عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// وادی کشمیر میں جہاں اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن سیاحوں کی بڑی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، وہیں سرسوں کے کھلے کھیتوں نے بھی سیاحتی سیزن کو ایک نئی خوبصورتی عطا کر دی ہے۔ وادی بھر میں زرد رنگ میں رنگے یہ کھیت سیاحوں کے لیے ایک دلکش منظر پیش کر رہے ہیں۔جنوبی کشمیر کے پہلگام سے لے کر گلمرگ اور سونہ مرگ کی وادیوں تک اور سرینگرپہلگام شاہراہ کے اطراف سمیت ضلع گاندربل کے مختلف علاقوں میں سرسوں کے کھیت پوری طرح کھل چکے ہیں، جنہوں نے دیہی مناظر کو ایک حسین نظارے میں بدل دیا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں سیاح ان مقامات پر رک کر نہ صرف قدرتی حسن سے لطف اندوز ہو رہے ہیں بلکہ تصاویر بھی بنا رہے ہیں اور دیہی زندگی کا قریب سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔
سیاحوں کا کہنا ہے کہ زرد کھیتوں، سبزہ زاروں اور برف پوش پہاڑوں کا امتزاج ایک نایاب منظر پیش کرتا ہے۔ بعض سیاحوں نے ان مناظر کا موازنہ یورپی ممالک سے کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظارے سوئٹزرلینڈ جیسے محسوس ہوتے ہیں۔زرعی ماہرین کے مطابق سرسوں کی فصل ستمبر اور اکتوبر میں کاشت کی جاتی ہے اور موسم سرما کے بعد درجہ حرارت بڑھنے پر اس میں پھول آنا شروع ہو جاتے ہیں، جبکہ مئی کے آخر تک اس کی کٹائی مکمل ہو جاتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بہتر منافع اور مارکیٹ میں طلب کے باعث مختلف اضلاع میں سرسوں کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ فصل خطے کی معیشت کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔کاشتکاروں کے مطابق اس سال موسم کی سازگار صورتحال خاص طور پر سردیوں میں مناسب برفباری اور بروقت بارشوںنے فصل کی حالت کو بہتر بنایا ہے۔ کسانوں کو اس بار اچھی پیداوار کی امید ہے۔ٹیولپ اور سرسوں کے بیک وقت کھلنے سے کشمیر کی بہار کو دوہری خوبصورتی ملی ہے، جس سے ایک طرف سیاحت کو فروغ مل رہا ہے اور دوسری جانب کسانوں کے لیے بھی بہتر فصل کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔