کپوارہ//اشرف چراغ // کپوارہ میں قائم سب ضلع اسپتال میں طبی سہولیات کا فقدان اور طبی اور نیم طبی عملہ کی من مانی کے خلاف سول سوسائٹی اور بیو پار منڈل کپوارہ کے علاوہ سراپااحتجاج ڈی ڈی سی ممبران نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال میں 10سال سے تعینات ملازمین کا تبادلہ عمل میں لایا جائے بصورت دیگر وہ زور دار احتجاجی مہم چھیڑ دیں گے ۔سول سوسائٹی کے کنونیئر اور بیو پار منڈل کے صدر شوکت مسعودی نے جمعرات کو نامہ نگارو ں سے بات چیت کے دوران الزام لگایا کہ سب ضلع اسپتال کپوارہ میں طبی سہو لیات کا فقدان پایا جارہا ہے جبکہ اسپتال کا انتظامی نظام در برہم ہو کر رہ گیا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ سب ضلع اسپتال میں ملازمین کی من مانی سے یہا ں مریض دن بھر پریشان رہتے ہیں کیونکہ انہیں بہتر طبی سہولیات مسیر نہیں ہو تی ۔شوکت مسعودی نے کہا کہ سب ضلع اسپتال اس سرحدی ضلع کے لوگو ں کی واحد اُمید ہے کہ یہا ں پر آکر انہیں بہتر طبی سہولیات میسر ہو ںگی لیکن زمینی سطح پر مذکورہ اسپتال کی کار کر دگی صفر ہے اور انتظامیہ کے دعوے کھوکھلے اور جھو ٹ کا پلندہ ہیں ۔سول سوسائٹی کے کنونیئر اور بیو پار منڈل کے صدر شوکت مسعودی کا مزید کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی ناکامی اور غفلت شعاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسپتال میں گزشتہ20سال سے ملازمین کاتبادلہ عمل میں نہیں لایا گیا جس کی وجہ سے اسپتال میں مافیا کا ایک گروپ بنا ہوا ہے جو اسپتال کا کام کاج چلانے میں بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں اور ان کی من مانی سے پورے اسپتال کا نظام در برہم ہو کر رہ جاتا ہے ۔انہو ں نے الزام لگایا کہ اسپتال میں مریضوں کے ساتھ نا انصافی کی جاتی ہے جس کے باعث مریض کسی دوسرے اسپتال کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنو ں ہایہامہ علاقہ سے درد ذہ میں مبتلا ایک خاتون جب اسپتال پہنچ گئی تو انہیں داخلہ کارڈ دیکر وارڈ میں بھیج دیا گیا تاہم 4بجے تک کوئی بھی ڈاکٹر درد ذہ میں مبتلا خاتو ن کا علاج و معالجہ کرنے کے لئے نہیں آیا جو ایک افسوس ناک واقعہ ہے اور ایسے کئی معاملات آج تک پیش آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسپتال میں تعینات طبی اور نیم طبی عملہ کو مریضو ں کو علاج و معالجہ کرنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں ہے جس کی وجہ سے اسپتال میں آئے روز مریضوں کو معمولی علاج کے لئے ہندوارہ یا سرینگر منتقل کیاجاتاہے ۔سول سوسائٹی اور بیو پار منڈل کے علاوہ میونسپل کمیٹی کے ممبران اور چند ڈی ڈی سی ممبران نے مشترکہ طور کہا کہ اگر انتظامیہ سب ضلع اسپتال کی موجودہ نا قص کا رکردگی کی طرف توجہ نہیں دے گا تو وہ زور داراحتجاجی مہم چھیڑ دیں گے جبکہ10برس سے تعینات طبی اور نیم طبی عملہ کا تبادلہ فوری طور عمل میں لایاجائے تاکہ اس اسپتال کی حالت سدھر جائے ۔