گول// گزشتہ روز حیدر پورہ سرینگر میں مختصر جھڑپ کے دوران جہاں دیگر تین افراد لقمہ اجل بن گئے وہیں ضلع رام بن کے سیری پورہ سے تعلق رکھنے والا نوجوان محمد عامر ماگرے بھی گولیوں کا شکار ہوا اور آج صبح نو بجے سے ہی سنگلدان و ملحقہ جات میں انتظامیہ نے دفعہ 144کا نفاذ عمل میں لایا گیا تا کہ کسی جگہ پر کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ۔ اس دوران عبدالطیف ماگرے کے گھر میں رشتہ دار و عزیز و اقارب ماتم کناں تھے ۔ ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول کہ پنچائت سیری پورہ سنگلدان کے رہنے والے عبد الطیف کے گھر میں ماتم کا ماحول ہے۔انکے بیٹے عامر ماگرے کی گزشتہ دن حیدرپورہ انکاؤنٹر میں موت ہوئی تھی جسے پولیس کے مطابق ملی ٹنٹ قرار دئے جانے کے بعد لاشوں کو ورثاء کے حوالے نہیں کیا ۔علاقے میں صف ماتم بچھا ہوا ہے۔ مہلوک کے والد عبدالطیف ماگرے کو انڈین آرمی کی جانب سے کئی باراعزاز سے بھی نوازا گیا ہے۔انکے مطابق انہیں سیکورٹی بھی مہیا کرائی گئی تھی۔اپنے بیٹے کی موت پر سخت رنجیدہ ہونے کے ساتھ ایک سچے ہندوستانی کے بیٹے کو ملی ٹنٹوں کی فہرست میں شامل پائے جانے پر انکے پورے خاندان کو گہرا صدمہ پہنچا ہے جسکی تصدیق محمد عامر ماگرے کی بہن بھی کر رہی کہ انکا بھائی وہاں دفتر میں چائے بنانے کا کام کرتا تھا۔علاقے سے تعلق رکھنے والے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کونسل ضلع صدر نے بھی عبدالطیف ماگرے کے ساتھ کھڑے ہوکر حکومت و انتظامیہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور لاش کو تدفین کیلئے ورثاء کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ ضلع انتظامیہ نے احتیاطاً علاقہ فمروت سیریپورہ سنگلدان میں دفعہ 144کا نفاذ کیا ہے۔اس دوران ملحقہ جات میں حفاظتی انتظامات کو بھی سخت کر دیا گیا تھا تا کہ کسی جگہ پر کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آ سکے ۔
مہلوک نوجوان کے والد نے پولیس دعوؤں کی تردید کی | کہا 2005 میں ملی ٹنٹ کو مارنے والے باپ کو ایسے بدلے کی امید نہ تھی
تسکین
بانہال // سرینگر کے حیدر پورہ انکاؤنٹر میں مارے گئے ضلع رام بن کے سیری پورہ ، سنگلدان سب ڈویڑن گول سے تعلق رکھنے والے نوجوان کے والد نے پولیس کے اْس دعوے کی تردید کی ہے جس میں محمد عامر ماگرے کو ملی ٹنٹ قرار دیا گیا تھا۔ انہوں لاش کو واپس دینے اور اس واقع کی تحقیقات کا مطالبہ کیاہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ محمد عامر ماگرے ملی ٹنٹوں کا ساتھی تھا اور حیدر پورہ سرینگر چھڑپ میں وہ مارا گیا۔سرینگر انکائونٹر میں مارے گئے نوجوان 24 سالہ نوجوان محمد عامر ماگرے کے والد محمد لطیف ماگرے نے منگل کی رات بانہال میں کشمیر عظمی سے بات کی۔ اپنے لخت جگر کی میت لانے کیلئے عامر کا والد محمد لطیف ماگرے اپنے رشتہ داروں اور مقامی سرپنچوں کے ساتھ سرینگر گئے ہوئے تھے لیکن میت نہ ملنے کی وجہ سے وہ منگل کی رات سرینگر سے خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے تھے۔ سرینگر تصادم میں منگل کی شام مارے گئے سنگلدان کے 24 سالہ نوجوان محمد عامر کے والد محمد لطیف ماگرے ساکنہ فہمڑوت سیری پورہ سنگلدان ضلع رام بن نے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے 06 اگست 2005 میں ایک ملی ٹنٹ محمد یاسر بٹ کو پتھروں سے مار دیا تھا اور آج پولیس اور فوج نے ان کے بیٹے کو مار کر لاش کو بھی اپنی تحویل میں لیکر میرے ہندوستانی ہونے کا بدلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی ٹنٹ کو مارنے کے ردعمل میں میرے چچیرے بھائی عبدالقیوم کو بندوق برداروںنے موقع پر ہی ہلاک کیا گیا تھا جبکہ میں(محمد لطیف ) اور میری بہن رفیقہ بیگم کو گولیاں مار کر زخمی کیا گیا تھا۔ محمد لطیف ماگرے نے کہا کہ ملی ٹنٹ کو مارنے کے بعد بہادری کیلئے انہیں سابقہ گورنر این این ووہرا ، پولیس اور فوج کے ہاتھوں انعام و اعزازات سے نوازا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملی ٹنٹ کو پتھروں سے مار گرانے کے بعد وہ اپنے گاؤں سے ہجرت کرکے لاداہمپور چلے گئے اور سات سال بعد 2011 میں ہم حفاظتی حصار میں واپس اپنے گاؤں سنگلدان واپس آگئے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پولیس کے اہلکار ان کی حفاظت پر تعینات ہیں اور ان کے گھر پر حفاظت کیلئے ایک IRP پولیس پکٹ آج بھی موجود ہے۔ محمد لطیف ماگرے نے سوال کیا کہ کیا یہ میری قوم پرست ہونے اور ایک عسکریت پسند کو اپنے ہاتھوں سے مارنے کا انعام ہے؟ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اپیل ہے تاکہ ان کے خاندان کو "انصاف" فراہم کیا جائے اور ان کے بیٹے کی لاش تجہیز و تدفین کیلئے ان کے حوالے کی جائے۔ محمد لطیف ماگرے کے ہمراہ مشتاق احمد سرپنچ سیری پورہ۔سنگلدان ، محمد سلیم مْلا سابقہ سرپنچ اور مہلوک کا رشتہ دار ، محمد سلیم ملک سمیت ایک درجن کے قریب لوگ سرینگر گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر میں صدر پولیس تھانے میں انہیں بتایا گیا کہ ان کا بیٹا ایک ملی ٹنٹ تھا اور اسے دفن کیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم محمد عامر ماگرے کا صرف آدھار کارڈ ہی اس کے والد کو دکھایا گیا اور دیگر کسی بھی ساتھی اور پنچایتی نمائندوں کو یہ کارڈ بھی نہیں دکھایا گیا۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کریں اور لاش کو واپس کریں۔ انہوں نے وہاں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ ان کا بیٹا عامر کن اور کیسے حالات میں مارا گیا۔
لطیف ماگرے کیساتھ انصاف کیاجائے:امتیاز شان | جوڈیشل تحقیقات کی جائے ، لاش ورثاء کو دی جائے
زاہد بشیر
گول// پی ڈی پی کے سکریٹری امتیاز احمد شان نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ حیدر پورہ جھڑپ میں محمد عامر ولد عبدالطیف ماگرے کی ہلاکت کی جوڈیشل تحقیقات کی جائے تا کہ محمد لطیف ماگرے کے ساتھ انصاف ہو ۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک کی بہن کے ساتھ بات کی گئی تو ان کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی حیدر پورہ میں ایک کرائے کے کمرے میں رہائش پذیر تھا اور وہاں پر روزی روٹی کمانے گیا ہوا تھا اور ایک ماہ قبل ہی میں گھر واپس آئی ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ حیدر پورہ میں رہتی تھی جہاں پر اس کا بھائی محمد عامر بھی رہتا تھا اور یہ گھر آئے ہوئے تھے ۔ امتیاز شان نے کہا کہ اس واقعہ کی جوڈیشل تحقیق کی جائے تا کہ حقیقت سامنے آ جائے اور محمد لطیف کو اپنے بیٹے کی لاش حوالہ کیا جائے تا کہ وہ اس کی آخری رسومات ادا کر سکیں ۔امتیاز شان نے گورنر انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ضلع انتظامیہ سے بھی اپیل کی کہ اگر اس طرح سے بناء تحقیق کے ہی مسئلے کو دبایا گیا تو یہ نا انصافی ہو گی اس کی جوڈیشل تحقیقات کی جائے ۔