عظمیٰ نیوز سروس
جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو بتایا کہ صحت شعبے میں اہم خامیوں کو دور کرنے کیلئے محکمہ موجودہ صحت سہولیات کو آئی پی ایچ ایس 2022معیارات کے مطابق مضبوط بنانے اور ٹیلی میڈیسن خدمات (ای۔سنجیونی)کے ذریعے رسائی بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ عام لوگوں کو بہتر معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔انہوںنے ان باتوں کا اِظہار قانون ساز اسمبلی میں رکن اسمبلی ڈاکٹر بشیر احمد شاہ ویری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا۔
وزیر موصوفہ نے بتایا کہ سری گفوارہ۔بجبہاڑہ حلقہ میں چار میڈیکل بلاک ہیں جن میںکیموہ اور یاری پورہ سی ایم اوکولگام کے دائرہ اختیار میں جبکہ بجبہاڑہ اور سلر سی ایم او اننت ناگ کے دائرہ اختیار میںہیںجو اِس علاقے میں طبی خدمات کی نگرانی کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان چاروں میڈیکل بلاکوں کے تحت مختلف زمروں کے 24 صحت مراکز جیسے پی ایچ سیز، این ٹی پی ایچ سیز اور سب سینٹرز فعال ہیں۔وزیرصحت و طبی تعلیم نے مزید کہا کہ فی الحال محکمہ کے پاس سری گفوارہ۔بجبہاڑہ میڈیکل بلاکوں کو حلقہ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میڈیکل بلاکوں کا قیام اِداروں کی تعداد، آبادی کی کثافت، جغرافیائی حالات اور رسائی کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے معیار کے مطابق کیا گیا ہے۔انہوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ بجبہاڑہ میں قائم 110بستروں پر مشتمل جدید ٹراما ہسپتال میں بی گریڈ کنسلٹنٹ کی 8 اسامیاں منظور شدہ ہیں جن میں سے 4 ماہرین تعینات ہیں جبکہ میڈیکل افسران کی 2 منظور شدہ اسامیاں بھی پر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیرا میڈیکل عملے کی 24 منظور شدہ اسامیوں میں سے 11 پر تقرری ہو چکی ہے۔وزیر سکینہ اِیتو نے مزید کہا کہ خالی اسامیوں کو پر کرنے اور ہسپتال کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لئے محکمہ پہلے ہی 480 میڈیکل افسران کی اسامیوں کو جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کو اشتہار اور تقرری کے لئے بھیج چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 802 نان گزیٹیڈ اسامیوں جن میں پیرا میڈیکل عملہ بھی شامل ہے، کو بھرتی کے لئے جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کو بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجبہاڑہ ٹراما ہسپتال کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنانے کے لئے مسلسل اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو مثر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔