۔10دسمبر تک سبھی ٹریفک لائٹس کی تنصیب یقینی بنانے کا حکم
سرینگر//صوبائی کمشنر کشمیر انشول گرگ نے ہفتے کے روز کہا کہ سرینگر شہر میں ٹریفک نظم و نسق اور شہری نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے ایک ہمہ جہتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔نئی کمیٹی میں تمام اہم محکموں کو شامل کیا گیا ہے جن میں سرینگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ، سرینگر میونسپل کارپوریشن، سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، پولیس محکمہ، ایس ایس پی ٹریفک، آر اینڈ بی اور ٹرانسپورٹ محکمہ سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہمارا فوکس مشترکہ منصوبہ بندی پر ہے تاکہ ٹریفک کی نقل و حرکت ہموار، مؤثر اور منظم ہو سکے۔‘‘کمشنر نے اس عمل میں مقامی اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ صرف انفراسٹرکچر کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی شراکت داری بھی ضروری ہے۔ ہم مقامی شہریوں، ریہڑی والوں، دکانداروں، تجارتی انجمنوں اور ٹرانسپورٹروں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں تاکہ زمینی سطح پر قابلِ عمل منصوبہ تیار ہو سکے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت کئی اقدامات جاری ہیں جن میں انٹیگریٹڈ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (ITMS)، جدید ٹریفک لائٹس کی تنصیب، منظم پارکنگ مقامات کی تیاری اور گنجان علاقوں میں ملٹی لیول پارکنگ کی تعمیر شامل ہے۔انھوں نے کہا ’’ہم اہم چوراہوں اور روٹریز میں بہتری لانے پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ ٹریفک نظام مزید بہتر ہو۔کمشنر نے مزید بتایا کہ شہر بھر میں تقریباً 350 مخصوص بس اسٹاپس کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ عوامی ٹرانسپورٹ کو منظم کیا جا سکے۔ ’’انتظامیہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور جلد ہی بسیں صرف انہی مقررہ مقامات پر رکیں گی جس سے سڑکوں پر بے ترتیبی میں کمی آئے گی۔انہوںنے کہا کہ10دسمبر تک شہر کے سبھی ٹریفک جنکشنوں پر ٹریفک سگنلوںکی تنصیب یقینی بنانے کا حکم دیاگیا ہے۔اس دوران ڈویژنل کمشنر نے شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا تاکہ ٹریفک کی رکاوٹوں کا جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ کوششوں کا مقصد گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں دونوں کی آمدو رفت کو بآسانی ممکن بنانا ہے۔ انھوں نے کہا تجارتی انجمن، ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن اور مقامی اداروں کے نمائندوں نے بھی مشاورت میں حصہ لیا۔ اُن کی تجاویز ایک بہتر، جامع اور پائیدار نظام کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ’’سرینگر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل المدتی انفراسٹرکچر کی بھی ضرورت ہے۔ گرگ کا کہنا تھا کہ ہم ایک مربوط اور ڈیٹا پر مبنی حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں تاکہ شہر کو ڈی کنجیسٹ کیا جا سکے اور اسے زیادہ مؤثر، مسافر دوست اور پائیدار بنایا جا سکے۔‘‘