یو این ایس
سرینگر//کشمیر میں جاری شدید سردی کی لہر کے باعث بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کو وادی کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں طویل کٹوتیاں نافذ کرنا پڑی ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں بجلی کی کٹوتی 4.5 گھنٹے سے لے کر 6 گھنٹے یومیہ تک ہو رہی ہے، جس کا انحصار متعلقہ علاقوں میں لائن لاسز پر ہے۔ کے پی ڈی سی ایل کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ جن علاقوں میں مجموعی تکنیکی و تجارتی نقصانات 40 فیصد سے زیادہ ہیں، وہاں 6 گھنٹے کی کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ 15 سے 40 فیصد نقصانات والے علاقوں میں 4.5 گھنٹے تک بجلی بند رکھی جا رہی ہے۔البتہ عہدیدار نے واضح کیا کہ کشمیر بھر میں 83 فیڈرز ایسے ہیں جنہیں کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہاں مکمل میٹرنگ موجود ہے اور مجموعی تکنیکی و تجارتی نقصانات نقصانات صفر سے 15 فیصد کے درمیان ہیں۔انہوں نے کہا’’ان فیڈرز پر کسی قسم کی کٹوتی نافذ نہیں کی گئی۔ یہ نیا شیڈول محکمہ بجلی کی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔سخت موسمی حالات کے باعث بجلی کی طلب میں اضافہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ حکام کے مطابق کشمیر میں بجلی کی طلب 2400 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ موجودہ ترسیلی و تقسیم کاری نظام صرف 1800 سے 1900 میگاواٹ تک بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ صارفین کے منظور شدہ لوڈ معاہدے اصل استعمال کے مقابلے میں بہت کم ہیں، جس سے نظام پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ طلب اور رسد کے اس بڑھتے ہوئے فرق کو پورا کرنے کے لیے محکمہ بجلی تقریباً 3000 میگاواٹ بجلی بیرونی ذرائع سے خرید رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جے اینڈ کے میں ہائیڈرو پاور منصوبوں سے پیداوار میں شدید کمی بھی بحران کی ایک بڑی وجہ ہے، کیونکہ سردیوں میں دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔ اس وجہ سے مرکزی اور یوٹی سیکٹر دونوں میں بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔محکمہ بجلی کے عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ نقصانات سے منسلک کٹوتیوں کا مقصد عوام کو میٹرنگ کی طرف راغب کرنا، بجلی چوری کی روک تھام اور نظام کی بہتری ہے۔ایک افسر نے بتایا’’کم نقصانات والے علاقوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ زیادہ نقصانات والیڈویڑن کام کشمیر نے شب معراج کے حوالے سے جامع انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔