کشتواڑ//قصبہ کشتواڑ میں گزشتہ کئی ماہ سے چوری کی مسلسل وارداتیں رونما ہورہی ہیں جسکے سبب قصبہ کی عوام میں کافی تشویش پائی جارہی یے۔ سنیچر کی رات کو قصبہ کے بیچوں بیچ و سخت حفاظت والے علاقے کشتواڑ پولیس تھانہ سے محض 300میٹر دور اوم مہتا روڈ پر چوری کی وارداتیں انجام دی گئیں اور چور لاکھوں روپے کا سامان اڑالے گئے ۔کشمیر عظمیٰ کو ملی تفصیلات کے مطابق اوم مہتا روڈ پر واقع چکن دوکان کے مالک جب صبح اپنی دوکان کھولنے آئے تو انکی دوکان کے تالے ٹوٹے تھے اور آدھا شٹر کھلا تھا جسکے بعد انھوں نے دوکان کے اندر رکھی نقدی کو ڈھونڈا تو چور اسے بھی اڑا لے گئے تھے ۔ساتھ میں ہی ہارڈویر کی دوکان کے تالے بھی ٹوٹے تھے جبکہ اسکے اندر سے چوروں نے ایک موبایل اور چودہ ہزار نقدی بھی لی۔ منصف کورٹ کی رہایش کے قریب واقع موبایل دوکان سے چور لاکھوں روپے کا سامان چوری کرکے لے گئے اور دوکان کے شٹر کو آدھا کھلا چوڑ کر چلے گئے۔ دوکانداروں نے اسکی اطلاع پولیس کو دی جسکے بعد پولیس نے جائے واردات پر آکر معاینہ کیا جسکے بعد اسکی تحقیقات شروع کی گئی۔ مقامی لوگوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی اس سڑک پر کئی مرتبہ چوری کی وارداتیں انجام دی جاچکی ہیں لیکن آج تک پولیس چوروں کو پکڑنے میں ناکام ثابت ہوئی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس و سی آئی ایس ایف کی نفری کو اگرچہ رات بھر تعینات کیا جاتا ہے لیکن باوجود اسکے چور انکے سامنے چوری کی وارداتوں کو انجام دے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے قصبہ میں حفاظت کے سخت انتظام ہےں لیکن باوجود اسکے چوری کی وارداتوں کو ہائی سیکورٹی زون کے قریب انجام دیا جانا پولیس پر کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ انھوں نے ایس ایس پی کشتواڑ سے مانگ کی کہ پولیس کی گشت کو مزید بڑھایاجائے اور مزید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیںتاکہ چوری کی وارداتوں پر قابو پایا جاسکے اور انکے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاسکے۔