ڈوڈہ// گزشتہ روز گندو بھلیسہ کے علاقہ ہالور میں گیس سلینڈر پھٹنے کی وجہ سے بْری طرح جھلسے سات افراد آگ میں جھلس گئے تھے۔اور زخمی افراد کو علاج معالجہ کے لئے گندو ہسپتال لے جایا گیا۔اور زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے سبب انہیں ضلع ہسپتال ڈوڈہ منتقل کیا گیا تو پوری رات گزارنے کے بعد بھی کسی نے بھی اْن کا علاج معالجہ نہ کیا صبح جبکہ علاج نہ ملنے کی صورت میں متاثرین نے احتجاج کے طور پر متاثرہ افراد کو ضلع ترقیاتی کمشنر کے دفتر لے جایا گیا۔اس دوران ہسپتال کا کوئی بھی عملہ اْن کا حال جاننے کی زحمت نہ کر سکا اس دوران ایک گھنٹہ تک بیچ سڑک میں دھرنا دیا گیا سینکڑوں لوگوں نے احتجاج کرکے ضلع انتظامیہ اور ریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔اور ضلع انتظامیہ میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی باصلاحیت اور تجربہ کار شخص کو ڈی سی ڈوڈہ تعینات کرنے کا مطالبہ کیا۔آگ سے بری طرح جھلسے افراد ایک گھنٹے تک بیچ سڑک پر پڑے رہے لیکن بدقسمتی سے ایک گھنٹے تک کا وقت گزر جانے کے بعد بھی آگ سے جھلسے افراد کو واپس ہسپتال لینے کے لئے ا یمبولینس کا انتظام نہ ہو سکا۔اس دوران گاڑیوں کی نقل و حمل گھنٹوں تک بند رہی اور پورے قصبہ میں ٹریفک بند ہو گیا۔بعد میں پولیس نے اپنی گاڑیوں میں سلینڈر سے جھلسے متاثرین کو ہسپتال پہنچایا گیا۔جہاں اْن کا علاج جاری ہے۔اس دوران ضلع ترقیاتی کمشنر دفتر کے سامنے زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی اور سٹریچر پر لٹائے زخمیوں کو لے کر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔سماج کے مختلف سیاسی و سماجی طبقوں نے ضلع انتظامیہ ڈوڈہ اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید الفاظ میں ناراضگی کا اظہار کیا ہے اْنہوں نے کہا کہ پوری رات ان متاثرہ لوگوں کا علاج نہ کیا گیا جو سراسر انسانیت سوز ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے اْنہوں نے مزید بتایا کہ اس پورے معاملہ میں قصوروار ملازمین کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔اور اگر انتظامیہ نے ایسا نہ کیا تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا جس کی ذمہ دار خودضلع انتظامیہ ہو گی۔