عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کل نے کہا ہے کہ “صرف پابندی عائد کرنے سے شراب نوشی نہیں رکے گی کیونکہ عادی لوگ یونین ٹیریٹری کے باہر سے بھی شراب حاصل کر سکتے ہیں۔”انہوں نے کہا: ’’میں خود شراب نہیں پیتا، لیکن جو لوگ پیتے ہیں وہ اسے چھوڑنے والے نہیں۔ اگر یہاں نہیں ملے گی تو باہر سے لے آئیں گے۔ پھر ہم کیا کریں گے؟ جو لوگ آواز اٹھا رہے ہیں، ان سے پوچھیں کہ شراب کون پی رہا ہے؟‘‘۔انہوں نے بغیر نام لیے سابق پی ڈی پی – بی جے پی مخلوط حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ “اْن ہی کے دور میں دیہی علاقوں تک شراب کی دکانیں پھیلائی گئیں۔”فاروق عبداللہ نے کہا: ’’2024 میں ہماری حکومت قائم ہونے کے بعد ہم نے شراب کی کوئی دکان نہیں کھولی۔ جب ہر گاؤں میں یہ دکانیں کھل رہی تھیں تب آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی؟ ان کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں، اس لیے صرف تنقید کر رہے ہیں۔‘‘
سرینگر میں پارٹی دفتر میں خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے 1977 میں سابق وزیر اعظم مورارجی دیسائی اور ان کے والد اور سابق وزیر اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کا حوالہ بھی دیا۔انہوں نے کہا’ ’مرارجی دیسائی شراب کے خلاف تھے۔ انہوں نے میرے والد سے شراب پر پابندی لگانے کو کہا۔ میرے والد نے جواب دیا کہ وہ خود شراب نہیں پیتے، لیکن اگر مرکزی حکومت اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ہمیں دے دے تو ہم پابندی لگا دیں گے۔ آج بھی اگر ہندوستانی حکومت اس آمدنی میں مدد کرے تو مجھے یقین ہے کہ حکومت دو منٹ میں شراب بند کر دے گی۔‘‘ فاروق عبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے قوم کے نام حالیہ خطاب سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر موجودہ جنگی صورتحال طول پکڑتی ہے تو ہمارا ملک توانائی کے سنگین بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ’’گھر سے کام‘‘ کرنے کی اپیل موجودہ حالات کے تناظر میں ایک حقیقت پسندانہ قدم ہے، تاہم اسکولوں میں آن لائن تعلیم کے فروغ سے بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔