جموں//رساجاودانی صرف کشمیری اوراُردو کے قدآورشاعرہی نہیں تھے بلکہ ایک سیکولر اورنیک شخصیت کے مالک بھی تھے۔ رساجاودانی کورسول میرکے بعدکشمیری زبان کاسب سے عظیم شاعرتسلیم کیاجاتاہے جنھوں نے اپنی شاعری میں زندگی کے حقائق کوبیان کرنے کے ساتھ ساتھ پیارومحبت ،بھائی چارے ،قومی یکجہتی اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کاپیغام دیا۔ ان خیالا ت کااظہاروائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر ایم۔کے دھرنے شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی اور رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی جموں کے اشتراک سے پروفیسرگیان چندجین سیمی نارہال میں منعقدہ یوم ِ رسا تقریب کے دوران کیا۔ناموراُردو شاعر اوررساجاودانی کے قریبی ساتھی عرش صہبائی نے پروگرام کی صدارت کی جبکہ نامورتاریخ دان اسیر کشتواڑمہمان ذی وقارتھے۔ شاندارالفاظ میںخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے عرش صہبائی نے عظیم شاعررساجاودانی کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کے دنوں کویادکیا۔انہوں نے کہاکہ رساجاودانی کواُردوشاعری پرمکمل دسترس تھی ۔عرش نے مزیدکہاکہ رساجاودانی دلی طورپرایک سیکولرشخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے کہاکہ رساجاودانی کی شاعری سے امن،بھائی چارے اورقومی یکجہتی کادرس ملتاہے جوکہ موجودہ وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ رساجاودانی کی شاعری کونوجوان نسل میں عام کیاجاناچاہیئے ۔عرش صہبائی نے کہاکہ کشمیری زبان میں رساجاودانی اکلوتے شاعرہیں جنھوں نے حقیقی معنوں میں غزل کوصحیح سمت دی۔اپنی کشمیری شاعری کی وجہ سے رساجاودانی صوبہ جموں کے کشمیری زبان بولنے والوں ہی نہیں بلکہ کشمیرمیں بھی مقبولیت رکھتے ہیں۔اسیرکشتواڑی نے اپنے خطاب میں اپنے ڈگری کالج بھدرواہ کے اُن دنوں کویادکیاجب وہ وادی کشمیری کے مختلف حصوں میں منعقدہ ہونے والے مشاعروں میںرساجاودانی کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ رساجاودانی ایک نہایت ہی شریف اورملنسارشخص تھے۔یومِ رساکی تقریب کے دوران توجہ کامرکز ریاست کے غزل گوگلوکاروں مثلاً جسمیت کور،روی ٹھاکوراورماجدلطیف کی طرف سے کمپوزکردہ رساجاودانی کی غزلیں رہیں جنھیں شرکاءنے خوب سراہا۔ اس دوران نیرج ورما اورمحمداسحاق طبلے جبکہ گوری شنکرہارمونیم پرتھے۔قبل ازیں استقبالیہ خطاب میں صدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی،ڈین فیکلٹی آف آرٹس اورصدررساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی پروفیسرشہاب عنایت ملک نے رساجاودانی کی حیات اورادبی خدمات پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ رساجاودانی کاجنم 1901 میں بھدرواہ میں ہوااورانہوں نے کشمیری شاعری سکول کے دنوں سے ہی شروع کردی تھی ۔رسانے اُردواورکشمیری میں شاندارشاعری کرکے برصغیرمیں خوب پذیرائی اورمقبولیت حاصل کی۔کلیاتِ رساکورساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی نے دوبرس پہلے ہی شائع کیاہے جسے تنویرابن رسا،بشیربھدرواہی اوراسیرکشتواڑی نے مرتب کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ کلیات رساکواُردواورکشمیری ادبی حلقوں میں بڑے پیمانے پرپذائی حاصل ہوئی اوررساجاودانی وادی کشمیرمیں غلام نبی ڈولوال کی گائی ہوئی غزلوں کی وجہ سے ایک برانڈ کی حیثیت اختیارکرگیاہے کیونکہ رساکی شاعری میں حب الوطنی،بھائی چارے اورامن ومحبت کاپیغام ہے ۔یومِ رساتقریب میں کثیرتعدادمیں طلبا،اسکالرس اورمعززشہریوں نے شرکت کی۔ اس دوران نظامت کے فرائض ڈاکٹرمحمدریاض احمدنے انجام دیئے جبکہ شکریہ کی تحریک ڈاکٹرعبدالرشیدمنہاس نے انجام دیئے ۔اس موقعہ پر ڈاکٹرچمن لال اورڈاکٹرفرحت شمیم بھی موجودتھے۔