اگر میں اس بات کا دعویٰ کروں کہ یوپی ایس سی کے سارے پرچوں میں سب سے اہمیت کا حامل اختیاری مضمون ( Subject Optional) ہے تو شائد یہ کوئی مبالغہ آرائی نہ ہوگی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مینز میں میرٹ کے لیے گنے جانے والے ہرپرچے کے نمبرات 250ہوتے ہیں لیکن جب بات آپشنل یا اختیاری پرچہ کی آتی ہے تو اس میں کل500نمبرات ہوتے ہیں۔500نمبرات کی یوپی ایس سی میں کتنی اہمیت ہے ،یہ کہنے کی مجھے ضرورت نہیں ۔اگرچہ آپشنل کے دو پرچے ہوتے ہیں لیکن دونوں میں آپ کو ایک ہی مضمون(Subject) کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔اس کے اہم ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ چونکہ یوپی ایس سی کا دامن کافی وسیع ہے اور اس کا نصاب بھی کافی کشادہ ہوتا ہے،آپ کو چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی مختلف مضامین پڑھنے ہوتے ہیں جن میں سے بعض آپ کو نا پسند بھی ہوسکتے ہیں ۔لیکن بات جب آپشنل کی آتی ہے تو یہاں آپ کو مکمل اختیار دیا جاتا ہے کہ آپ درجنوں مضامین سے میں کسی بھی من پسند مضمون کا انتخاب کریں۔آپ کسی بھی شعبے خواہ وہ سائنس ہو ،کامرس ہو،آرٹس ہو ،سے مضامین کا انتخاب کرسکتے ہیں۔دیگر پرچوں میں بالفرض آپ کو تاریخ ،حالاتِ حاضرہ،یا پولٹی وغیرہ سے دلچسپی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود آپ کو وہ پڑھنے ہی ہوں گے مگر یہاں آپ کو اپنا من پسند مضمون چننے کی مکمل آزادی فراہم کی گئی ہے۔تیسری اہم بات یہ ہے کہ اگر مینز جنرل اسٹیڈیز(General Studies)کے چار پرچوں کی بات کی جائے ،جیسا کہ کہا گیا ہے کہ اُن میںسے ہر ایک کے 250نمبرات ہوتے ہیں لیکن اُن 250 نمبرات کیلئے آپ کو مختلف مضامین پڑھنے پڑتے ہیں مثلاً جنرل اسٹیڈیزپیپر اول کی ہی بات کریں ،اس میں بیک وقت آپ کو جغرافیہ(Geogarphy) ،تاریخ (History) ،فن و ثقافت (Art and culture) وغیرہ پڑھنے ہوتے ہیں اور پھر ان سارے مضامین کو پڑھنے کے بعد آپ کے 250نمبرات بنتے ہیں۔لیکن آپشنل میں ایک ہی مضمون کے 500نمبرات ہوتے ہیں۔بالفرض آپ نے اردو کو آپشنل کے طور پر لیا تو فقط اُردو کے ہی 500نمبرات ہوں گے۔ان ساری باتوں سے آپ کو بخوبی آپشنل کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔
آپشنل کی اہمیت واضح ہوجانے کے بعد اب آیئے دیکھتے ہیں کہ آپشنل کے لیے کس مضمون کا انتخاب کرنا چاہیے۔اگرچہ آپ کو مکمل اختیار دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے من پسند سبجیکٹ کا انتخاب کریں لیکن پھر بھی اس حوالے سے چند چیزیں واضح کرنا ضروری ہے۔آپ آپشنل کے طور پر اُسی مضمون کو لیں جس کو پڑھنے سے آپ بوریت اور عدم دلچسپی کا شکار نا ہوں ۔اگر آپ نے فقط ا س لیے کسی مضمون کا انتخاب کیا کہ گزشتہ برسوںکے ٹاپروں (Toppers) نے اُن مضامین کا انتخاب کیا تھا تو آپ غلط راہ پر ہیں۔اسی طرح یہ روش بھی غلط ہے کہ آپ نے محض اس لیے کسی مضمون کا انتخاب کیاکہ آپ کو وہ زیادہ اسکورنگ (Scoringٌ) لگا۔اسی طرح دوسرے لوگ اگر کسی مضمون کے حوالے سے رطب اللسان نظر آتے ہیں اور آپ بھی جذبات میں آکر وہی سبجیکٹ لے لیتے ہیں تو یہ بھی خسارے کا سودا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ جو انسان کسی مخصوص مضمون کے قصیدے پڑھ رہا ہے،اُس کے لیے وہ دلچسپ تو ہوسکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ آپ کے لیے بھی دلچسپ ثابت ہو۔اسی لیے آپشنل کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔ایک تو اس وجہ سے آپ کسی مضمون کا انتخاب کریں کہ وہ آپ کے لیے دلچسپی کا باعث ہوجیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے۔دوسرا آپ اس وجہ سے بھی کسی مضمون کا انتخاب کرسکتے ہیں کہ آپ نے اُسی مضمون میں گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کی ہو۔اس سے آپ کا کام آسان بن جائے گا ۔مثال کے طور پر اگر آپ نے پولٹیکل سائنس میں ماسٹرس کیا ہے تو بہتر یہی ہے کہ آپ پولٹیکل سائنس کو ہی بطورِ آپشنل لیں(بشرطِ دلچسپی)۔آپ آپشنل کے لیے جس مضمون کا انتخاب کرنے جارہیں ،اُس کے بارے میں پہلے یہ معلومات حاصل کرنا بھی ضرروی ہے کہ کیا اُس میں نصاب کو مکمل کرنے کے لیے برابر وسائل موجود ہیں؟مثال کے طور پر آپ کو کسی مضمون سے دلچسپی ہے اور آپ نے آنکھ بند کرکے اُسی کا انتخاب کیا لیکن بعد میں آپ کو پتہ چلا کہ اُس مضمون کا جو نصاب یوپی ایس سی نے دیا ہے،اُس کا تعلیمی مواد(Study Material) بازار سے مکمل طور پر ملنا محال ہے۔لہٰذا اس حوالے سے بھی بیدار ذہنی کا ثبوت دینا ضروری ہے۔
ان ساری بنیادی باتوں کی وضاحت کے بعد اب براہ راست رُخ کرتے ہیں اردو آپشنل کی تیاری کا ۔جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا کہ اختیاری مضمون کے کُل دو پرچے ہوتے ہیں اور یہ دونوں پانچ سو نمبرات پر مشتمل ہوتے ہیں۔میرٹ کے لیے گنے جانے والے مینزکے دیگر پرچوں کی طرح ہی اس میں بھی ہر پرچے کے250 نمبرات ہوتے ہیں۔اسی طرح ہر پرچے کے دو حصے (Section) ہوتے ہیں۔اُردو کے پرچۂ اول کا نصاب یوں ہے:
پہلا حصہ
اُردو زبان کا ارتقا A)۔ہند آریائی کا ارتقا(۱۔قدیم ہند آریائی۔۲۔وسطی ہند آریائی،۳۔نئی/جدید ہند آریائی)۔
B)۔مغربی ہندی اور اس کی بولیاں،برج بھاشا،کھڑی بولی،ہریانوی،کنوجی،بندیلی،اُردو زبان کے آغاز(origin) کے متعلق مختلف نظریات (Theories)۔
C)۔دکنی اُردو…آغاز و ارتقا،اس کی اہم لسانی خصوصیات۔
D)۔اُردو زبان کی سماجی اور تہذیبی(Cultural) جڑیںاور اس کی منفرد خصوصیات۔رسم الخط(Script) ،صوتیات(Phonology) ،ساخت (Morphology) ،ذخیرۂ الفاظ۔
دوسرا حصہ
A) اصناف اور اُن کا ارتقا:
(۱۔شاعری:غزل،مثنوی،قصیدہ،مرثیہ،رباعی،جدید نظم)۔
(۲۔نثر:ناول،افسانہ،داستان،ڈرامہ،انشائیہ،خطوط،سوانح عمری)۔
ؓB)دبستانِ دکنی،دبستانِ دلی اور دبستانِ لکھنو ٔ ،سرسید تحریک،رومانوی تحریک،ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کی منفرد خصوصیات۔
C)ادبی تنقید اور اس کا ارتقا (حالیؔ،شبلیؔ،کلیم الدین احمد،احتشام حسین ،آل احمد سرور کے حوالے کے ساتھ)۔
D)مضمون نگاری(ادبی اور تخیلی موضوعات{Literary and Imaginative Topics})۔
دوسرے پرچے میںپرچۂ اول کی طرح مختلف موضوعات نہیں دئے گئے ہیں بلکہ براہ راست کتابوں کی ایک فہرست فراہم کی گئی ہے جن کا مطالعہ طلباء کو کرنا ہوگا تاکہ اُن کی تنقیدی صلاحیت (Critical Ability) کا جائزہ لیا جاسکے۔اس پرچے کے بارے میں یوپی ایس سی کا کہنا ہے:’’This paper will require first hand reading of the texts prescribed and will be designed to test the candidate's critical ability‘‘۔اس پرچے کا نصاب یوں ہے:
حصہ اول
۱۔میر امن:باغ و بہار
۲۔غالبؔ:انتخابِ خطوط ِ غالب
۳۔محمد حسین آزاد:نیرنک خیال
۴۔پریم چند :گئودان
۵۔راجندر سنگھ بیدی:اپنے دکھ مجھے دے دو
۶۔ابوالکلام آزاد:غبار خاطر
حصہ دوم
۱۔میرؔ:انتخابِ کلامِ میرؔ(Ed.Abdul Haq)۔
۲۔میر حسن:سحر البیان
۳۔غالبؔ:دیوانِ غالب
۴۔اقبال:بالِ جبریل
۵۔فراقؔ:گُل نغمہ
۶۔فیضؔ: دستِ صبا
۷۔اختر الایمان : بنت لمحات
اب یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُردو اختیاری مضمون کی تیار ی کے لیے کون سی کتابیں پڑھیں۔اس ضمن میں اُردو اختیاری مضمون کے ساتھ ( غالباًسال (2013کے بعد سب سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے اُمید وار کے مطابق مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے:
پرچہ اول: اُردو کی لسانی تشکیل از مرزا خلیل احمد بیگ،اُردو نثر کا تنقیدی مطالعہ از ڈاکٹر سنبل نگار،اُردو شاعری کا تنقیدی مطالعہ از ڈاکٹر سنبل نگار۔اس کے علاوہ اگر معاونت کے لیے معیاری نوٹ بھی ساتھ رکھیں تو سونے پہ سہاگہ۔
اب پرچۂ دوم کی بات آتی ہے۔اس کے لیے چونکہ کتابوں کی ایک واضح فہرست یوپی ایس سی کی جانب سے ہی فراہم کی جاتی ہیں تاہم اگر آپ ان ساری کتابوں کا مکمل مطالعہ کرنے بیٹھ جائیں تو اس میں آپ کا کافی وقت صرف ہو سکتا ہے۔اس لیے جب آپ کامیاب اُمید واروں کا رُخ کرتے ہیں تو وہاں آپ کو پتہ چلتا ہے کہ ان ساری کتابوں کا مکمل مطالعہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نثری حصے میںباغ و بہار،اپنے دکھ مجھے دے دو،غبار خاطر کا آپ کو مکمل مطالعہ کرنا ہوگا ۔دیگر کتب مثلاً گئودان ،نیرنگ خیال ،خطوطِ غالب کا مکمل مطالعہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔گئودان کے کچھ ابتدائی صفحات پڑھ لیجیے(۳۰۔۲۰(،اس طرح نیرنگ خیال کے پانچ آٹھ مضامین(Topics) پڑھ لیجیے،خطوطِ غالب سے بھی پانچ چھ خطوط پڑھ لیجیے بس۔اسی طرح جب بات شاعری کی آتی ہے تو یہاں بھی آپ کو مکمل مطالعہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔دیوانِ غالب کی شرح آپ یوسف سلیم چستی کی پڑھ سکتے ہیں لیکن یہ دیوان چونکہ ضخیم ہے اسی لیے آپ کامیاب اُمیدواروں یا پھر کسی سینئر اُردو داں سے رجوع کیجیے تاکہ وہ دیوان غالب کے اہم کلام کی نشاندہی کریں ،بس اُسی حصے کی تیاری کیجیے۔ علامہ اقبال اور میرؔ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے،اہم کلام کی نشاندہی اور پھر اُن ہی کی تیاری۔میر ؔکے اہم کلام کی شرح کے لیے آپ شمس الرحمٰن فاروقی کی ’’شعر شور انگیز‘‘ کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ۔اسی طرح کلامِ فیض کی تشریح کے لیے آپ کو کتاب آن لائن پورٹل’’ریختہ‘‘ سے دستیاب ہوگی۔باقی شعرا ء کا کلام بقولِ ایک کامیاب اُمیدوار آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں۔
اُردو اختیاری مضمون کی تیاری سے پہلے آپ گزشتہ برسوں کے پرچے دیکھ لیجیے ۔اسی طرح جہاں ضروری محسوس ہو وہاں آپ معیاری نوٹوں کی طرف بھی رجوع کرسکتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے۔امتحان میں شامل ہونے سے پہلے لکھنے کی مشق بھی کریں۔اپنے جوابات سینئر اُردو داں طبقے کو دکھانا بھی مناسب ہے تاکہ وہ آپ کی رہنمائی کریں جہاں ضروری ہو۔ایک اور سوال کا جواب جاننا بھی ضروری ہے کہ کیا ہمیں اُردو کو اختیاری مضمون کے طور لینا بھی چاہیے یا نہیں ؟ جب آپ گزشتہ کئی برسوںکے اعداد و شمار دیکھیں گے توبدقسمتی سے یہ بات آپ پر واضح ہوگی کہ اردو میں اُ س قدر نمبرات نہیں دئے جاتے ۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اُردو کا انتخاب کریں یا نہیں۔
(مضمون جاری ہے ۔اگلی قسط ایک نئے پہلو کے ساتھ اگلے ہفتہ شائع کی جائے گی )
پتہ۔ برپورہ پلوامہ کشمیر
ای میل۔[email protected]