عارف بلوچ
اننت ناگ//ماضی کی طرح 2025 بھی انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم آرائی کا سلسلہ جارہا ہے۔جنوری 2025 سے دسمبر 2025 تک اننت ناگ اور کولگام ضلع میں چھوٹی بچی سمیت 4 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں،جبکہ تصادم آرائی میں 40 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔کشمیر کی وادیوں میں جنگلی درندوں کے حملے ایک پرانا اور جاری مسئلہ ہے، خاص طور پر برفباری کے موسم میں جب خوراک کی کمی ہوتی ہے، جس سے انسانوں اور جانوروں دونوں کو خطرہ ہوتا ہے، جیسے حال ہی میں کھڑم اور کپرن واقعات سامنے آئے ہیں، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے اور حکومت سے تحفظ کے مطالبات کیے جا رہے ہیں. وائلڈ لائف وارڈن اننت ناگ فردوس احمد کے مطابق محکمہ جنگلی حیات نے جڑواں اضلاع میں بیتے سال 40سے زائد کالے ریچھ،1 تندوہ،5 خار پشت اور 160 سانپ کو پکڑ کر واپس قدرتی رہائش گاہ منتقل کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وادی میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کی تاریخ برسوں پر محیط ہے۔افراد قوت کی کمی کے باوجود بھی محمکہ لگاتار آگاہی پروگرام سے لوگوں کو باخبر کررہا ہے،اس کے علاوہ محکمہ کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ جنگلی جانوروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ساتھ ہی انسانی جانوں کے زیاں کے خطرے کو بھی ٹالا جائے۔قابل ذکر ہے کہ محکمہ عارضی ملازمین کے رحم و کرم پر کھڑا ہے۔زرائع کے مطابق ہر ایک کنٹرول روم میں 5 میں سے 4 عارضی ملازمین تعینات ہے جن کے پاس مناسب سازوسامان ہے اور نہ ہی مناسب تربیت ہے،جو قابل توجہ معاملہ ہے۔