آٹھمئی کو سمبل میں جو جگر سوز واقعہ رونما ہوا وہ عالم انسانیت کا عظیم المیہ ہے لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ شرمناک سانحہ شیخ نورالدین نورانی ؒ، لل عارفہ ، شیخ حمزہ مخدوم ، غنی کشمیری اور ہزاروں ایسے عظیم خدا شناس صوفیوں ، رشیوں اور منیوں کی سرزمین میں ہوا جنہوں نے انسانوں کو تہذیبی اور اخلاقی بلندیوں کی اس سطح تک پہونچایا تھا کہ کسی بھیانک مجرمانہ فعل کے سرزد ہونے کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ایسا نہیںتھا کہ اس سرزمین پر برائیوں کا کوئی نام و نشاں نہیں تھا لیکن انسان اس حد تک بھی گرسکتا ہے اس کا کوئی تصور بھی موجود نہیں تھا ۔یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کی خبر پھیلتے ہی دلوں میں آگ بھڑک اٹھی اور لوگ سڑکوں پر آکر مجرم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کرنے لگے ۔تیرہ مئی کو مظاہروں کے دوران فورسز اہلکاروں سمیت ستر کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں پیلٹ سے زخمی ہونے والوں کی بھی اچھی خاصی تعدا د ہے ۔یہ غم و غصہ فطری بھی ہے اور جائز بھی لیکن یہی وہ نازک اور حساس مواقع ہوتے ہیں جب جوش کے ساتھ ہوش کی زیاد ہ ضرورت ہوتی ہے ۔قیادت اسی لئے ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر عوام کے بپھرے جذبات کو قابو میں بھی رکھے اور اسے صحیح راستہ بھی دکھائے لیکن کشمیر کی بدقسمتی ہے کہ کسی قیادت کا عوام پر کوئی قابو نہیں ۔ ہجوم جب جو چاہیں کرتے ہیںاور قیادت ہر اچھی بری حرکت کو قبولیت بخشتی ہے ۔بری حرکت کو رد کرنے کاحوصلہ اس میں بالکل نہیں۔ غالباً اسے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے خلاف بھی بغاوت کا لاوا نہ پھوٹ پڑے۔قیادت کی اسی کمزوری نے تشدد کے رحجان کوجائز اور معتبر بنادیا ہے ۔حالانکہ کشمیر میں مجموعی طور پر جو حالات ہیں وہ اس بات کا تقاضا کررہے ہیں کہ ہر صورتحال کو اس کے اپنے حال پر نہ چھوڑا جائے کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ سازشوں کے اس اکھاڑے میں کون کس صورتحال کا کس طرح سے فایدہ اٹھانا چاہتا ہو۔
سمبل سانحے کے بعد ایک بات جو بہت سے حساس لوگوں نے محسوس کی یہ ہے پہلے دو روز اس معاملے پر مکمل خاموشی طاری رہی اس کے بعد سڑکوں پر آنے میں پہلے ایک مخصوص فرقے نے پہل کی ۔ یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ حریت کانفرنس نے اس سانحہ کے خلاف ہڑتال کی اپیل نہیں کی بلکہ حریت کی ہی ایک اکائی نے ہڑتال کی اپیل کی ۔ جس اکائی نے ہڑتال کی اپیل کی اس نے حریت چیر مین کو اعتماد میں لیا تھا یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم یہ بات بجائے خود بھائی چارے کی فضا کیلئے خطرہ پیدا کرسکتی تھی کہ وہ اکائی جو متاثرہ بچی کے فرقے سے تعلق رکھتی تھی تن تنہا ہڑتال کی اپیل کرے ۔یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ تیرہ مئی کو جب بہت سارے علاقوں میں مظاہرے ہوئے بزرگ رہنما اور حریت (گ)کے چیرمین کے بیان میں اس واقعہ کا سرے سے ہی کوئی ذکر نہیں تھا ۔میر واعظ عمر فاروق نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے بھائی چارہ قائم رکھنے کی اپیل تو کی لیکن اس واقعہ کے اندر فساد کے جو عوامل ابھر رہے تھے ان کو فوری طور پر محسوس کرتے ہوئے حریت قیادت کو جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کیا گیا ۔ کیوں نہیں کیا گیا یہ بات اس وقت تک ایک معمہ بنی رہے گی جب تک نہ خود حریت کی طرف سے اس بارے میں کوئی وضاحت کی جاتی ہے ۔ممکن ہے کہ حریت قیادت کے پیش نظر یہ بات ہو کہ واقعہ ابھی زیر تحقیقات ہے اورجب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتی اور ثبوت و شہادت کے ساتھ مجرم کی نشاندہی نہیں ہوتی تب تک کسی کو اس کے باوجود مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا کہ ہر بات اس کے مجرم ہونے کی نشاندہی کررہی ہو ۔اگر یہی بات پیش نظر تھی تو یہ غلط نہیں تھی البتہ پھر زیادہ ضروری تھا کہ اس واقعہ کو فرقہ وارانہ تناو میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لئے فوری طور پر ضروری اقدامات کئے جائیں ۔خدا کا فضل شامل حال رہا کہ یہ واقعہ ماہ رمضان کے اس مہینے میں فرقہ وارانہ تناو کی صورت اختیار نہیں کرسکا جبکہ اس کے لئے زمین ہموار تھی یا کی گئی تھی ۔شعیہ سنی کاڈینیشن کمیٹی کا اجلاس اس وقت ہوا جب فرقہ وارانہ تناو ختم ہوچکا تھا ۔
14مئی کو طلباء اور طالبات نے ہمہ گیر احتجاجی مظاہرے کئے جس کی بعد فرقہ وارانہ پہلو پوری طرح نابود ہوا اور یہ سانحہ پوری آبادی کے سانحے کے طور پر پیش ہوا لبتہ اس روز بھی احتجاجوں اور مظاہروں نے تشدد کا رخ اختیار کیا ۔کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر سمبل واقعہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں تھا تو اس میں پتھر اٹھانے کی ضرورت کیا تھی ۔ ہر بات پر پتھر ہاتھ میں اٹھانا نوجوانوں کا کوئی کھیل ہے ، عادت ہے ، شوق ہے ، فیشن ہے یا عیاشی ہے یہ خود انہیں بھی معلوم نہیں جو پتھربازی کے جنون میں مبتلا ہیں ۔ا س معاملے میں نہ پولیس کی کوئی خطا تھی ، نہ فورسز کی ، نہ ہندوستان کی ، نہ حکومت کی ۔ یہ اپنی ہی خطا تھی ، اپنا ہی جرم تھااور اپنی ہی شرمندگی تھی ۔ بہتر تھا کہ پروقار طریقے پر تحقیقاتی عمل جلد از جلد مکمل کرنے اورمجرم کو کیفر کردار تک پہونچانے کا مطالبہ کیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے برعکس تعلیمی اداروں کے احاطوں کو میدان جنگ بنادیا گیا ۔یہی وہ ذہنیت ہے جو انسانی خصائل پر جنون حاوی کردیتی ہے اور جنون ہی وہ کیفیت ہوتی ہے جو انسانوں کو بھیانک جرائم کا مرتکب بھی بنا سکتی ہے ۔
اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ سمبل میں واقعی ایک تین سالہ بچی کی آبرو ریزی ہوئی ہے تو یہ ایک ایسا قومی سانحہ ہے جس پر اس قوم کے ہر فرد کے ذہن و ضمیر پر لرزہ طاری ہونا چاہئے او ر ہر فرد کو اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ ایسا کیوں ہوا۔ جس لڑکے نے چاہے اس کی عمر بیس سال یا اس سے کم یا زیادہ ہے کیوں اور کیسے یہ شیطانی اورحیوانی حرکت کی ۔ کیا وہ پاگل تھا ۔ کیا اس میں یہ اندازہ کرنے کی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ کیا کررہا ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے ۔بے شک ایسے واقعات اس زمانے میں ہر جگہ ہونے لگے ہیں ۔ کٹھوعہ میں حال ہی میں ایسا سانحہ ہوا ۔ اس سے پہلے پاکستان کے پنجاب میں اس طرح کا سانحہ ہوا ۔ہندوستان میں آئے روز زایسے واقعات ہوتے ہیں ۔ بہار میں ایسے کئی سانحے ہوئے ہیں لیکن مختلف جگہوں پر ایسے واقعات میں وجوہات بھی مختلف ہوتی ہیں ۔انتہائی پسماندہ سیا سب سے زیادہ خوشحال سماجوں میں یہ واقعات زیادہوا کرتے ہیں ۔ کشمیر نہ کوئی پسماندہ سماج ہے نہ ترقی یافتہ ۔ یہاں اعلیٰ انسانی قدروں کا بول بالا بھی رہا ہے پھر یہاں ایسا کیوں ہوا ۔اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے ہی ایسے سانحوں سے اس سماج کو بچایا جاسکتا ہے لیکن ہم اس کے بجائے سڑکوں پر آکر مجرم کو شریعت کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ایسا مطالبہ کرنے والوں سے اگر یہ سوا ل پوچھا جائے کہ سمبل سانحے کے مبینہ ملزم کو اگر سرعام سنگسار کیا جائے تو کیا اس کے بعد ایسا کو ئی واقعہ پھر کبھی اس سماج میں نہیں ہوگا تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔اسلام نے ایسے جرائم کیلئے سنگین سزائیں بس یوں ہی مقرر نہیں کیں بلکہ ایسی تمام وجوہات کا قلع قمع کرنے کے بعد ہی کیں جو ایسے جرائم کا باعث بن سکتی ہے ہم ان وجوہات کو پیدا کرنے کے بعد شریعت کے مطابق سزاوں کا مطالبہ کرتے ہیں ۔سمبل سانحے کا ہم ابھی ماتم ہی منارہے تھے کہ کنگن میں ایک سولہ سالہ بچی کی آبرو ریزی کا اندوہناک واقعہ پیش آیا ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے سماج میں وہ روح باقی نہیں رہی ہے جو اس کے افراد کو ایسے بدترین گناہوں سے روکے رکھتی تھی ۔ہمارے نوجوانوں کے ذہن بگڑ چکے ہیں ان کے اندر وہ حس باقی نہیں رہی ہے جو صحیح اور غلط کی تمیز باقی رکھتی ہے ۔ ہمارے بچے سکولوں اورکالجوں سے نکل کر بھی تعلیم کے اس زیور سے آراستہ نہیں ہوتے جو انسانی خصائل کو مستحکم بناتی ہے ۔ہمارے سماج میں منشیات کی کھلے عام تجارت ہورہی ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے چالیس فیصد کے قریب لڑکے اورلڑکیاں منشیات کی لت میں مبتلا ہیں ہم نے آج تک اس بدعت کو ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا اورآج جب اس کے نتائج سامنے آرہے ہیں ہمارے معلم سڑکوں پر شور مچارہے ہیں کہ ہمارے نوجوان دین بیزار ہوگئے ہیں اس لئے وہ گناہوں کے مرتکب ہورہے ہیں ۔سمبل سانحہ کے لئے وہی ایک لڑکا ذمہ دار نہیں جس نے ایسی قبیہہ حرکت کی ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم خود اپنے بچوں کے بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں ۔ ہمارے دین دار اورسرمایہ دار فخر کے ساتھ جہیز کا لین دین کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہماری پچاس فیصد کے قریب بچیاں مہندی کو ترس رہی ہیں ۔ ہمارے نوجوان تیس اورچالیس سال کی عمر میں بھی شادی نہیں کرسکتے ہیں ۔ ہم بدعات کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور پھر بے راہ روی پر آنسو بھی بہاتے ہیں ۔اسلامی تعلیمات ہم نے عمل کی دنیا میں کہاں باقی رکھی ہیں ۔ ہم نام کے مسلمان ہیں ۔ ہمیں کم از کم اپنے دامن میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ جو کچھ ہمارے سماج میں ہورہا ہے اس میںکہیں ہم بھی ذمہ دار تو نہیں ۔
’’ ہفت روزہ نوائے جہلم سرینگر‘‘