کشمیر صدیوں سے جھیلوں، ندی نالوں اور قدرتی چشموں کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ یہاں کے چشمے صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ رہے ہیں۔ دیہات کی بستیوں سے لے کر شہروں کی آبادی تک، ہزاروں لوگ انہی قدرتی چشموں پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں ایک تشویشناک حقیقت سامنے آئی ہے۔کشمیر کے بے شمار چشمے تیزی سے سوکھ رہے ہیں۔ کہیں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے، کہیں پانی کا بہاؤ ختم ہونے کے قریب ہے اور کہیں صدیوں پرانے چشمے مکمل طور خاموش ہو چکے ہیں۔تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ2020سے2025کے درمیا ن چشموں میںنہ صرف75فیصد کمی آئی ہے بلکہ اس عرصہ کے دوران60سے65فیصد زیر زمین پانی کو بھی کھو دیا ہے۔ یہ صورتحال محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران کا پیش خیمہ ہے۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ کشمیر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور محسوس کئے جا رہے ہیں۔ برفباری میں کمی، بارش کے بدلتے پیٹرن، بڑھتا درجہ حرارت اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے قدرتی آبی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ چشمے دراصل زیر زمین پانی کے قدرتی اخراج کا نام ہیں۔ جب پہاڑوں میں برف کم پڑتی ہے یا جنگلات ختم ہوتے ہیں تو زمین کے اندر پانی ذخیرہ ہونے کا عمل متاثر ہوتا ہے، نتیجتاً چشمے خشک ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی کشمیر سے شمالی کشمیر تک کئی علاقوں میں لوگ پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس بحران کے باوجود اجتماعی سطح پر سنجیدگی ابھی تک دکھائی نہیں دے رہی۔ دیہات میں بے تحاشا تعمیرات، ندی نالوں پر تجاوزات، کنکریٹائزیشن اور آبی ذخائر کے ارد گرد غیر منصوبہ بند سرگرمیاں جاری ہیں۔ شہروں میں زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے، مگر اس کے متبادل ذخائر پیدا کرنے یا بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کی کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سرکاری سطح پر کئی اسکیموں اور منصوبوں کا اعلان ضرور کیا جاتا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بیشتر علاقوں میں لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔
کشمیر کے کئی تاریخی چشمے آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان چشموں کے ساتھ نہ صرف مقامی آبادی کی ضروریات وابستہ تھیں بلکہ سیاحت اور زراعت کا ایک پورا نظام بھی جڑا ہوا تھا۔ جب پانی کم ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اثر کھیتی باڑی پر پڑتا ہے۔ دھان کے کھیت، باغات اور سبزیوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، جس کا براہ راست اثر معیشت اور روزگار پر پڑتا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں کشمیر کو پانی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ماحولیاتی بگاڑ میں انسانی لاپروائی کا بڑا دخل ہے۔ جنگلات کی کٹائی نے پہاڑوں کی قدرتی ساخت کو نقصان پہنچایا ہے۔ ریت اور بجری نکالنے کے غیر قانونی عمل نے آبی ذخائر کو کمزور کیا ہے۔ ندی نالوں اور چشموں میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔ پلاسٹک اور گھریلو فضلہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جو مستقبل میں ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، ماہرین ماحولیات اور عوام مل کر اس مسئلے کا سنجیدگی سے حل تلاش کریں۔ سب سے پہلے چشموں کی سائنسی بنیادوں پر میپنگ ہونی چاہئے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سے چشمے خطرے میں ہیں اور ان کی بحالی کیلئے کیا اقدامات ضروری ہیں۔ جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کو ترجیح دی جانی چاہئے کیونکہ درخت ہی زیر زمین پانی کو محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے جدید نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کا ضیاع کم ہو۔ دیہی علاقوں میں روایتی آبی ذخائر کی بحالی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری بھی بے حد ضروری ہے۔ جب تک لوگ پانی کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے، کوئی بھی سرکاری منصوبہ مکمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسکولوں، کالجوں اور سماجی اداروں کو اس حوالے سے مہم چلانی چاہئے تاکہ نئی نسل کو ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت کا احساس ہو۔ میڈیا کو بھی اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر اجاگر کرنا ہوگا کیونکہ پانی کا بحران صرف دیہی یا شہری مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کا مشترکہ چیلنج ہے۔
کشمیر کی خوبصورتی صرف اس کے باغات، پہاڑوں اور جھیلوں سے نہیں بلکہ ان چشموں سے بھی وابستہ ہے جو صدیوں سے یہاں کی زندگی کو رواں رکھے ہوئے تھے۔ اگر یہ چشمے خاموش ہو گئے تو صرف پانی نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب خطرے میں پڑ جائے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو وقتی خبر یا موسمی بحث سمجھنے کے بجائے مستقل پالیسی اور اجتماعی ذمہ داری کا حصہ بنایا جائے۔ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب کشمیر کے چشمے سوکھ رہے تھے تو ہم نے انہیں بچانے کیلئے کیا کیا؟