ پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قیمت 95.50 روپے سے تجاوز کر گئی، جبکہ فی الحال یہ 95.63 روپے فی ڈالر پر ہے۔ہر طرف فروخت کے دبا کے درمیان درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں کے شیئروں پر زیادہ اثر پڑا۔ وسیع بازار میں نفٹی مڈ کیپ-50اشاریہ 2.43فیصد اور اسمال کیپ-100 اشاریہ 3.17فیصد گر گیا۔تمام شعبے دبا میں رہے۔ رئیلٹی سیکٹر کا اشاریہ چار فیصد سے زیادہ گر گیا۔ آئی ٹی سیکٹر میں تقریبا 3.75 فیصد اور پائیدار صارف مصنوعات کے شعبے میں ساڑھے تین فیصد سے زیادہ کی گراوٹ دیکھی گئی۔ آٹو، میڈیا، کیمیکل، فنانس، بینکنگ، ایف ایم سی جی، فارما اور ہیلتھ سیکٹروں کے اشاریوں میں بھی ایک فیصد سے زیادہ کمی درج کی گئی۔سینسیکس میں شامل کمپنیوں میں ٹیک مہندرا اور اڈانی پورٹس کے شیئر تقریبا ساڑھے چار فیصد گر گئے۔