ملک منظور
سحر اس دن غیر معمولی طور پر دیر سے جاگی۔ آنکھ کھلتے ہی دل پر ایک نامعلوم بوجھ سا محسوس ہوا، جیسے ہوا میں کچھ بکھر گیا ہو۔ وہ اٹھی، دروازہ کھولا اور باہر نکلی تو قدم خود بخود رک گئے۔لوگ چل پھر رہے تھے، مگر ان کے قدموں میں جان نہیں تھی۔ سڑکیں وہی تھیں، گھر وہی، مگر دنیا… وہ دنیا نہ رہی تھی جسے سحر جانتی تھی۔ وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔ یہ کوئی عام صبح نہ تھی، یہ کسی اندرونی تباہی کی پہلی دستک تھی۔باہر کی دنیا موجود تو تھی، مگر اس کے معنی غائب ہو چکے تھے۔ آسمان تھا، مگر اس میں سوالوں کی گہرائی نہ تھی۔ زمین تھی، مگر احساس کی حرارت سے خالی۔ سمندر کی لہریں اٹھ رہی تھیں، مگر ان کی گہرائی خاموش اور بے جان۔ہر چیز سرمئی تھی، نہ اس لئے کہ رنگ مٹ گئے تھے بلکہ اس لئے کہ فرق ختم ہو چکا تھا اور جب فرق مٹ جائے تو حسن بھی مر جاتا ہے۔ سچ اور جھوٹ، خوبصورت اور بدنما، امید اور خوف، سب ایک ہی سرمئی وزن میں تولے جا رہے تھے۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جہاں توازن تو تھا، مگر روح غائب۔سورج طلوع ہو رہا تھا، مگر اس کی روشنی میں گرمی نہ تھی۔ درخت کھڑے تھے، مگر ان کی پتیوں میں زندگی کی ہلچل نہیں تھی۔ پرندے اڑ رہے تھے، مگر ان کے پروں میں چمک غائب۔ دنیا زندہ تھی، مگر سانس نہیں لے رہی تھی۔لوگ سڑکوں پر چل رہے تھے مگر ان کی آنکھوں میں حیرت کے سوا کچھ نہ تھا۔ نہ ہنسی، نہ آنسو، بس ایک مشینی ترتیب میں آگے بڑھتے جا رہے تھے، جیسے جذبات کوئی پرانی، بھولی بسری کہانی بن چکے ہوں۔سحر کا دل کانپ اٹھا۔ وہ دوڑی دوڑی اپنے طلسماتی کھودے ٹک ٹک کے پاس پہنچی۔”ٹک ٹک! دنیا کو کیا ہو گیا؟” اس کی آواز گھبراہٹ سے لرز رہی تھی۔ٹک ٹک نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر آہستہ سے بولا: “یہ کسی عام طاقت کا کام نہیں۔ میرے خیال میں… رنگ چوری ہو گئے ہیں۔””چوری؟” سحر نے حیرت سے پوچھا۔”ہاں،” ٹک ٹک نے سر جھکا کر کہا۔ “کہتے ہیں ایک جادوگر ہے جس کے پاس جادوئی شیشہ ہے۔ وہ روشنی کو قید کر سکتا ہے اور روشنی کے ساتھ رنگ بھی۔ وہ دنیا کو بے رنگ دیکھنا چاہتا ہے، بری نیت سےنہیں بلکہ انسانوں کو رنگوں کی اصل قدر سمجھانے کے لئے۔”
“کیا دنیا مر رہی ہے؟”
ٹک ٹک نے جواب دیا: “نہیں۔ دنیا سوچنا چھوڑ چکی ہے۔”اس نے مزید بتایا کہ یہ جادوگر روشنی کا محافظ ہے۔ وہ رنگ چراتا نہیں، واپس لے لیتا ہے۔ کیونکہ رنگ طاقت ہیں اور طاقت ہمیشہ سوال مانگتی ہے۔ جادوگر انسانوں کے اپنے خوف سے پیدا ہوا تھا۔
سرخ رنگ کے بغیر دنیا جذبہ عقل سے آزاد ہو کر وحشی بن گئی تھی۔
نیلے کے بغیر دنیا سکون سے عاری اور بے حس بن گئی تھی۔
پیلے کے بغیر مقصد سے خالی ایک شور شرابا۔
سبز کے بغیر سچ دب گیا تھا۔
جامنی کے بغیر خواب حقیقت سے کٹ کرفریب بن گئے تھے۔
جادوگر نے رنگ قید کئے کیونکہ انسان انہیں سمجھنے کے بجائے صرف استعمال کرنے لگے تھے۔سحر کے دل میں تجسس اور خوف ایک ساتھ ابل پڑے۔ “وہ جادوگر کہاں ملے گا؟”ٹک ٹک نے دھیمی آواز میں کہا: “سرمئی دنیا کے آخری کنارے پر، ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر قدیم مینار ہے۔ کوئی وہاں جا کر واپس نہیں آیا… یا شاید ہمت ہی نہ کر سکا۔”اسی لمحے سحر نے فیصلہ کر لیا۔ اگر رنگ نہ لوٹے تو دنیا واقعی مر جائے گی۔سفر آسان نہ تھا۔ یہ فاصلوں کا سفر نہ تھابلکہ شعور کی بلندیوں کا سفر تھا۔ راستے خاموش، ہوائیں ٹھنڈی اور ہر قدم کے ساتھ اندیشے گہرے ہوتے جاتے۔ آخر کار وہ مینار تک پہنچی۔ ایک سیاہ، خاموش عمارت جو بادلوں کو چیرتی کھڑی تھی۔مینار کی واحد کھڑکی پر تالا تھا۔ ایسا تالا جو صرف چمکتی روشنی سے کھل سکتا تھا، عقل کا تالا، احساس کی چابی۔ سرمئی روشنی اسے نہیں کھول سکتی تھی، کیونکہ بے حسی کبھی دروازے نہیں کھولتی۔سحر نے آنکھیں بند کیں اور دل سے پہلا سچ نکالا: “میں دنیا کو جیسا ہے ویسا قبول کرنے سے ڈرتی ہوں۔”دروازہ کھل گیا۔اندر جادوگر بیٹھا تھا۔ اس نے پوچھا: “کیا تم جانتی ہو، رنگ لوٹانے کا مطلب کیا ہے؟”سحر نے مضبوطی سے کہا: “ہاں۔ انتخاب، اور انتخاب کا مطلب ذمہ داری۔”جادوگر مسکرایا، صدیوں بعد کسی نے آسان خوشی نہیں مانگی تھی۔وہ بولا: “رنگ صرف خوبصورتی نہیں لاتے۔ حسد، نفرت، جنگ، لالچ بھی لاتے ہیں۔ انسانوں نے رنگوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کو تقسیم کرنا شروع کر دیا تھا۔ میں نے روک دیا… تاکہ وہ سوچیں۔”سحر نے قدم آگے بڑھایا: “مگر رنگوں کے بغیر ہم خود کو کھو بیٹھے ہیں۔ ہم روشنی اور اندھیرے دونوں کے ساتھ جینا سیکھ سکتے ہیں۔”خاموشی چھا گئی۔ پھر جادوگر نے مسکرا کر ایک پیلیٹ سحر کے ہاتھ میں تھما دی۔ “یاد رکھو، ایک بار لوٹائے تو واپس نہیں لئے جا سکیں گے۔”سحر نے پیلیٹ اٹھائی اور برش سرخ رنگ میں ڈبویا۔ جیسے ہی اس نے پھیلایا، دنیا نے جذبہ پایا اور ساتھ تصادم بھی۔
نیلا پھیلا تو سکون لوٹا مگر تنہائی بھی۔
سبز آیا تو زندگی بڑھی اور لالچ بھی۔
پیلا آیا تو ہنسی لوٹی مگر شور بھی۔
جامنی پھیلا تو خواب جاگے مگر فریب کا خطرہ بھی۔لیکن اب انسان بے خبر نہ تھے۔ وہ جان چکے تھے کہ ہر رنگ کے ساتھ ایک سایہ ہوتا ہے۔پھول شعلوں کی طرح کھل اٹھے، دلوں میں جذبہ دوڑ گیا۔ ہنسی لوٹی، سکون ملا، زندگی نے سانس لی، خواب جاگ اٹھے۔ لوگ ہنسے بھی، روئے بھی۔ محبت ہوئی، نفرت بھی۔ مگر اب وہ واقعی محسوس کر رہے تھے۔واپسی پر سحر نے سوچا: “اب سمجھ آئی۔ رنگ ہمیں کامل نہیں بناتے، مگر سچے ضرور بنا دیتے ہیں۔”جادوگر نے آخری بار کہا: “اور یہی کافی ہے۔”مینار کے دروازے بند ہو گئے۔ پیلیٹ خالی تھی۔
اور دنیا… رنگوں سے بھرپور، خوبصورت لیکن نامکمل۔
���
قصبہ کھل کولگام ، کشمیر
موبائل نمبر؛9906598163