عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//حکام نے پیر کے روز وادی کے ان حصوں میں لوگوں کی نقل و حرکت پر جزوی پابندیاں عائد کر دیں جہاں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف سڑکوں پر زبردست مظاہرے دیکھنے میں آئے۔حکام نے بتایا کہ لال چوک پر واقع گھنٹہ گھر کے ارد گرد رکاوٹیں لگا ئی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے اجتماع کو روکنے کے لیے شہر بھر میں پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا ۔تاہم جزوی بندشوں کی وجہ سے لوگوں کے آنے جانے پر کوئی قدغن نہیں تھی۔پرائیویٹ ٹرانسپورٹ چلتا رہا اور کئی روٹوں پر چھوٹی مسافر گاڑیاں بھی دیکھی گئیں۔حکام نے کہا کہ یہ جزوی پابندیاں امن و امانبرقرار رکھنے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر لگائی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ شہر کی طرف جانے والے اہم چوراہوں پر مرتکز تاریں اور رکاوٹیں لگائی گئی ہیں۔وادی کے دیگر اضلاع میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی طرح کی جزوی پابندیاں عائد کی گئیں ۔موجودہ صورتحا ل کے نتیجے میں سکول ، کالج اور یونیورسٹیزپہلے ہی دو دن کیلئے بند کئے گئے تھے۔حکام نے پیر کی شام کہا کہ وادی کے کچھ حصوں میں مظاہروں کی اطلاع کے پیش نظر احتیاطی اقدام کے طور پر منگل کو کشمیر کے تمام اضلاع میں پابندیاں برقرار رہیں گی۔سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر موجود سیکورٹی عہدیداروں نے نیوز ایجنسی کشمیر نیوز کارنر کو بتایا کہ یہ فیصلہ امن عامہ کی حفاظت اور موجودہ صورتحال کے درمیان کسی بھی ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لئے کیا گیا ہے۔