قومی شاہراہ کی صورتحال اب بہتر،بانہال اور رامبن کو فورلین بنانے کا کام آئندہ دو سال میں مکمل ہوگا:پروجیکٹ ڈائریکٹر
محمد تسکین
بانہال// 2025رام بن ضلع کے لیے شدید موسمیاتی آفات کا سال ثابت ہوا، جہاں غیر معمولی بارشوں، بادل پھٹنے ، سیلابی ریلوں اور پسیوں اور پتھروں کے گرنے سے انسانی جانوں، قومی شاہراہ، رہائشی علاقوں اور مقامی معیشت کو بری طرح متاثر کیا۔ سال کے مختلف مہینوں میں پیش آنے والے ان واقعات نے نہ صرف جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ کو بارہا بند کیا بلکہ ضلع بھر میں خوف و ہراس اور تباہی کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ سال کے آغاز میں اپریل 2025کے دوران رام بن کے مختلف علاقوں بالخصوص قصبہ رام بن ، سیری ، باگنا، دھرم کنڈ اور گردونواح میں موسلادھار بارشوں کے بعد بادل پھٹنے سے سیلابی ریلوں میں کم از کم تین افراد جاں بحق ہوئے تھے اور سینکڑوں رہائشی مکانات، دکانیں، گاڑیاں اور زرعی زمینیں تباہ ہو گئیں تھیں ۔ تباہ کن اور شدید بارشوں کی وجہ سے جموں سرینگر قومی شاہراہ ناشری اور بانہال کے درمیان کئی مقامات پر مکمل طور پر بند ہو گئی تھی جس کے باعث کشمیر وادی کا زمینی رابطہ کئی دنوں تک منقطع رہا۔مئی 2025 میں بھی موسمی حالات معمول پر نہ آ سکے اور ضلع کے مختلف علاقوں میں مٹی کے تودے کھسکنے کے واقعات پیش آئے، جس کے باعث جموں سرینگر قومی شاہراہ پر کئی بار ٹریفک معطل کرنا پڑا ۔اسی سال جولائی 2025میں رام بن ضلع کے سیاحتی مقام سناسر میں شدید بارشوں کے بعد اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے ایک دلخراش واقع کو جنم دیا اور جموں کے دو اساتذہ سیلابی ریلے کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ یہ ٹیچر ڈسٹرکٹ انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ سینٹرکُد میں زیر تعلیم تھے اور چھٹی کے اوقات میں تفریح کیلئے سناسر آئے تھے کہ اچانک ایک نالے میں آئے سیلاب نے دونوں ٹیچروں جو موٹر سائیکل سمیت بہا لیا ۔26اگست 2025سے ایک بار پھر شدید بارشوں، سیلابی ریلوں اور بادل پھٹنے نے ضلع رام بن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور راج گڑھ اور ملحقہ علاقوں میں سیلابی ریلوں کے باعث کئی مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد افراد جاں بحق اور سیکڑوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ 26اگست سے 2ستمبر تک جاری رہنے والی بارشوں نے جموں ۔ سرینگر قومی شاہراہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور شاہراہ کم از کم بیس روز تک بند رہی۔ سرکاری و غیر سرکاری ذرائع کے مطابق سال 2025میں بارشوں کے نتیجے میں قومی شاہراہ مجموعی طور پر تقریباً 20دن تک مکمل طور پر بند رہی جبکہ مال اور ایندھن بردار گاڑیوں کی آمدورفت اس سے بھی زیادہ عرصے تک معطل رہی۔ بارشوں کی وجہ سے سڑک کے ڈھانچے اور فورلین شاہراہ کے پلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا اور بعد میں 5ستمبر کو شاہراہ کو چھوٹی مسافر گاڑیوں کی محدود اور یکطرفہ آمدورفت بحال کی گئی جبکہ 15ستمبر 2025کو مال گاڑیوں کیلئے یکطرفہ ٹریفک کے قابل بنائی گئی۔ رواں سال جموں سرینگر قومی شاہراہ کی بار بار بندش اور موسمی آفات کے باعث نہ صرف عام مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ سیب، سبزیوں، ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل بھی بری طرح متاثر ہوئی، جس سے مقامی معیشت، تجارت اور سیاحت کو بھاری نقصان پہنچا۔ٹریفک حکام اور انتظامیہ کی مسلسل نگرانی کے ساتھ نیشنل ہائے وے آتھارٹی آف انڈیا کی طرف سے تباہ ہوئی شاہراہ کے مقامات پر کئے گئے طویل مرمتی کاموں اور
مسلسل حفاظتی کوششوں کے بعد اب ادھم پور ۔ بانہال سیکٹر میں شاہراہ کی حالت کافی بہتر ہو چکی ہے اور پچھلے دو ماہ سے دوطرفہ ٹریفک بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جاری ہے جس سے ہزاروں مسافروں ، سیاحوں اور ٹرک ڈرائیوروں کو راحت نصیب ہوئی ۔ اس سلسلے میں بات کرنے پر نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شبھم یادو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اپریل اور اگست میں ہوئی بارشوں کے نتیجے میں تباہ حال شاہراہ اب بہتر کی گئی ہے اور پچھلے قریب دو مہینے سے شاہراہ پر تمام طرح کا دو طرفہ ٹریفک بغیر کسی دشواری یا خلل کے چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادہمپور ۔ رام بن اور بانہال کے درمیان شاہراہ کا بیشتر حصہ فورلین شاہراہ میں تبدیل کیا گیا ہے تاہم رام بن اور بانہال کے درمیان پندرہ کلومیٹر کا حصے کو فورلین بنانے کیلئے دو ٹنل اور ویا ڈکٹ پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں اور دسمبر 2027تک رام بن اور بانہال کے درمیان فورلین پروجیکٹ کا کام مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال مارچ میں ڈگڈول ۔ پنتھیال ٹنل پروجیکٹ مکمل ہوگا جبکہ ماروگ ۔ ڈگڈول ٹنل دسمبر 2027تک مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رامسو اور شیر بی بی کے درمیان ویا ڈکٹ یا فلائی اوور کا کام چل رہا ہے اور اسے اگلے سال دسمبر تک مکمل کرنے کی امید ہے۔