مزمل حسن
کشمیر کی وادی ہمیشہ اپنی خوبصورتی، خاموش جھیلوں اور برف پوش پہاڑوں کے لیے پہچانی جاتی رہی ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں اس خوبصورتی کے پیچھے ایک ایسا درد بھی چھپ گیا تھا جسے ہر گھر محسوس کر رہا تھا۔ گاؤں کی پگڈنڈیوں سے لے کر شہر کی تنگ گلیوں تک ایک خاموش زہر پھیل رہا تھا۔ یہ زہر نشہ تھا۔
سرینگر کے ایک پرسکون محلے میں رہنے والا ماجد اپنے والدین کی امید تھا۔ وہ کالج کا ذہین طالب علم تھا۔ کھیلوں میں اس کا نام لیا جاتا تھا۔ اساتذہ کو یقین تھا کہ وہ ایک دن کامیاب انسان بنے گا۔ مگر زندگی ہمیشہ سیدھی راہ پر نہیں چلتی۔
ماجد کی صحبت بدلنے لگی۔ چند دوستوں نے اسے وقتی سکون کا راستہ دکھایا۔ ابتدا میں وہ صرف ساتھ بیٹھتا تھا۔ پھر ایک دن اس نے سوچا کہ ایک بار آزمانے میں کیا نقصان ہے۔ یہی ایک بار آہستہ آہستہ اس کی زندگی کا حصہ بن گیا کالج کے دنوں میں ماجد کی زندگی بالکل مختلف تھی۔ وہ صبح جلدی اٹھتا۔ کتابیں سنبھالتا اور دوستوں کے ساتھ ہنستے ہوئے کلاس تک پہنچتا۔ کھیل کے میدان میں اس کا نام لیا جاتا تھا۔ وہ کرکٹ ٹیم کا حصہ تھا۔ اس کے خواب عام نوجوانوں جیسے تھے۔ اچھی تعلیم، بہتر مستقبل اور والدین کے لئے سکون بھری زندگی۔
مگر وقت کے ساتھ اس کے اندر ایک خاموش تبدیلی آنے لگی۔ پڑھائی کا دباؤ بڑھا۔ مقابلہ سخت ہوا۔ کچھ دوست ایسے ملے جو وقتی فرار کو سکون سمجھتے تھے۔ ماجد نے شروع میں انکار کیا مگر ایک دن اس نے سوچا کہ شاید ایک بار سے کچھ نہیں ہوگا۔ وہ یہی غلطی تھی جس نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
پہلے اس نے پڑھائی سے دل ہٹایا، پھر گھر سے دور رہنے لگا۔ اس کی آنکھوں کی چمک مدھم پڑ گئی۔ چہرے کی تازگی ختم ہونے لگی۔
وہ لڑکا جو کبھی صبح جلدی اٹھ کر کالج جاتا تھا، اب دن بھر خاموش اور بے ترتیب رہنے لگا۔
گھر کے حالات بھی بدلنے لگے۔ ماں رات کے وقت مصلیٰ پر بیٹھ کر دعا کرتی۔ باپ گھر کے ایک کونے میں خاموش بیٹھا رہتا۔ گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں غائب ہونے لگیں۔ کبھی گھڑی، کبھی موبائل، کبھی الماری سے پیسے۔
ایک شام ماجد نشے کی حالت میں گھر لوٹا۔ اس کی ماں نے اسے دروازے پر دیکھا۔ وہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر اس نے ماجد کے کندھے پکڑ لئے۔
’’بیٹا، تم خود کو کیوں ختم کر رہے ہو؟‘‘
ماجد نے نظریں جھکا لیں۔ اس کے ہونٹ ہلے مگر الفاظ باہر نہ آ سکے۔ چند لمحوں بعد اس نے دھیمی آواز میں کہا:
’’میں خود بھی نہیں جانتا کہ میں کہاں کھو گیا ہوں۔‘‘
اس کی آواز میں تھکن تھی۔ وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس رات پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ صرف اپنے آپ کو نہیں بلکہ اپنے والدین کو بھی تکلیف دے رہا ہے۔
اسی دوران کشمیر میں نشے کے خلاف کارروائیاں تیز ہونے لگیں۔ مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن ہوئے۔ کئی منشیات فروش گرفتار کئے گئے۔ انتظامیہ نے نوجوانوں کو بچانے کے لیے سخت اقدامات شروع کئے۔
اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی مہم بھی شروع ہوئی۔ طلبہ کو بتایا جانے لگا کہ نشہ صرف ایک غلط عادت نہیں بلکہ پوری زندگی کو تباہ کرنے والا راستہ ہے۔
کئی تعلیمی اداروں میں طلبہ نے عہد لیا کہ وہ خود بھی نشے سے دور رہیں گے اور دوسروں کو بھی اس سے بچائیں گے۔ اساتذہ نے کلاس روم میں اس موضوع پر گفتگو شروع کی۔ والدین نے اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا بڑھایا۔ سماج میں ایک نئی سوچ پیدا ہونے لگی۔
ماجد کے والد نے ایک دن فیصلہ کیا کہ اب خاموش رہنا کافی نہیں۔ وہ اُسے کو ایک بحالی مرکز لے گئے۔ شروع میں اُس نے شدید مزاحمت کی۔ اسے لگتا تھا کہ اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔
بحالی مرکز کی پہلی رات اس کے لئے بہت مشکل تھی۔ وہ خاموش بستر پر لیٹا چھت کو دیکھتا رہا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی سے کتنا دور جا چکا ہے۔ اسے اپنی ماں کے آنسو یاد آئے۔ اپنے والد کی خاموشی یاد آئی۔ اس نے پہلی بار خود سے سوال کیا کہ کیا واقعی واپسی ممکن ہے۔
مرکز کا ماحول اس کے لیے نیا تھا۔ وہاں ہر شخص اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا تھا۔ کچھ لوگ خاموش رہتے۔ کچھ اپنی کہانیاں سناتے۔
ڈاکٹر روزانہ ان سے بات کرتے۔ ماہرین انہیں سمجھاتے کہ نشہ صرف جسم نہیں بلکہ سوچ کو بھی قید کر لیتا ہے۔
شروع میں ماجد کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ وہ خود کو دوسروں سے الگ سمجھتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ اس نے محسوس کیا کہ درد سب کا ایک جیسا ہے۔ کسی نے دوست کھوئے تھے۔ کسی نے تعلیم۔ کسی نے خاندان کا اعتماد۔
وہاں اس نے کئی نوجوان دیکھے۔ کوئی انجینئرنگ کا طالب علم تھا۔ کوئی مزدور کا بیٹا تھا۔ کوئی کھلاڑی تھا۔ سب کی کہانی الگ تھی مگر تکلیف ایک جیسی تھی۔
انہی نوجوانوں میں اس کا ایک پرانا دوست عارف بھی تھا۔ وہ کبھی ماجد کے ساتھ کالج میں بیٹھا کرتا تھا۔ مگر اب اس کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ کم بولتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا خالی پن تھا۔
ایک دن عارف نے ماجد سے کہا:
’’ہم نے وقتی سکون کے لئے پوری زندگی داؤ پر لگا دی۔‘‘
یہ جملہ ماجد کے دل میں اتر گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اگر وہ یہاں نہ آتا تو شاید اس کا انجام بھی یہی ہوتا۔
مہینوں کی کونسلنگ، علاج اور جدوجہد کے بعد ریحان میں تبدیلی آنے لگی۔ اس نے دوبارہ خود پر اعتماد کرنا سیکھا۔ اس نے سمجھا کہ نشہ وقتی سکون دیتا ہے مگر زندگی سے سب کچھ چھین لیتا ہے۔
جب وہ گھر واپس آیا تو اس کی آنکھوں میں پہلی بار امید تھی۔ اس نے اپنی ماں کے ہاتھ چومے۔ اپنے والد کے پاس بیٹھ کر آہستہ سے کہا:
’’مجھے دوسرا موقع دینے کا شکریہ۔‘‘
اس کے والد نے پہلی بار سکون کا سانس لیا۔
ماجد نے دوبارہ اپنی پڑھائی شروع کی۔ وہ اب مختلف اسکولوں اور کالجوں میں جا کر نوجوانوں سے بات کرتا۔ وہ انہیں اپنی کہانی سناتا۔ وہ بتاتا کہ غلط راستہ کبھی اچانک نہیں بدلتا بلکہ آہستہ آہستہ انسان کو اپنے اندر قید کر لیتا ہے۔
ایک دن اس نے اپنے محلے کے ایک لڑکے کو نشے کی طرف جاتے دیکھا۔ وہ اس کے پاس گیا اور خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس نے اسے کوئی لمبی نصیحت نہیں دی۔ صرف اپنی کہانی سنائی۔ وہ لڑکا دیر تک خاموش رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا:
’’میں اس راستے پر نہیں جانا چاہتا۔‘‘
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کی واپسی صرف اس کی اپنی کامیابی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی امید بن سکتی ہے۔
کچھ مہینوں بعد ریحان کو اپنے ہی کالج میں ایک پروگرام میں بلایا گیا۔ آڈیٹوریم کے باہر ـ’’نشہ مکت بھارت‘‘کا بینر لگا ہوا تھا۔ وہی راستہ جہاں سے وہ کبھی نظریں جھکا کر گزرتا تھا، آج اسے ایک نئی شناخت دے رہا تھا۔
وہ اسٹیج پر کھڑا تھا۔ سامنے سینکڑوں طلبہ بیٹھے تھے۔ ہال میں خاموشی تھی۔ ریحان نے مائیک پکڑا اور اپنی کہانی سنانا شروع کی۔
اس نے بتایا کہ نشہ کس طرح آہستہ آہستہ انسان کو خود سے دور کر دیتا ہے۔ اس نے نوجوانوں سے کہا کہ ایک غلط فیصلہ پوری زندگی بدل سکتا ہے۔
ہال میں بیٹھے کئی طلبہ خاموشی سے اس کی بات سن رہے تھے۔ کچھ کے چہرے سنجیدہ تھے۔ کچھ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ نے عہد لیا کہ وہ خود کو اس برائی سے دور رکھیں گے۔
اس نے محسوس کیا کہ اس کی واپسی اب صرف اس کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی امید بن چکی ہے۔
نشہ صرف ایک فرد کو تباہ نہیں کرتا۔ یہ پورے خاندان کو توڑ دیتا ہے۔ مگر اگر گھر، سماج اور قانون ایک ساتھ کھڑے ہوں تو واپسی ممکن ہے۔
صبح کی روشنی جب وادی پر پھیلتی ہے، تو پہاڑوں کے درمیان سے اب بھی امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔ وادی کی اصل خوبصورتی اس کے نوجوانوں کے محفوظ مستقبل میں ہے۔
���
[email protected]