عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//ضلع راجوری کے تھنہ منڈی علاقے میں پیش آئے ایک سڑک حادثے میں چار افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ شاہدرہ شریف روڈ پر گورنمنٹ ڈگری کالج تھنہ منڈی کے قریب اْس وقت پیش آیا جب ایک موٹر سائیکل اور آلٹو کار کے درمیان آمنے سامنے ٹکر ہو گئی۔آلٹو کار زیر نمبر JK11A-4678 اور موٹر سائیکل زیر نمبر JK11H-3520 اس حادثے میں ملوث تھیں۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ موٹر سائیکل سوار سڑک پر جا گرے جس سے موقع پر افرا تفری پھیل گئی۔ حادثے میں چار افراد زخمی ہوئے جن کی شناخت اسحاق ملک (35) ساکن الا، علیشا (16) ساکن الا، ساگر فاروق (16) ساکن تھنہ منڈی اور فیضان (15) ساکن بہروٹ، تھنہ منڈی کے طور پر ہوئی ہے۔
حادثے کے فوراً بعد مقامی لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو امداد فراہم کی۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی) تھنہ منڈی منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد دی تاہم چوٹوں کی نوعیت سنگین ہونے کے باعث بعد ازاں انہیں گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری ریفر کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کو سر اور جسم کے دیگر حصوں پر گہری چوٹیں آئی ہیں۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ بھی حرکت میں آ گئی۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) تھنہ منڈی سید عابد حسین نائب تحصیلدار اور پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا، ٹریفک کو منظم کیا اور تباہ شدہ گاڑیوں کو ہٹا کر سڑک پر معمول کی آمد و رفت بحال کرائی۔پولیس حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر تیز رفتاری یا لاپرواہ ڈرائیونگ کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تفصیلی انکوائری کے بعد ہی اصل سبب سامنے آئے گا۔ اس سلسلے میں مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہدرہ شریف روڈ پر ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور حساس مقامات پر اسپیڈ بریکرز اور وارننگ سائن بورڈ نصب کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ یاد رہے کہ اس سڑک پر ماضی میں بھی متعدد حادثات پیش آ چکے ہیں۔فی الحال تمام زخمی جی ایم سی راجوری میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹروں کی جانب سے ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور احتیاط سے گاڑی چلائیں تاکہ قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔