دہرہ کی گلی میں چار انچ تک برف ریکارڈ، انتظامیہ کی مسافروں کو احتیاط برتنے کی ہدایت
سمت بھارگو
راجوری// جموں و کشمیر کے سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کے بالائی علاقوں میں منگل کی شام تازہ برف باری ہوئی، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں مزید کمی واقع ہوئی اور سردی کی لہر میں شدت آ گئی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق راجوری کے اونچے مقامات اور ہمسایہ ضلع پونچھ کے پہاڑی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی برف باری کا سلسلہ شروع ہوا جو آخری اطلاعات موصول ہونے تک جاری تھا۔اس تازہ برف باری نے پہلے ہی سرد موسم کی لپیٹ میں آئے خطے میں سردی کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ برف باری کے بعد سرد ہواؤں میں اضافہ ہو گیا ہے اور رات کے وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب پہنچ رہا ہے۔حکام کے مطابق برف باری کے باعث بعض بالائی سڑکوں پر پھسلن پیدا ہو گئی ہے اور چند حساس مقامات پر عارضی بندش کا خدشہ بھی ہے، تاہم فی الحال کسی بڑے خلل کی اطلاع نہیں ملی۔ انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ خصوصاً بلند مقامات پر سفر کے دوران انتہائی احتیاط سے کام لیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔راجوری اور پونچھ اضلاع کی سرحد پر واقع دہرہ کی گلی میں دیر شام تک دو سے چار انچ تک برف ریکارڈ کی گئی، جبکہ آخری اطلاعات تک ہلکی برف باری جاری تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں سردی پہلے ہی شدید رہتی ہے اور تازہ برف باری نے موسم کو مزید سخت بنا دیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی بالائی علاقوں میں سردی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے اور وقفے وقفے سے ہلکی برف باری ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔دوسری جانب شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ برف باری کے دوران بجلی اور پانی کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے اور برف ہٹانے کیلئے مشینری کو حساس مقامات پر پہلے سے تعینات رکھا جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرحدی اور پہاڑی علاقوں میں موسم کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی انتظامات نہایت ضروری ہیں تاکہ لوگوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔تازہ برف باری کے بعد راجوری اور پونچھ کے باشندے آئندہ دنوں میں مزید سخت موسم کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے بھی مسلسل نگرانی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔