محتشم احتشام
پونچھ//پیر پنجال خطے کی معروف اور مقدس روحانی درسگاہ سائیں میراں درگاہ کو جانے والی سڑک، جو شاہپور کے راستے درگاہ تک پہنچتی ہے، انتہائی خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے۔ خاص طور پر درگاہ کے قریب آخری حصہ اس قدر شکستہ ہو چکا ہے کہ گاڑیوں کی آمدورفت نہایت دشوار بلکہ بعض مقامات پر خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے زائرین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق اسلام آباد سے شاہپور زیارت شریف تک سڑک پر گہرے گڑھے پڑ چکے ہیں، جگہ جگہ سطح ناہموار ہو چکی ہے، جس کے باعث سفر اذیت ناک بن گیا ہے۔ بارش یا خراب موسم کے دوران حالات مزید ابتر ہو جاتے ہیں، جس سے بزرگ عقید مندوں، خواتین اور مریضوں کے لئے درگاہ تک پہنچنا ایک کٹھن مرحلہ بن جاتا ہے۔اس موقع پر معروف سماجی و قانونی شخصیت ایڈوکیٹ تنزیر کھٹانہ سڑک کی بدحالی پر سخت تشویش اور ناراضگی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ سائیں میراں درگاہ ضلع پونچھ ہی نہیں بلکہ پورے پیر پنجال خطے کی ایک عظیم روحانی شناخت ہے، جہاں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں اور ہمسایہ اضلاع سے روزانہ ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ اتنی اہم اور مقدس درگاہ تک پہنچنے والی سڑک اس قدر خراب حالت میں ہے۔ درگاہ کے قریب آخری حصہ سے زائرین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ایڈووکیٹ تنزیر کھٹانہ نے ضلعی انتظامیہ اور موجودہ حکومت سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے مطالبہ کیا کہ سڑک کی فوری مرمت اور بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ممبر لیجسلیٹو اسمبلی حویلی اعجاز احمد جان سے بھی اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر درگاہ کا دورہ کریں، زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور اس اہم سڑک کی فوری مرمت کے لئے عملی اقدامات کریں۔مقامی باشندوں اور زائرین نے بھی متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ سڑک کی بروقت مرمت نہ صرف آمدورفت میں آسانی پیدا کرے گی بلکہ عوامی سہولت اور مذہبی جذبات کے احترام کا مظہر بھی ہوگی۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو مسلسل نظرانداز کیا گیا تو احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔علاقہ مکینوں نے پرزور اپیل کی ہے کہ وسیع تر عوامی مفاد، زائرین کی سہولت اور درگاہ تک ہموار رابطے کے لئے سڑک کی فوری بحالی عمل میں لائی جائے تاکہ اس تاریخی اور مقدس مقام تک رسائی باوقار اور محفوظ بنائی جا سکے۔