سرینگر// محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ جن ملازمین کو سرکاری رہائشی سہولیات دستیاب ہیں، انہیں کسی بھی صورت میں’’رہائشی کرایہ الائونس‘‘(ایچ آراے) فراہم نہیں کیا جائے گا، اور اگر کسی ملازم کو یہ الائونس غلط طریقے سے دیا گیا ہے اس سے وہ وصول کیا جائے گا۔ سرکاری ملازمین کو حکومت کی جانب سے رہائشی سہولیات کے علاوہ رہائشی کرایہ الائونس(HRA) فراہم کرنے پر تمام انتظامی افسران کو متوجہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے’’اس بات کی وضاحت کی جاتی ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم ،جس کو حکومت کی جانب سے سرکاری رہائش کی سہولیت میسر ہیں، یا اس کے پاس کوئی سرکاری رہائشی سہولیات دستیاب ہیںایسے ملازمین رہائشی کرایہ الائونس(ایچ آراے) کے حق دار نہیں،بشرطیکہ واضح طور پرکسی بھی حکم یا ضابطہ کے ذریعہ وہ فراہم کردہ نہیں ہو‘‘۔فائنانشل کمشنر محکمہ خزانہ ڈاکٹر ارکن کمار مہتہ کی جانب سے جاری سرکیولر میں کہا گیا ہے’’ جہاں تک منتقل ہونے والے ملازمین کا تعلق ہے انکا’’ ایچ آر اے‘‘ زیر سرکاری آرڈر نمبر1376-GAD of 1998محررہ23اکتوبر1998 کے ماتحت ہے۔مزید یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی رقم کی صورت میںایسے سرکاری ملازم کو ’’ ہاوس رینٹ الائونس‘‘ کی ادائیگی کی گئی ہے جو کسی سرکاری جگہ رہائش پذیر ہے، اس سے وہ رقم فوری طور پر وصول کی جائے گی۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین، جنہیں اسٹیٹس کے ذریعہ سرکاری رہائش فراہم کی گئی ہے ،دوسرے محکموں جیسے آر اینڈ بی ، محکمہ سیاحت ، جنگلات وغیرہ کواس رہائش کا کرایہ ادا کرنا ہوگا۔تمام انتظامی سکریٹریوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ تنخواہ واگذار کرنے والے افسران کو ہدایت دی جائے کہ اگر کسی ملازم کو غلط طریقے سے رہائشی کرایہ الاونس دیا گیا ہے،جس کے پاس سرکاری رہائش سہولیات ہو،اس سے وہ واپس لیا جائے۔مزید کہا گیا ہے کہ اگر رہایشی سہولیات کے قوانین میں خلاف ورزی کی گئی ہو،تو یہ رہائشی کرایہ کی کٹوتی ملازم کے تنخواہ سے کی جائے۔