عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//مرکزی حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ تمباکو مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کے بعد کشمیر خاص طور پر سرینگر کے کئی علاقوں میں سگریٹ کی بعض معروف اقسام کی شدید قلت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق گولڈ فلیک سگریٹ کی درمیانی (میڈیم) سائز خاص طور پر نایاب ہو چکی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر نے مبینہ طور پر بلیک مارکیٹنگ شروع کر دی ہے۔شہریوں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ سرینگر کے کئی علاقوں میں گولڈ فلیک میڈیم سائز یا تو دستیاب نہیں یا پھر مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ داموں پر فروخت کی جا رہی ہے۔ بعض مقامات پر یہ سگریٹ بلیک میں فروخت ہو رہی ہے، جہاں صارفین کو مجبوری کے عالم میں اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔بازار سے جڑی اطلاعات کے مطابق یہ قلت قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی طور پر پیدا کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ چند بڑے ہول سیلرز نے جان بوجھ کر اسٹاک مارکیٹ میں جاری نہیں کیا، تاکہ قلت کا ماحول بنا کر بعد میں یہی مصنوعات زائد قیمتوں پر فروخت کی جا سکیں۔ ایک دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں کمپنی کی جانب سے سپلائی محدود دی جا رہی ہے، جبکہ ہول سیل مارکیٹ میں مال موجود ہونے کی باتیں عام ہیں۔یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب دیکھا جائے کہ تمباکو مصنوعات پر ڈیوٹی میں اضافے کا براہِ راست بوجھ پہلے ہی صارفین پر پڑ چکا ہے۔ اب اگر اسی بنیاد پر بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری بھی شروع ہو جائے تو یہ واضح طور پر صارفین کے استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی شے کی مصنوعی قلت پیدا کرنا، مقررہ قیمت سے زیادہ دام وصول کرنا، اور ذخیرہ اندوزی کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔گولڈ فلیک سگریٹ آئی ٹی سی لمیٹڈ کی ایک معروف برانڈ ہے، اور شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کمپنی خود بھی اس معاملے میں وضاحت کرے کہ آیا کشمیر میں سپلائی واقعی متاثر ہے یا پھر یہ سب ذخیرہ اندوزوں کا کھیل ہے۔