یو این آئی
نئی دہلی// لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ کے اندر سکیورٹی میں چوک کے معاملے پر ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی مسلسل دوسرے دن بھی متاثر ہوگئی۔دوپر کے کھانے کے وقفے کے بعد جیسے ہی پریزائیڈنگ آفیسر ڈاکٹر کریٹ سولنکی نے ایوان کی کارروائی شروع کی تو اپوزیشن ارکان نے پہلے کی طرح ہنگامہ کرنا شروع کردیا جس کے پیش نظر پریذائیڈنگ آفیسر نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی۔ پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں کوتاہی کے معاملے پر راجیہ سبھا میں آج مسلسل دوسرے دن پورے اپوزیشن نے ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کرنی پڑی اوروفقہ صفر کی کارروائی نہیں ہوسکی۔چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے جمعہ کو ایوان کی میز پر ضروری قانون سازی کے دستاویزات رکھے جانے کے بعد کارروائی شروع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ارکان کی جانب سے 13 دسمبر کو پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں ہونے والی چوک کے معاملے پر بحث کرانے کے لئے رول 267 کے تحت التوا کی تجویز کے 23 نوٹس موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جمعرات کو ہی ایوان کو اس واقعہ کے بارے میں تفصیلی معلومات دی تھی۔ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اس صورتحال میں انہیں نہیں لگتا کہ ان نوٹسز کو قبول کرنے کا کوئی جواز ہے ۔جیسے ہی مسٹردھنکھر نے یہ کہا، اہم اپوزیشن کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان اپنی جگہوں سے اٹھ کر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے اونچی آواز میں بولنے لگے ۔ عام آدمی پارٹی کے راگھو چڈھا نے پوائنٹ آف آرڈر کو اٹھانا چاہا لیکن چیئرمین نے کہا کہ اشارہ کرنے کے بجائے اپنی آواز کا استعمال کریں۔