عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے شوپیاں میں منعقدہ ‘کتھ باتھ’ عوامی رابطہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کو سرکاری اداروں اور انتظامی ڈھانچے سے بتدریج الگ کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عوام شدید دشواریوں سے دوچار ہیں۔محبوبہ مفتی نے منشیات فروشی کے خلاف سخت کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نشہ آور اشیاء کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف مقدمات درج کرنا ناگزیر ہے، تاہم گھریلو استعمال کے لیے پوست رکھنے والے عام شہریوں کو پولیس کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری دفاتر اور انتظامیہ میں کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ ان کے بقول اعلیٰ اور نچلے درجے کے سرکاری محکموں میں مقامی ملازمین کی کمی کے باعث عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔راہل گاندھی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا کہ سال 2014 کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی ہر اختلافِ رائے رکھنے والے فرد کو ’’غدار‘‘ قرار دیتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کے مکانات پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘کتھ باتھ’ پروگرام کا مقصد عوام سے براہِ راست رابطہ قائم کرنا اور ان کے مسائل و خدشات کو قریب سے سمجھنا ہے۔