پیرس//فرانس کے صدر ایمینوئیل میخواں نے پیرس میں روس کے صدر ولادمیر پوتن سے ملاقات کے بعدکہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال فرانس کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے اور اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں ۔مسٹر میخواں نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ روس اور فرانس کو شام میں جنگجوتنظیموں کو ختم کرنے کے لئے ساتھ ملکر کام کرنا چاہئے اور اس کے لئے وہاں براہ راست ماسکو کے رول پر نکتہ چینی نہیں کی جانی چاہئے ۔انھوں نے کہا اسدکے نمائندوں سمیت شام کے مسئلہ سے متعلق سبھی فریقوں سے بات چیت کی جانی چاہئے ۔مسٹر میخواں نے کہا '' دونوںممالک شام کے مسئلہ پر ساتھ ملکر کام کریں گے ،یہ ضروری ہے ۔ ہمیں مضبوط اتحادکی ضرورت ہے کیوں کہ شام میںجنگجوئوںکا صفایا دونوں ملکوں کی ترجیحات میں ہے ۔'میخواں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پیرس اور ماسکو شام کے مسئلہ پر اپنے خفیہ تعاون کو بڑھائیں اور جلد سے جلد اسکاسیاسی حل تلاش کرنے کی بھی کوشش کریں ۔روس کے صدر ولاد میر پوتن نے اس معاملہ میں کہا کہ روس اورفرانس اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی انکی اولین ترجیحات میں ہے لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب بھی شام کے مسئلہ پر انکے موقف میں تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس بارے میں مسٹر میخواں کو بتا دیا ہے ۔ واضح رہے کہ شام کے مسئلہ پر روس اور فرانس الگ الگ فر یقوں کی حمایت کرتے رہے ہیں ۔ روس جہاں شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت کرتا ہے وہیں فرانس باغی گروپوں کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کے اتحاد کا حصہ ہے اور اسی گروپ نے اسد حکومت پر شام میں کیمیائی ہتھیار کے استعمال کا الزام لگایا ہے ۔رائٹر ۔