مالی اعتبار سے اگر کوئی شخص کمزور ہو تو کیا وہ سیول سروسز کا خواب دیکھ سکتا ہے؟ اس بات کا جواب آپ اب جان چکے ہیں۔اب آئیں اس سوال کا جواب جانتے ہیں کہ کیا یو پی ایس سی سیول سروسز جیسے امتحان کو پاس کرنے کے لئے انتہائی قابل،ذہین اور ٹاپر ہونا ضروری ہے؟ ممکن ہے کہ آپ کے اذہان میں کسی نے یہ بات ڈال دی ہو کہ اگر آپ ایک اوسط (Average) درجے کے طالب علم ہیں تو سیول سروسز آپ کے بس کی بات نہیں۔یا پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں خود ہی یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ ’کہاں سیول سروسز میں کامیاب ہونے والوں کی قابلیت اور کہاں میں ایک اوسط درجے کا طالب علم ‘۔اگر ایسا ہے تو اس مغالطے کو اپنے ذہنوں سے نکال دیجیے۔یہ بات میں آپ کو جھوٹی تحریک دینے کے لئے نہیں کہہ رہا،نا ہی میں جذبات کے بہائو میں ایسا کہہ رہا ہوں ۔آپ خود تھوڑی سی تحقیق کر لیجیے،یہ مغالطہ آپ کے اذہان سے خود ہی حرفِ غلط کی طرح مٹ جائے گا۔سیول سروسز 2018 میں کُل ہند درجہ سوم ( All India Rank 3) حاصل کرنے والے جنید احمد کی ہی مثال لے لیجئے۔اُنہوں نے خود اس بات کا اعلان کیا کہ اُنہیں دسویں اور بارہویں جماعت میں60فیصد نمبرات حاصل ہوئے تھے۔اپنے ایک خطاب (جو یوٹیوب پر دستیاب ہے) میں وہ شرکاء سے یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ اگر وہ اپنی گیارہویں جماعت کے نمبرات بتادے تو وہ (شرکاء)مخمصے میں پڑ جائیں گے کہ یو پی ایس سی صحیح سے امتحان لے رہا ہے یا نہیں!جب دسویں اور بارہویں جماعت میں 60فیصد نمبرات حاصل کرنے والا شخص یو پی ایس سی سیول سروسز میں تیسری رینک حاصل کرسکتا ہے تو اب یہ کہنے کی گنجائش کہاں بچتی ہے کہ’سیول سروسز کے لئے پہلے تیس مار خان ہونا ضروری ہے۔‘اگر ’مالی آسودگی‘ اور ’تیس مار خان ‘ہوناسیول سروسز کرنے کے لئے ضروری نہیں تو پھر وہ کون سی خصوصیات ہے جو ایک سیول سروسز کی چاہ رکھنے والے طالب علم کے اندر ہونی چاہیے؟آئیں جانتے ہیں۔
۱۔محنت شاقہ: محنت کامیابی کی کنجی ہے۔انسان بعض اوقات کامیاب ہونے کے لئے شارٹ کٹ تلاش کرتا ہے لیکن یاد رکھیں کہ محنت ِ شاقہ (Hardwork) کا کوئی متبادل نہیں۔آپ یوں سمجھ لیجئے کہ کامیابی ایک خزانے کی مانند ہے جس پر ایک مضبوط تالا لگا ہے اور اُس تالے کی چابی محنت شاقہ ہے۔کامیابی ضرور اللہ دیتا ہے لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ انسان محنت کرے۔اس بات کو ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام نے یوں کہا ہے؛
"You see,God helps only people who work hard.That principle is very clear."
یعنی یہ اصول واضح ہے کہ خدا اُن ہی لوگوں کی مدد کرتا ہے جو سخت محنت کرتے ہیں۔یوپی ایس سی سیول سروسز ایک ایسا امتحان ہے جہاں سخت محنت کے بغیر کامیاب ہونے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔یہ سکول یا کالج کا امتحان نہیں کہ آپ نے سال بھر پڑھائی کو خیرباد کہا اور امتحان کے دنوں بازار سے نوٹ خریدلئے،اُن کو رٹ لیا اور کامیا ب ہوگئے۔بعض قارئین کے اذہان میں یہ سوال جنم لے سکتا ہے کہ راقم نے تو ایک جگہ یہ لکھا کہ اس امتحان میں سخت محنت (Hardwork) سے زیادہ ( Smart Work) کام کرتی ہے تو اب میں کیوں اپنے ہی لکھے سے مکر رہا ہوں؟ یہ بات ذہن نشین کریں کہ سمارٹ ورک کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ محنت نہیں کرنی۔سمارٹ ورک سے کیا مراد ہے؟فرض کریں کسی موضوع کے حوالے سے یو پی ایس سی میں متواتر فقط ایک یا دو سوال پوچھے جاتے ہیں لیکن آپ اُس موضوع کی تیاری اتنی گہرائی سے کررہے ہیں کہ آپ نے ہزاروں صفحات پر مشتمل کتابوں کو کھنگال ڈالا ہے۔یہاں آپ نے جتنی محنت کی ہے،اُتنی درکار نہیں تھی۔اس چیز کوکہہ سکتے ہے کہ آپ نے سخت محنت تو کی ہے لیکن یہاں اسمارٹ ورک کی ضرورت تھی۔آسان لفظوں میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کسی کام پر کتنا (Input) دے رہے ہیں اور وہاں سے (Output) کتنا مل رہا ہے۔اگر کسی کام کا آوٹ پُٹ زیادہ نہیں تو اُس میں زیادہ اِن پُٹ(یعنی محنت) کی بھی ضرورت نہیں۔مگر یاد رکھیں کہ سمارٹ ورک کے باوجود بھی بہرحال آپ کو سخت محنت کرنی ہی ہے۔کسی کے ذہن میں اگر یہ بات بیٹھ گئی ہوگی کہ چلو میں تو کوچنگ سنٹر میں پڑھ لوں گا پھر سٹینڈارڈ(Standard) کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی یا اتنی ضخیم کتابیں پڑھنے کی کیا ضرورت،میں تو بازار سے مختصر نوٹ خرید کے پڑھ لوں گاتو یہ روش مہنگی پڑ سکتی ہے۔سٹینڈارڈ کتابوں کو چھوڑ کر فقط کوچنگ پر اکتفا کرنے کے حوالے سے آئیں سیول سروسز میں کُل ہند رینک اول حاصل کرنے والے انو دیپ درو شیٹی سے ہی پوچھ لیتے ہیں ۔موصوف اس حوالے سے رقم طراز ہیں؛
"Always remember that roughly,not more than 25-30% of your prepration should depend on coaching classes.To say that without coaching you cannot crack UPSC is to tell a lie."
یہاں موصوف نے واضح کردیا ہے کہ آپ کی تیاری کا پچیس ،تیس فیصدی حصہ ہی کوچنگ پر مشتمل ہونا چاہیے اور یہ کہنا کہ کوچنگ کے بغیر آپ یہ امتحان پاس نہیں کرسکتے ،جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔اب جبکہ ایک ٹاپر ہی آپ سے کہہ رہا ہے کہ کوچنگ کرکے بھی آپ کو ستر (70) یا اس سے زائد فیصدی تیاری خود ہی کرنی ہے تو آپ خود ہی سوچ لیجئے کہ اس امتحان میں اب محنت ِ شاقہ کو چھوڑ کر شارٹ کٹ اپنانے کی تُک کہاں بنتی ہے؟ لہٰذا یوپی ایس سی سیول سروسز میں کامیابی حاصل کرنی کی چاہ رکھنے والے طالب علم کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کافی محنتی ہو۔یہ خصوصیت ایک طالب علم میں نا ہو تو یوپی ایس سی سیول سروسز کے خیال کو خیرباد کہنا ہی بہتر ہے۔
۲۔صبرواستقامت:یوپی ایس سی سیول سروسز ایک صبر آزما امتحان ہے۔یہ فقط آپ کی ذہانت ہی نہیں بلکہ آپ کے صبر اور آپ کی استقامت کا بھی امتحان ہوتا ہے ۔اس کی تیاری میں آپ کو عام طور پر ایک سال یا اس بھی زائد وقت لگ سکتا ہے۔اتنے طویل عرصے تک مسلسل پڑھائی کرنا واقعی صبر و استقامت (Patience and Perseverance) کا کام ہوتا ہے۔جب آپ یو پی ایس سی سیول سروسز کی سنجیدگی سے تیاری شروع کرتے ہیں تو آپ کو بہت ساری چیزیں قربان کرنی پڑتی ہیں ۔پہلے آپ کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر صرف کرتے تھیں،دوستوں کے ساتھ گھوما پھرا بھی کرتے تھے،عزیز و اقارب کی شادی و غمی پر اُن کے ہاں کئی کئی دنوں تک جاتے تھے لیکن اب آپ کو وہ ساری چیزیں قربان کرنی پڑتی ہیں۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو انسان سے مشین بننا پڑتا ہے ،نہیں۔آپ سوشل میڈیا کو بھی وقت دیں،دوستوں کے ساتھ بھی گھومیں ،مگر بہت ہی کم۔مسلسل پڑھائی کرنے سے ایک انسان بوریت اور بعض اوقات تنائو کا شکار بھی ہوجاتا ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ ایک انسان اپنے عزیز و اقارب سے ملے،اُن سے اپنے دُکھ درد بانٹے۔ لیکن پھر بھی کافی حدتک آپ کو یہ چیزیں قربان کرناپڑتی ہیں۔پہلے اگر آپ ایک ہفتے میں ایک دن دوستوں کے ساتھ گھوما پھرا کرتے تھیں،دوسرے دن رشتہ داروں کے ہاں ہو آتے تھے،تیسرا دن سوشل میڈیا اور ٹی وی وغیرہ کے ساتھ چلا جاتا تھا تو اب ایسا نہیں چلے گا۔اب آپ کو روزانہ کئی کئی گھنٹوں تک مسلسل پڑھائی کرنی ہے(بوریت اور تنائو کی صورت میں بریک بھی لے لیجئے مگر مختصر)۔ایک اور پہلو بھی ہے۔ہر انسان کی اپنی پسند اور ناپسند ہوتی ہے۔کوئی تاریخ (History) کو پڑھ کر لطف اُٹھاتا ہے تو کسی کے سر میں تاریخ نام سنتے ہی درد شروع ہوجاتا ہے،کسی کو اخبار بینی سے لگاؤ ہوتا ہے تو کوئی اسے دردِ سر سمجھ بیٹھتا ہے وغیرہ۔لیکن یوپی ایس سی سیول سروسز کا دامن اس قدر کشادہ ہے کہ آپ کو بیک وقت کئی مضامیں کی تیاری کرنی پڑتی ہے۔آپ تاریخ ،حالاتِ حاضرہ،معیشت،پولٹی وغیرہ میں دلچسپی لیں یا نا لیں ،مگر ان سب کو بہرحال پڑھنا ہی پڑتا ہے۔یہاں بھی یہی ’’صبر و استقامت‘‘ والی خصوصیت آپ کے کام آتی ہے۔آپ کے اندر جب صبر و استقامت ہوگا تو تبھی جاکر آپ وہ سب بھی پڑھ سکتے ہیں جس میں پہلے دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔اس امتحان کی تیاری ایک لمبی دوڑ (Marathon) کی مانند ہوتی ہے اور اُس دوڑ میں ٹکے رہنے کے لئے آپ کے اندرصبر و استقامت کا ہونا ضروری ہے۔انگریزی زبان کے قد آور مصنف سیمیل جانسن (Samuel Johnson) کا قول ہے؛
"Great works are performed not by strength but by perseverance."
یعنی بڑے کام طاقت سے نہیں بلکہ استقامت سے کئے جاتے ہیں ۔
۳۔خود اعتمادی :سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جہاں ایک چھوٹا سے کتے کے منہ میں ایک بڑے گھوڑے کی رسی تھی اور وہ کُتا اُس رسی کو آگے آگے کھینچ رہا تھا اور گھوڑا بنا کسی احتجاج کے آگے چل رہا تھا ۔اسی طرح انٹرنیٹ پر اسی سے ملتا جلتا ایک واقعہ پڑھا کہ ایک شخص کا گزر ہاتھیوں کے ایک کیمپ سے ہوا۔وہاں اُس نے دیکھا کہ ہاتھیوں کو کسی مضبوط زنجیر یا کسی پنجرے میں قید نہیں کیا گیا تھا بلکہ اُنہیں ایک معمولی رسی سے باندھا گیا تھا جسے وہ باآسانی کاٹ سکتے تھے۔حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ اُس رسی کو کاٹنے کی کوشش بھی نہیں کررہے تھے ۔اس پر وہ اُن ہاتھیوں کے ٹرینر (Trainer )سے پوچھنے لگا کہ آخر یہ کیا ماجرا ہے؟ ٹرینر نے جواباً کہا کہ جب یہ ہاتھی چھوٹے ہوتے ہیں تواُنہیں اسی رسی کی بدولت باندھاجاتا ہے اوراُس وقت یہ رسی اُنہیں باندھنے کے لئے کافی ہوتی ہے ۔جب یہ بڑے ہوجاتے ہیں تو یہ اُن کا عقیدہ بن جاتا ہے وہ اس رسی کو نہیں کاٹ سکتے اور اس لئے وہ اسے کاٹنے کی کوشش نہیں کرتے۔کیا اس گھوڑے اور ان ہاتھیوں میں طاقت کی کمی تھی؟ نہیں،بلکہ ہاتھی اور گھوڑا دونوں کافی طاقت ور جانور ہوتے ہیں۔ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ طاقت ور ہونے کے باوجود بھی آپ کمزور ہوسکتے ہیں اور اُس کمزوری کی وجہ ہے خود اعتمادی(Self confidence) کا فقدان۔گھوڑے اور ہاتھیوں میں طاقت تو کافی تھی لیکن اپنے آپ پر اعتماد نہیں تھا۔یہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ہم خود کو کمزور سمجھ سکتے ہیں لیکن حقیقتاً ہمارے اندر وہ قوت اور صلاحیت ہوتی ہے جس کا ہمیں اندازہ تک نہیں ہوتا۔انسان تو ایک اعلیٰ مخلوق ہے،اُس کا مقام کافی اونچا ہے ۔اس کے باوجود وہ ہارمان لیتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ انسان کو ہراتا ہے تو اپنا آپ۔یوپی ایس سی جیسے متحان میں بھی خود اعتمادی آپ کے اندر موجود ہونا ضروری ہے۔یہ آپ کے کام کو آسان بنا دے گی۔اس لئے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کریں اور کام پر لگ جائیں۔
۴:مثبت سوچ :مثبت سوچ (positive thinking) کسی اثاثے سے کم نہیں۔بعض اوقات آپ کو ایسے لوگ مِل جاتے ہیں جو آپ کو نااُمید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یوپی ایس سی سیول سروسز میںکامیاب ہونے والے انصار شیخ اور ورُن برنوال کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔انصار شیخ کے والد کے کان کسی نے بھر دئے اور اسی طرح ورُن کو بھی ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جنہوں نے اُنہیں نااُمید کرنے کی کوشش کی۔یہ معاملہ ان ہی دو صاحبان تک محدود نہیں ،ممکن ہے کہ آپ کو بھی زندگی میں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا ہو یا مستقبل میں پڑ جائے جو آپ کو نااُمید کرنے کی کوشش کریں گے ،خاص کر جب آپ سیول سروسز کے سفر پر نکل پڑے ہوںکہ بھئی سیول سروسز بچوں کا کھیل نہیں،اس کے لئے لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں،ہم اقلیتی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں توانٹرویو بورڈ اس لئے آپ کے ساتھ نا انصافی کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ پہلے انتہائی جوش کے ساتھ تیاری شروع کریں اور بعد میں جب لوڈ بڑھ جائے تو آپ خود ہی نا اُمید ہوں کہ مجھ سے اتنا نہیں ہو پائے گا،یا یہ خیال آپ کو نا اُمید کردے کہ لاکھوں لوگ امتحان میں حصہ لیں گے،اُن کے ساتھ مقابلہ کرنا میرے بس کی بات کہاں وغیرہ۔ایسے میں جو چیز آپ کی معاون ثابت ہوگی ،وہ ہے مثبت سوچ۔اس لئے سیول سروسز کی چاہ رکھنے والے ایک طالب علم کے اندر مثبت سوچ ہونا ضروری ہے۔اگر یہ جوہر اپنے اندر پیدا کرنے میں آپ کو دِقت ہورہی ہیں تو آپ اس حوالے سے ’مثبت سوچ ‘ پر لکھی گئی مقبول کتابوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔وِلی نیلسن (امریکی موسیقی کار) کا قول ہے؛
"Once you replace negative thoughts with positive ones,you'll start having positive results."
یعنی ایک مرتبہ جب آپ منفی خیالات کو مثبت خیالات سے تبدیل کریں گے تو پھر مثبت نتائج آنے شروع ہوں گے۔(جاری)
پتہ۔برپورہ ،پلوامہ کشمیر
ای میل۔[email protected]