’’یوپی ایس سی سِیول سروسزجیسے مشکل ترین امتحان میں شامل ہونا’ امیرانہ چونچلے‘ ہیں۔بھلا غریب طلاب کیونکرسیول سروسز جیسے بڑے خواب دیکھیں۔مشکل سے گھر کا گزارا ہوتا ہے،ایسے میں اتنے وسائل کہاں سے لائے جائیں جو یوپی ایس سی کی تیاری کے دوران درکار ہوں گے مثلاً درجنوں کتابوں کا خرچہ،کوچنگ کی لاکھوں کی فیس ،اور ویسے بھی یو پی ایس سی سیول سروسز کی اچھی کوچنگ گاؤں دیہات میں نہیںبلکہ بڑے شہروں ،خاص کر دلی میں ہوتی ہے۔ایسے میں ایک تو لاکھوں کی کوچنگ فیس اور اوپر سے رہن سہن اور کھان پان کا الگ خرچہ۔اس لیے غریب طلاب کے لیے سیول سروسز کا خواب دیکھنا ہی فضول ہے۔ایسی بڑی نوکریاں امیروں کے لیے ہوتی ہیں‘‘۔
اگر آپ بھی یہی سوچ رہے ہیں تو غلط سوچ رہے ہیں ۔انسان کے اندر واقعی کچھ کر گزرنے کا جنون ہو تو یہ چیزیں اس کے قدموں کو نہیں جکڑ سکتیں۔کہنے کوتو یہ باتیں بھلی معلوم ہوتی ہیں لیکن کیا حقیقت میں بھی بھلا ایسا ممکن ہے کہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا طالب علم بھی یوپی ایس سی سیول سروسز جیسے امتحان میں کامیاب ہوسکے؟اس معمہ کو حل کرنے کے لئے راقم لاسطور یہاں چند حقیقی کہانیوں کو رقم کرتا ہے تاکہ ’غریب ہوں ،وسائل نہیں ہیں‘ جیسے بہانے آپ کے قدم نہ روک سکیں۔
غریب گھرانے میں پیدا ہونا آپ کے اپنے ہاتھوں میں نہیں ہوتا لیکن اگر آپ عمر بھر غریب ہی رہتے ہیں تو اُس میں آپ کا بھی قصور ہے۔اسی بات کو دُنیا کے امیر ترین شخص رہ چکے بِل گیٹس نے یوں کہا ہے؛
’’If you are born poor it's not your mistake.But if you die poor it's your mistake‘‘
عطا کرنے والا توبے شک اللہ ہے لیکن اس کے باوجود انسان کو اپنے حصے کا کام کرنا ہی پڑتا ہے، ٹھیک اُسی طرح جس طرح مہاراشٹرا کے ایک گاؤں کے غریب لڑکے نے کر دکھایا۔انصار شیخ نامی یہ لڑکا ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔باپ آٹو رکھشا چلاتا تھا ۔غریبی اتنی تھی کہ گھر میںکھانے کے لالے پڑے تھے۔البتہ ایک بات ضرور تھی کہ لڑکے کو پڑھائی سے دلچسپی تھی۔چوتھی جماعت میں پہنچے تو غریب باپ کے کسی نے کان بھر دئے کہ اس کو پڑھا کر کون سی نوکری لگنی ہے،سرکاری نوکریاں نہیں ہیں وغیرہ ۔چنانچہ پاپ نے یہ طے کرلیا کہ اب یہ بچہ نہیں پڑھے گا اور کوئی کام دھندا چلا کر چار پیسے کمائے گا۔لڑکے کے سکول غالباً سرٹیفکیٹ لینے پہنچ گئے تو وہاں کسی اچھے اُستاد نے سمجھایا کہ لڑکا پڑھائی میں اچھا ہے اس لئے اس کی پڑھائی جاری رکھ لیجئے۔خیر والد اُستاد کی باتوں میں آگیا اور انصارر شیخ نامی اس لڑکے کا تعلیمی سلسلہ جاری رہا۔انصار شیخ کا چھوٹا بھائی چھٹی جماعت کو پاس نہیں کرسکا اور پڑھائی چھوڑ دی۔گھر پر عیش و عشرت تھی نہیں،اس لئے چار پیسے کمانے میں لگ گیا۔جب انصار کی دسویں کی چھٹیا ں چل رہی تھی تو سوچا کہ کمپیوٹر کا کورس کرلوں ،جو اُن کے اپنے ہی گائوں میں ہوتا تھا۔فیس اگرچہ اتنی زیادہ بھی نہیں تھی(تین ہزار سے بھی کم) لیکن اُس کے پاس اتنی استطاعت نہیں تھی۔ایک طرف شوق تھا اور دوسری جانب غریبی قدموں کو جکڑ رہی تھی۔لیکن انصار نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے شوق کو پوراکرنے کے لئے ایک ہوٹل میں ویٹر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔وہاں گاہکوں کو چائے سرو کرنے کے علاوہ اُسے صفائی ستھرائی بھی کرنی پڑتی تھی۔دن میں کچھ وقت مہلت ملتی تھی تو اُس وقت وہ کمپیوٹر کا کورس کرنے جاتا تھا۔اللہ کا فضل ہو اورانسان میں جوش و جنون ہو تو کون سا کام مشکل ہے؟بس ضرورت ہوتی ہے مشکلوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی۔راستے میں آنے والی مشکلات سے گھبرا کر ہمت ہارنا ہمارا شیوہ نہیں ہونا چاہئے۔ایک عقاب جب پرواز کرتا ہے تو تیز ہوا کے جھونکے اُس سے ٹکراتے ہیں لیکن وہ جھونکے اُسے گرانے کے لئے نہیں بلکہ اُسے اور اونچا اُڑانے کیلئے ہوتے ہیں۔اسی چیز کو علامہ اقبالؒ نے یوںبیان کیاہے۔
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کیلئے
مصائب و مشکلات کے حوالے سے راقم الحروف کا یہ ذاتی تجربہ بھی ہے کہ یہ چیزیں ایک انسان کو خالق ِ حقیقی کے قریب لاتی ہیں۔اُس کے ساتھ جو رشتہ کمزور پڑ چکا ہوتا ہے،وہ مضبوط بن جاتا ہے۔اُس عظیم ذات کے آگے جب انسان دل سے ہاتھ پھیلاتا ہے تو وہ ذات بھی پھر ایسی چیزیں کردکھاتی ہے کہ انسان کو اُس کے ہونے کا پختہ یقین ہوجاتا ہے۔یوپی ایس سی ہی نہیںبلکہ دیگر شعبوں میں بھی کامیاب ہونے والے لوگوں کو دیکھیں،اُن میں آپ کو ایسے لوگوں کی طویل فہرست نظر آئے گی جو غریب گھرانوں میں پیدا تو ہوئے لیکن اُنہوں نے غریبی کو اپنی کامیابی کے آڑے نہیں آنے دیا۔مشہور (Harry Potter) کی مصنفہ جے کے رولنگ کو ہی لے لیجئے،اُن کے ہاں اتنی غریبی تھی کہ وہ خود کھانا نہیں کھاتی تھی تاکہ اُن کی بیٹی کھا سکے۔لیکن آج اُن کے نام سے کون واقف نہیں؟اگر آپ کے گھر میں بچے ہیں توشائد وہ بھی دیگر کئی بچوں کی طرح Mickey Mouseکو دیکھتے ہوں گے،یا پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے بھی اپنے بچپن میں اس سے لطف اٹھایا ہو لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ مِکی ماؤس کے خالق والٹ ڈِسنی ایک اخبار میں اینی میشن (animation) بناتے تھے اور اُنہیں وہاں سے یہ کہہ کر نکالا گیا کہ تم اس قدر تخلیقی(Creative) نہیں ہو۔وہ نا اُمید ہوکر گوشہ نشین نہیں ہوئے بلکہ محنت ِ شاقہ سے ایک ایسا کردار تخلیق کیا جو دُنیا کے کتنے ہی بچوں کے لئے دلچسپی کا باعث ثابت ہوا اور والٹ ڈسنی خود بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔جب مشکلات و مصائب کے باوجود یہ لوگ کامیاب ہوسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟خیر بات انصار شیخ کی ہورہی تھی۔
غریبی کے علاوہ بھی انصارشیخ کی زندگی میں کئی مسائل اور مشکلات تھیں۔مثلاً باپ شرابی بھی تھا اور ایک مرتبہ اُن کی والدہ ذہنی عارضے میں مبتلا ہوگئی ۔ابھی انصار شیخ چھوٹے ہی تھے کہ اُنہیں سرکار کی طرف سے تیس ہزار کی امدادی چیک ملی کسی یوجنا کے تحت۔رقم حاصل کرنے غالباً تحصیل آفس جانا تھا لیکن وہاں کسی افسر نے تین ہزار کی رشوت طلب کی اور مجبوری میں اُنہیں غربت کے باوجود بھی سرکاری بابو کی فرمائش کو پورا کرنا پڑا۔وہا ں انصار شیخ کو لگا کہ اگر کوئی رشوت خوری سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے تو اُن جیسا غریب طبقہ ہے۔ شومئی قسمت کہ دسویں کی چھٹیوں کے دوران اُن کے ایک اُستاد مہاراشٹرا پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیاب ہوگئے اور افسر بن گئے۔اُنہوں نے اپنے اسی اُستاد سے رابطہ کیا اور اُن سے کہا کہ مجھے بھی افسر بننا ہے،اُس کے لئے مجھے کیا کرنا ہوگا؟اُستاد نے اس حوالے سے رہنمائی کی ۔اُس کے بعد آگے چل کر اُنہیں مہاراشٹرا پبلک سروس کمیشن کے علاوہ یوپی ایس سی کے بارے میں بھی پتہ چلا کہ اس امتحان کو پاس کرنے سے آئی اے ایس ،کلکٹر(جسے ہمارے یہاں ڈپٹی کمشنر بھی کہا جاتا ہے) وغیرہ بنتے ہیں۔چنانچہ اُنہوں نے اب یوپی ایس سی سیول سروسز میں جانے کی ٹھان لی۔بارہویں کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے پونا(Pune) چلے گئے۔کالج کے زمانے میں ہی اُنہوں نے یو پی ایس سی کی تیاری شروع کی اور ایک کوچنگ سنٹر میں داخلہ لیا۔اُس وقت اُن کی عمر فقط اُنیس سال تھی!۔ایک اُنیس سال کا لڑکا جب آئی اے ایس جیسے امتحان کی کوچنگ جوائن کریں تو اس بات کی توقع تو پہلے ہی کی جاسکتی ہے کہ بعض لوگ اُس پر ہنستے ہوں گے۔یہ ایک قیاس ہی نہیں بلکہ حقیقتاًان کے ساتھ ایسا ہوتا تھا۔پریشانی فقط اتنی ہی نہیں تھی،اُسے کوچنگ کی فیس کے طور پر ایک اچھی خاصی رقم درکار تھی اور مالی حالات تو ویسے تھے نہیں کہ اتنے پیسوں کا انتظام ہوسکے لیکن خدا کا کرم دیکھئے کہ اُس کے مالی حالات کو مدنظر رکھ کر اُس کی فیس کا ایک بڑا حصہ ادارے نے معاف کردیا۔اب غور کیجئے کہ اگر وہ اپنے حصے کا کام کرتے ہی نہیں اور غریبی کو آڑ بنا کر کسی کونے میں پڑے رہتے تو اُن کی حالت کیا ہوتی۔لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ پامردی سے ہر مشکل کا سامنا کیا۔اسی کو کہتے ہے کہ’ہمت ِ مرداں مدد خدا‘،یعنی مدد کرنے والا تو خدا ہے مگر انسان کو بھی پہلے ہمت کرنی پڑتی ہے۔ایسا نہیں کہ آپ دن بھر صوفوں اور قالینوں پر آرام سے لیٹے رہیں اور پھر شکایت کریں کہ اللہ نے میری مدد کیوں نہ کی۔خیرمسئلہ فقط کوچنگ فیس کا نہیں تھا اور بھی مسائل درپیش تھے۔اُس کی بھی سبیل نکل آئی۔ایک تو پہلے ہی اُن کا بھائی پیسے بھیجتا تھا ،دوم اُن کی والدہ بھی مزدوری کرکے اُن کو پیسے بھیجتی تھی ،مگر اس کے علاوہ اُنہیں پُونا میں ایسے دوست ملے جو اُن کی مدد کرتے تھے۔کبھی اپنی کتابیں دیتے تھے،کبھی مالی امداد کرتے تھے۔انصار نے بھی اپنے طور کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔اُنہوں نے بے مثال محنت کی۔کبھی رات دیر تک پڑھتے پڑھتے اُن کی آنکھ لگ جاتی تھی اورجب پھر بیدار ہوتے تو صبح ہوچکی ہوتی۔زیادہ پڑھائی سے اُن کی آنکھیں اور پیٹھ بھی متاثر ہوگئے۔آنکھیں تو اس قدر متاثر ہوئیں کہ عینک کے بغیر اُنہیں پھر نظر بھی نہیں آتا تھا۔اُنہوں نے یو پی ایس سی سیول سروسز کے امتحان میں شرکت کی اور اب نتائج کا انتظار تھا۔
باقی ملکوں کا تو پتہ نہیں البتہ ہمارے ہاں جب کسی امتحان خواہ وہ بچوں کے بورڈ امتحانات ہو یا پھر کوئی اور امتحان،نتائج کے بارے میں قبل از وقت اعلان نہیں کیا جاتا کہ مخصوص تاریخ پر فلاں امتحان کا نتیجہ آئے گا۔ایسی صورتحال میں بعض اوقات سوشل میڈیا کی وساطت سے غلط افواہیں بھی پھیل جاتی ہیں۔خیر انصار شیخ کو بھی کہیں سے پتہ چلا کہ نومئی کو یوپی ایس سی کے نتائج کا اعلان ہوگا۔اُن کے پاس چونکہ اپنا کمپیوٹر نہیں تھا اس لئے وہ ایک سائبر کیفے میں چلے گئے۔وہاں اُنہوں نے صبح دس بجے سے لے کر دن کے چار بجے تک انتظار کیا لیکن نتائج کا اعلان نہیں ہوا۔اس دوران اُنہوں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔جب چار بجے تک نتائج کا اعلان نہیں ہوا تو وہ واپس اپنے کمرے پر لوٹ گئے۔جب سوگئے تو نیند بھی نہیں آرہی تھی۔اگلے روز پھر کیفے پر چلے گئے،پھر انتظار کیا لیکن نتائج کا اعلان نہیں ہوا۔وہ اُٹھ کر چلے گئے ۔ابھی راستے میں ہی تھے کہ دوست کی کال موصول ہوئی ۔یو پی ایس سی کے نتائج کا اعلان ہوچکا تھا۔
سال 2012-13 میں بی اے فرسٹ ائیر(BA First Year) کی چھٹیاں چل رہی تھیں تو انصار کو کتابیں خریدنی تھیں ۔کتابیں خریدنے کے لئے اُس کے پاس پیسے نہیں تھے اور اُنہوں نے ایک پار ٹ ٹائم جاب شروع کیا۔اُس دوران اُن کی ملاقات ایک رکھشا والے سے ہوئی جو اس بات کا دعویٰ کرتے تھے کہ وہ ہاتھ دیکھ کرمستقبل/تقدیر بتاتے ہیں۔انصار اگرچہ ان چیزوں کو نہیں مانتے تھے لیکن اُنہوں نے اصرار کیا اور مفت میں دیکھنے کی پیش کش کی اور بالآخر انصار نے جب اُنہیں ہاتھ دکھایا تو اُنہوں نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ تمہیں فرسٹ کلاس(First Class)پوسٹ/ نوکری نہیں ملے گی۔اب جبکہ نتائج کا اعلان ہوچکا تھا ،یہ بات اب واضح ہونی تھی کہ کیا جوتشی کا دعویٰ صحیح تھا بھی یا نہیں۔چنانچہ انصار جب ابھی راستے میں ہی تھے تو دوست نے فون کیا اور کہا کہ ’انصار مبارک ہو‘۔جوتشی غلط ثابت ہوچکا تھااورانصار کامیاب ۔وہ اب واپس سائبر کیفے کی طرف مڑ گیا۔وہاں خود اپنا نام کا میاب طلاب کی فہرست میں دیکھا۔اُنہیں آل انڈیا رینک (All India Rank) 361 حاصل ہوئی تھی۔جوتشی کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے انصار شیخ غالبؔ سے منسوب یہ شعر کہتے ہیں تو سارا ہال تالیوں سے گونج اُٹھتا ہے؎
ہاتھوں کی لکیروں پر مت جا اے غالبؔ
نصیب تو اُن کے بھی ہوتے ہیں جن کے ہاتھ نہیں ہوتے
(مضمون جاری ہے ۔اگلی قسط انشاء اللہ اگلے ہفتہ شائع کی جائے گی)