محمد حنیف
ہر سال جب خزاں رخصت ہوتی ہے اور چنار کے پتے زمین پر بچھ جاتے ہیں، کشمیر ایک طویل خاموش سردی کے موسم کے لیے تیار ہونے لگتا ہے۔ یہاں سردی جلد آتی ہے اور دیر تک ٹھہری رہتی ہے۔ گھروں کی چھتوں پر برف جمنا شروع ہوجاتی ہے، سڑکوں پر کہرا اور پالا بیٹھ جاتا ہے اور زندگی کا معمول موسم کی سختیوں کے تابع ہوجاتا ہے۔ مگر بچوں کی تعلیم وہ چیز ہے جو موسموں کے بدلنے سے رُک نہیں سکتی۔ کشمیر کی شدید سردیوں میں بچوں کی تعلیم کو جاری رکھنا ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے،ایسا چیلنج جو صرف موسم تک محدود نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے، گھریلو معاشی صورتحال، ڈیجیٹل سہولیات اور نجی اسکولوں کی اجارہ داری جیسے مسائل سے بھی جڑا ہوا ہے۔
روایتی طور پر وادی میں موسمِ سرما کی تعطیلات طویل ہوتی ہیں۔ اسکول دو یا اس سے زیادہ مہینوں کے لیے بند رہتے ہیں تاکہ بچوں کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ کلاس روم سرد ہو جاتے ہیں، راستے خطرناک بن جاتے ہیں اور ٹرانسپورٹ کا نظام غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ضروری ہے، مگر اس کے نتیجے میں طلبہ کے تعلیمی تسلسل میں رکاوٹ آتی ہے۔ چھوٹے بچے خاص طور پر پڑھائی سے دور ہو جاتے ہیں اور اسکول دوبارہ کھلنے پر انہیں دوبارہ توجہ مرکوز کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے بچوں کے لیے یہ تعلیمی خلا مزید بڑھ جاتا ہے، جہاں اضافی مدد کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔
سردیوں کا موسم جسمانی طور پر بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ شدید برفباری کئی دنوں تک سڑکوں کو بند رکھتی ہے، بعض علاقوں کو مکمل طور پر منقطع کر دیتی ہے۔ گریز، کرناہ اور جنوبی کشمیر کے کچھ پہاڑی علاقوں میں سردیوں میں اسکول جانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ شہروں کے اندر بھی پھسلن اور یخ بستہ درجہ حرارت اسکول جانے کو خطرناک بنادیتے ہیں۔ گھروں کے اندر اگرچہ لوگ بُخاری یا کانگی کا استعمال کرتے ہیں، مگر ہر گھر میں بچوں کے لیے مناسب مطالعے کا ماحول ممکن نہیں۔ بجلی کی مسلسل آنکھ مچولی، دھندلا ماحول اور طویل سرد راتیں بچوں کی پڑھائی پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں وادی نے سردیوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی دیکھی ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے وسیع استعمال نے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان رابطے کے نئے راستے کھولے ہیں۔ واٹس ایپ گروپس، ریکارڈ شدہ اسباق اور ڈیجیٹل ورک شیٹس سردیوں میں بہت سے بچوں کا معمول بن چکی ہیں۔ اگرچہ یہ طریقے باقاعدہ کلاس روم کا مکمل متبادل نہیں، مگر وہ پڑھائی کا سلسلہ برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم یہ سہولت ہر گھر تک نہیں پہنچ پاتی۔ بعض گھرانوں میں اسمارٹ فون نہیں ہوتے یا ایک ہی فون کئی بچوں کے درمیان مشترک ہوتا ہے۔ برفباری کے دوران انٹرنیٹ کی سست رفتار بھی آن لائن تعلیم کی راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
کمیونٹی کی سطح پر چلنے والی کوششیں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کئی محلوں میں مقامی رضاکار گرم کمروں میں چھوٹے مطالعہ مراکز بناتے ہیں جہاں بچے باری کے پاس بیٹھ کر پڑھتے ہیں، سبق دہراتے ہیں اور بڑے طلبہ یا مقامی اساتذہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ مراکز اسکولوں کا متبادل نہیں، لیکن ان کے ذریعے بچوں کو گرم ماحول، باقاعدگی اور ذہنی سکون ملتا ہے، جو سردیوں میں بہت ضروری ہیں۔
بچوں کی جذباتی صحت بھی سردیوں کی تعلیم میں اہمیت رکھتی ہے۔ جب بچے طویل عرصے تک گھروں میں محدود ہو جائیں تو بے چینی، بوریت یا ذہنی تھکاوٹ انہیں پریشان کرسکتی ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سردیوں کے دوران بچوں کے لیے تخلیقی سرگرمیاں، کہانیاں، گھریلو کھیل اور خاندانی وقت کو معمول کا حصہ بنایا جائے تاکہ ان کا ذہنی توازن برقرار رہے۔
مگر ان تمام موسمی اور گھریلو مشکلات سے بڑھ کر ایک اور بڑا مسئلہ ہے جو کشمیر کے تعلیمی نظام پر سایہ ڈالے ہوئے ہے،نجی اسکولوں کی فیسوں میں سالانہ اضافہ اور ان کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری۔ نجی اسکولوں نے پچھلے برسوں میں تیزی سے ترقی کی ہے، خاص طور پر سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کے سبب والدین نجی اداروں کی طرف زیادہ مائل ہوئے۔ مگر اس تیز رفتار ترقی نے نجی اسکولوں کو بے تحاشہ اختیار بھی دے دیا ہے۔
ہر تعلیمی سال فیسوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ چارجز میں اضافہ اور مختلف عنوانات سے منسلک سالانہ چارجز والدین کے لیے بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔ والدین کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث یہ ہے کہ فیسوں میں اضافہ اُس وقت بھی جاری رہتا ہے جب اسکول سردیوں میں بند ہوں، بسیں نہ چل رہی ہوں یا بچوں کی کلاسز آن لائن ہو رہی ہوں۔ برفباری کے دوران کئی ہفتوں تک بسیں غیر فعال رہتی ہیں مگر ٹرانسپورٹ فیس پوری وصول کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مخصوص دکانداروں سے مہنگی کتابیں اور یونیفارم خریدنے کا دباؤ بھی والدین پر بڑھ جاتا ہے۔
متوسط طبقے اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے یہ صورتحال پریشان کن ہے۔ فیسوں کا مسلسل بڑھنا گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے۔ کچھ والدین بچوں کو کم معیار کے اسکولوں میں منتقل کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے بچوں کی ذہنی اور تعلیمی دونوں سطحوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کی انجمنیں نجی اسکولوں کی فیسوں کے حوالے سے سخت ریگولیشن کا مطالبہ کرتی ہیں۔
اگرچہ حکومت نے سردیوں میں پڑھائی کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں،جیسے بورڈ کلاسوں کے لیے اضافی ورک شیٹس، ونٹر ٹیوٹوریلزاور ڈیجیٹل کلاسز—مگر نجی اسکولوں کی فیسوں کے بارے میں کوئی مؤثر پالیسی اب بھی کمی محسوس کرتی ہے۔
ان تمام مشکلات کے باوجود سردی کا موسم تعلیم کے لیے نئے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ موسم وادی کی ثقافتی روایات سے بھرا ہوتا ہے۔ خاندان بُخاری کے گرد جمع ہوکر کہانیاں سنتے ہیں، بچے برف سے کھیلتے ہیں اور گھروں میں کئی سرگرمیاں تعلیمی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ سردی کا ماحول بچوں میں مشاہدہ، سوال کرنے اور سیکھنے کی نئی خواہش پیدا کرتا ہے۔
آخرکار سردیوں کی تعلیم صرف کتابی سیکھنے کا نام نہیں بلکہ برداشت، مطابقت اور مشترکہ کوشش کا سفر ہے۔ والدین، اساتذہ، کمیونٹیز اور بچےسب مل کر اس سفر کا اہم حصہ ہیں۔ وادی کے لیے یہ ضروری ہے کہ تعلیم سرد موسم میں بھی قابلِ رسائی رہے اور مالی بوجھ والدین پر حد سے زیادہ نہ پڑے۔تعلیم کا یہ سفر سردیوں میں بھی جاری رہنا چاہیے تاکہ کشمیر کے بچے ہر موسم میں روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔
[email protected]