رمیش کیسر
نوشہرہ//خطہ نوشہرہ اس وقت شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہے جس کے باعث کئی دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ گرمی کی شدت میں مسلسل اضافے کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے، جس سے ہزاروں مقامی باشندوں کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کی عدم دستیابی نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق نوشہرہ سب ڈویژن کے سیری، گگروٹ، سیال، منگیوٹ، کلائی، دباد اور دیگر کئی دیہاتوں میں پینے کے پانی کی سپلائی میں مسلسل خلل آ رہا ہے۔ مقامی باشندوں نے شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ شدید گرمی کے باوجود محکمہ جل شکتی کی جانب سے پانی کی باقاعدہ فراہمی نہیں کی جا رہی، جس کی وجہ سے لوگ پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گرمی کی موجودہ لہر کے دوران پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، لیکن محکمہ کی جانب سے سپلائی کا نظام انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ بعض دیہات میں صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے قدرتی چشموں، ندی نالوں اور دیگر روایتی ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ ذرائع نہ صرف دور دراز مقامات پر واقع ہیں بلکہ بعض اوقات ان کا پانی صحت کے لیے بھی موزوں نہیں ہوتا۔مقامی شہریوں نے الزام لگایا کہ محکمہ جل شکتی کے اہلکار وقت پر پانی فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک بھرے ہوئے موجود ہیں، اس کے باوجود پانی کی سپلائی مہینے میں صرف دو یا تین مرتبہ کی جاتی ہے، جو عوامی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں اس قسم کی غفلت عوام کو مزید مشکلات میں دھکیل رہی ہے۔شہریوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ محکمہ عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے حکومت سے بھاری فنڈز حاصل کرتا ہے، لیکن زمینی سطح پر اس کے نتائج نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق ہر سال نئے پائپ، موٹرز اور پمپ نصب کرنے اور نظام کو بہتر بنانے کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، مگر دیہی علاقوں میں پانی کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقم مؤثر انداز میں استعمال کی جاتی تو آج عوام کو اس سنگین بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔عوام نے مزید کہا کہ پانی کی غیر یقینی فراہمی کے باعث خواتین، بزرگوں اور بچوں کو سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ گھریلو استعمال، پینے، صفائی ستھرائی اور مویشیوں کے لیے پانی کا انتظام کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے دنوں میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔متاثرہ دیہات کے مکینوں نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ جل شکتی کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر مؤثر اقدامات کرتے ہوئے پانی کی باقاعدہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موسم گرما کے دوران کم از کم ہفتے میں دو سے تین مرتبہ ہر گاؤں میں پینے کے پانی کی سپلائی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر محکمہ جل شکتی کے ایگزیکٹیو انجینئر نے بتایا کہ محکمہ عوام کو پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملے کی جانب سے کسی قسم کی جان بوجھ کر غفلت نہیں برتی جاتی اور اگر کہیں مسائل سامنے آتے ہیں تو انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ متعلقہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری ہیں اور محکمہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ ہر گاؤں تک پینے کا پانی باقاعدگی سے پہنچ سکے۔