مقامی مسجد شریف کو شدید نقصان ، 4 مظاہرین کو پیلٹ لگے، ضلع شوپیان اور پلوامہ میں انٹر نیٹ بند
شوپیان+ترال// پہاڑی ضلع شوپیان ٹائون اور نئی بگ ترال گائوں میں خونریز معرکہ آرائیوں کے دوران7جنگجو جاں بحق ہوئے جن میں انصار الاغزوۃ الہند کا چیف کمانڈر شامل ہے۔مہلوک جنگجوئوں میں سے4کا تعلق ترال سے اور3شوپیان سے تعلق رکھتے تھے۔ مسلح تصادم آرائی میں میجر سمیت فوج کے 5اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پر تشدد مظاہروں کے دوران 4نوجوان پیلٹ لگنے سے مضروب ہوئے۔اس دوران ایک مقامی مسجد شریف کو شدید نقصان پہنچا۔ضلع شوپیان اور پلوامہ میں جمعرات شام سے ہی موبائل انٹر نیٹ سروس بند کردی گئی۔ مہلوک جنگجوئوں میں سے ایک کے دو بھائی اور ایک کا بھائی پہلے بھی جھڑپوں میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
شوپیان مسلح تصادم آرائی
جانہ محلہ شوپیان ٹائون میں رات بھر رک رک کر فائرنگ ہونے کے بعد طرفین کے درمیان جمعہ کی صبح قریب ساڑھے 11بجے مزید 2جنگجوجاں بحق ہونے کے بعد جھڑپ ختم ہوئی ۔اسکے بعد تلاشی کارروائی دن کے ڈیڑھ بجے تک جاری رہی اور بعد میں محاصرہ اٹھایا گیا۔جانہ محلہ کی مقامی مسجد میں دو جنگجو جبکہ 3 جمعرات کی شب ہی احاطے میں جاں بحق ہوئے تھے۔مقامی لوگوں کے مطابق جنگجوئوں نے جانہ محلہ مسجد میں پناہ لی تھی اور رات بھر سیکورٹی فورسز نے انکے اہل خانہ، مقامی مسجد امام اور مسجد کمیٹی کے دیگر لوگوں کو جنگجوئوں کیساتھ بات کرنے کیلئے بھیجا لیکن جنگجوئوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔انہیں بار بار سرنڈر کرنے کی پیش کش کی گئی لیکن وہ نہیں مانے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد میں موجود جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران مسجد پر مارٹر گولے داغے گئے اور گرینیڈ بھی چلائے گئے جس سے مسجد کی دوسری منزل کو شدید نقصان پہنچا جبکہ پہلی منزل کو بھی اچھا خاصا نقصان ہوا۔سیکورٹی فورسز نے آپریشن مکمل ہونے کے بعد مسجد کی مرمت بھی کرنے کی کوشش کی۔مسلح تصادم آرائی میں میجر اور دیگر 4فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔یاد رہے کہ مصدقہ اطلاع ملنے پر پولیس نے ؤجمعرات کوجان محلہ بستی میں 5سے زائد جنگجوئوں کی موجود گی پر 44آر آر اور 14بٹالین سی آر پی ایف کے علاوہ پولیس کے خصوصی دستوں کی خدمات حاصل کی تھیں اور بستی کو دن کے ڈیڑھ بجے محاصرے میں لیاتھا۔ ناکہ بندی کرنے کے بعد گھر گھر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا گیا اور سہ پہر3بجکر 45منٹ پر طرفین کے درمیان فائرنگ شروع ہوئی۔ کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے دوران 3فوجی اہلکار زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت نازک ہے جنہیں سرینگر بادامی باغ اسپتال منتقل کردیا گیا۔ انکی شناخت سپاہی رام دیو گجر،سپاہی دورگ سنگھ اورسپاہی راجکمار شامل ہیں۔رات کے قریب سوا 8بجے جائے وقوع پر زوردار دھاکوں اور شدید فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا اور پولیس نے اپنے آفیشل ٹیوٹر ہینڈل پر 3جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔پولیس نے ٹویٹ میں کہا ’’ مسلح جھڑپ کے دوران ابھی تک 3جنگجو جاں بحق ہوگئے ہیں اور آپریشن جاری ہے‘‘۔پولیس نے ایک اور ٹویٹ میں کہا’’ انصارغزوۃ الہند کا چیف کمانڈر امتیاز احمد محصور ہے‘‘۔رات سوا آٹھ بجے کے بعد رک رک کر فائرنگ ہوتی رہی۔سیکورٹی فورسز نے تلاشی کارروائی جاری رکھی اور علاقے میں روشنی کا انتظام کر کے آپریشن جمعہ کی صبح تک ملتوی کیا ۔ آپریشن شروع ہوتے ہی انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار اورجی او سی وکٹر فورس اونتی پورہ یہاں پہنچ گئے جنہوں نے آپریشن کی نگرانی کی۔جمعہ کی صبح قریب پونے 8بجے دوبارہ آپریشن کیا گیا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور ساڑھے 11بجے مزید 2جنگجو جاں بحق جبکہ میجر ساکت اور ایک فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔
جنگجوئوں کی شناخت
شوپیان میں جاں بحق 5جنگجوئوں کی شناخت کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے ایک کے 2بھائی پہلے بھی جاں بحق ہوچکے ہیں۔20مارچ 2021کو جنگجوئوں کی صف میں شامل ہونے والے گیارہویں جماعت میں زیر تعلیم17سالہ کاشف بشیر میر ولد بشیر احمد میر ساکن ڈاڈسرہ ترال کی بھی شناخت ہوئی ہے۔کاشف نے محض 18روز قبل ہتھیار اٹھائے تھے۔اس سے قبل اسکا بڑا بھائی نعیم احمد عرف شجاع 14اکتوبر 2010میں لرو جاگیر ترال میں جاں بحق ہوا جبکہ ددوسرا بھائی عادل بشیر19جون 2014میں بوچھو ترال میں اپنے ساتھی کے ہمراہ جاں بحق ہوا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ برہان وانی کے رشتہ دار ہیں۔اسکے علاوہ شوپیان میں جاں بحق دوسرے جنگجو کی شناخت یونس احمد کھانڈے ولد غلام محمد کھانڈے ساکن رٹھسونہ ترال کے بطور ہوئی ہے جس نے 17نومبر 2020 میں ہتھیار اٹھائے تھے۔تیسرے جنگجو کی شناخت باسط احمد بخشی ولد محمد اسمائیل ساکن رام نگری کے بطور ہوئی جو 11جون 2020 کو سرگرم ہوا تھا۔چوتھا جنگجومزمل منظور تانترے ولد منظور احمد ساکن رام نگری ہے جو15اگست 2019 سے سرگرم تھا۔ یہ مقامی کمانڈر بھی تھا اور ڈیڑھ سال سے زیادہ سرگرم رہا۔پانچویں جنگجو کی شناخت عادل احمد لون ولد محمد یعقوب لون ساکن کھاسی پورہ شوپیان کے بطور ہوئی جو11جولائی 2019 سے سرگرم رہا۔ یہ جنگجو بھی دیرینہ جنگجوئوں میں شمار ہوتا تھا۔
پر تشدد جھڑپیں
جانہ محلہ بستی میں مسلح معرکہ آرائی کے دوران پر تشدد جھڑپوں میں 4مظاہرین زخمی ہوئے۔جمعرات کی سہ پہر قصبہ میں کم سے کم 5مقامات پر پر تشدد جھڑپوں کا آغاز ہوا تھاجو رات گئے تک جاری تھیں۔مشتعل نوجوانوں نے گول چوک ،جامع مسجد کراسنگ، اسپتال روڑ، بٹہ پورہ اور بونہ بازار علاقوں میں جم کر پتھرائو کیا اور فورسز نے نہ صرف شلنگ کی بلکہ پیلٹ کا استعمال بھی کیا۔فورسز کی جانب سے پتھرائو پر بضد رہنے والے مظاہرین پر پیلٹ کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں 4نوجوان شدید مضروب ہوئے اور انکی آنکھوں پر پیلٹ لگے۔ انہیں پہلے ضلع اسپتال شوپیان لیا گیا لیکن بعد میں 2کو سرینگر منتقل کیا گیا۔دونوں کی ایک ایک آنکھ میں پیلت لگے ہیں ۔یاد رہے کہ اس علاقے میں تین سال قبل 2018 میں اسی طرح کے ایک انکاؤنٹر میں دو عسکریت پسند جاں بحق ہوئے تھے، جن میں غیر ملکی سرکردہ کمانڈر منا بہاری شامل تھا۔شوپیان میں جمعہ کوبھی کاروباری و تجارتی سرگرمیاں مفلوج رہیں۔
ترال انکوانٹر
پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیںنئی بگ ترال کے مضافات میں دھان کے کھیت میں زیر زمین ہائیڈ اوٹ کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی جس کے بعدجمعرات سہ پہر چار بجے سے ساڑھے چھ بجے تک یہاں محاصرہ کیا گیا اور جب کمین گاہ کا اتہ پتہ نہیں چلا تو 42آر آر، 180بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس اہلکار واپس چلے گئے۔ لیکن درمیانی شب انہیں کمین گاہ کی موجودگی کا علم ہوا جس کے فوراً بعد دوبارہ اسی جگہ محاصرہ کیا گیا اور کھلے دھان کے کھیت کا چپہ چپہ چھان مارا گیا۔ اس دوران ایک جگہ لکڑیوں کے انبار کے قریب ہائیڈ اوٹ کی موجودگی ظاہر ہوئی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان صبح سات بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اس دوران کمین گاہ تباہ کی گئی جہاں سے بعد میں دو جنگجوئوں کی لاشیں بر آمد ہوئیں۔ بعد میں بعد دوپہر 2بجے محاصرہ ختم کیا گیا۔مہلوکیںکی شناخت برہان احمد کوکہ ولد غلام نبی کوکہ ساکن میلہورہ زینہ پورہ شوپیان اورامتیاز احمد شاہ ولدعبدالاحد شاہ ساکن رٹھسونہ ترال کے بطور ہوئی۔امتیاز احمد شاہ19اپریل 2019 سے سرگرم تھا اور بقول پولیس وہ انصار الاغزوۃ الہند کا چیف کمانڈر تھا۔مذکورہ کا ایک بڑا بھائی عادل احمد شاہ عرف عادل پیر2014میں بوچھو ترال میں معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہوا تھا۔ترال میں جنگجوئوں کی ہلاکت کیساتھ ہی کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں اور گاریوں کی آمد و رفت میں بھی خلل پڑا۔