شمیمہ صدیق شمیؔ
یادیں اُسے زہریلی ناگن کی طرح ڈس رہی تھیں ۔ اپنے معصوم بھائی کا چہرہ بار بار آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا اور وہ شدتِ کرب سے تڑپ اُٹھتا تھا ۔ والدین کے سامنے مضبوطی کا خول چڑھائے رکھتا اور جوں ہی تنہا ہوتا تو یادوں کے دریچے کُھل جاتے اور ساتھ ہی زخموں کے ٹانکے بھی کُھل جاتے،تنہائی میں اسے آنسو بہانے کا موقع مل جاتا اور وہ تنہائی میں خوب روتا۔ اُسے اپنا بھائی بہت عزیز تھا وہ دونوں بھائی ایک دوسرے کی جان تھے ، وہ دونوں صرف بھائی ہی نہیں اچھے دوست بھی تھے ۔ عمر اپنے بھائی شاہد سے تین سال بڑا تھا ۔دونوں میں بےحد محبت تھی ۔ساتھ ساتھ بڑے ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ تعلیمی سفر جاری رکھا ۔ ایک شام اِن پر قیامت ٹوٹ پڑی ، دروازے پر کوئی دستک دے رہا تھا تو عمر کی ماں باہر آئی ،دیکھا .کہ تین چار نقاب پوش آدمی کھڑے تھے۔
“اندر کون ہے “؟ نقاب پوش آدمیوں میں سے ایک بولا
” جہ جہ جی ،میرا شوہر اور بیٹا ہے اندر “عمر کی ماں ڈرتے ہوئے بولی
” بلاؤ انکو باہر “ دوسرا گرجدار آواز میں بولا
وہ بیچاری ہانپتی کاپنتی اندر گئی اور انکو باہر کی حالت سے آگاہ کیا ۔عمر گھر میں نہیں تھا اُس دن ۔شاہد اور اس کا باپ دونوں ڈرتے ہوئے باہر آئے
”اچھا تو یہ تمہارا بیٹا ہے “؟ایک نقاب پوش آدمی بولا
”جی جی صاب“ وہ بیچارہ گھبرایا ہوا بولا
”کتنے لوگ رہتے ہیں تمہارے گھر میں ؟“
”جی ہم دونوں میاں بیوی اور ہمارے دو بیٹے “
”دوسرا بیٹا کہاں ہے؟“
”جی وہ کسی کام سے باہر گیا ہوا ہے “ وہ کانپنے ہوئے بولا۔
”اچھا! ہوں “اس نقاب پوش آدمی نے دوسرے کو کچھ اشارہ کیا اور اس نے آکر شاہد کا بازو پکڑ لیا۔
”چلو ہمارے ساتھ“وہ اُسے گھسیٹتا ہوا بولا
”کہاں ؟،کیوں ؟ چھوڑو مجھے“وہ معصوم خود کو چھڑاتے ہوئے بولا
”تمہیں کس نے اجازت دی ،سوال جواب کرنے کی،؟ چلتا ہے سیدھی طرح کہ دو چار لاتیں اور گھونسے کھائے گا۔“نقاب پوش غصے سے بولا۔
نہیں نہیں ، آپ میرے بیٹے کو نہیں لے جاسکتے ، آخر اس کی کیا غلطی ہے ، ؟ کیا قصور ہے میرے بیٹے کا ؟“ وہ زاروقطار روتے ہوئے بولی
”یہ آپ لوگ میرے بیٹے کو کہاں لےکر جارہے ہیں؟ “ اس کا باپ بےبسی سے دُکھی لہجے میں بولا۔مگر اِن ظالموں نے اس بےبس ماں باپ کے آنسوؤں پر کوئی دھیان نہ دیا اور اسکے بیٹے کو ساتھ لےکر چلے گئے ،وہ دونوں میاں بیوی روتے بلکتے رہ گئے ، آہ وزاری کرتے رہ گئے ۔عمر جب گھر پہنچا تو ساری بات سُن کر کلیجہ تھام کر رہ گیا
“آپ نے چھوٹے کو کیوں ان ظالموں کے ساتھ جانے دیا ؟“وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
”ارے ہم ان ظالموں کے آگےبےبس ہوگئے تھے، کیا کرسکتے تھے ، نہ جانے کہاں ہوگا میرا بیٹا “ ماں روتے ہوئے بولی۔
تینوں نے بہت ہاتھ پیر مارے مگر شاہد کا کوئی پتہ نہ چل سکا اور تیسرے دن اُس کی لاش کسی سیب کے باغ میں سے ملی ، لاش جب گھر پہنچی تو قیامت ٹوٹ پڑی ،ایک کہرام سا مچ گیا ،وہ دونوں میاں بیوی تو جوان بیٹے کی لاش دیکھ جیتے جی مر گئے ، کوئی ہوش نہ رہا ، جوان اولاد کی موت کا غم انہیں زندہ لاش بنا گیا – عمر خود اندر سے ٹوٹ کر بکھر گیا تھا مگر اپنے والدین کو تسلی دیتا رہتا ۔
“ماں آپ نہ روئیں زیادہ ، آپکی طبیعت خراب ہو جائے گی ، شاہد کی عمر اتنی ہی لکھی گئی تھی ، اس کا دانا پانی یہیں تک لکھا ہوا تھا“ وہ آنسوؤں کو پلکوں کی دیوار کے پیچھے دھکیلتا ہوا بولا
”بیٹا مجھے صبر ہی نہیں آتا ہے ، اپنے اس بےقرار دل کا کیا کروں ؟، میرے معصوم بےگناہ شاہد کو اتنی بےدردی سےکیوں مارا گیا ،؟ آخر کیا قصور تھا میرے معصوم بچےکا؟ “وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔
عمر نے ماں کو گلے لگا لیا .
” نہ رو ماں نہ رو ، آپ اس طرح روتی ہیں تو میرا دل مجھے کٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے“وہ آنسوؤں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے بولا۔
”وہ قاتل ظالم لوگ بھی میری طرح تڑپیں “ وہ تڑپ کا ظالموں کو بددعا دینے لگی۔
“ظالموں کو ایک نہ ایک دن ضرور سزا ملے گی ماں “وہ رندھے ہوئے گلے سے بولا۔
عمر ماں باپ کی حالت دیکھ اندر ہی اندر ٹوٹ کر بکھر گیا تھا ۔ ماں کی حالت دیکھ کہ اُسے اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہوتا ۔ بھائی کی یاد اک پل بھی دل سے جدا نہیں ہوتی تھی ۔رات کی تنہائی میں اپنے بھائی کی یاد اسے زیادہ ستانے لگتی ۔اُس کی کمرے میں رکھی گئی چیزیں اسے بے چین کردیتیں ، دونوں بھائیوں کا کمرہ مشترکہ تھا ۔کمرے کی اک اک چیز دیکھ کر معصوم شاہد کی یاد آنے لگتی۔مسلسل رتجگوں کی وجہ سے اس کی حالت خراب ہورہی تھی۔ سردرد اس کا ساتھی بن کر رہ گیا تھا ۔سردرد کی کتنی گولیاں لیں مگر بےکار۔
“اف ،سر درد سے پھٹا جارہا ہے ، کاش چند پل کی ہی مجھے نیند آجاتی تھوڑا افاقہ ہوجاتا “وہ سوچنے لگا . مگر نیند تو مدت ہوئی اُس سے روٹھی ہوئی تھی ۔بھائی کی جدائی میں نیند اُس سے کوسوں دور ہوگئی تھی ۔ماں باپ کی حالت دیکھ وہ خود دن میں کتنی بار ٹوٹتا پھر دُکھی زخمی دل پر صبر کے مرہم لگاتا ،مگر دُکھ جب دل میں سرایت کرجاتا ہے تو دل کو سمجھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ سوچتا کہ میرے سوا اِن کا کون ہے تو مضبوطی کا خول خود پر چڑھا لیتا ،دل اندر سے تار تار تھا ،پھر بھی وہ اپنے ماں باپ کو تسلیاں دیتا رہتا ۔انہیں سمجھاتا رہتا کہ موت کے آگے ہم سب بےبس ہیں ۔
شدتِ کرب سے وہ تڑپ رہا تھا تو اُسے یاد آیا اُسکی ماں نیند کی گولیاں لیتی ہے ، جو کہ ڈاکٹر نے آرام کے لئے دیں تھیں ،اس نے سوچا آج وہ بھی نیند کی گولی لے لے ، نیند سے تھوڑا آرام آجائے گا، مسلسل رتجگے کی وجہ سے جو سردرد ہے ،ہوسکتا ہے اس میں کمی آجائے ، یہ سوچ کر وہ والدین کے کمرے میں گیا اور دراز سے نیند کی گولیاں نکالنے لگا۔اس کی نظر ماں کے چہرے پر پڑی ، کس قدر کرب ذدہ چہرہ ہوگیا تھا ماں کا ، وقت سے پہلے ہی بوڑھی ہوگئی تھی ۔وہ ماں کے قریب گیا ، مگر یہ کیا ،ماں گہری نیند میں ہوتے ہوئے بھی آنسوؤں بہا رہی تھی ۔آنسو دھیرے دھیرے تکیے میں جذب ہورہے تھے ۔عمر یہ دیکھ تڑپ اُٹھا ،اس نے سوئی ہوئی ماں کا آنسوؤں سے تر چہرہ چوم لیا ۔یہ مائیں بھی کتنی پیاری ہوتیں ہیں ، اپنی اولاد کو نیند میں بھی نہیں بھلا سکتیں ۔دواؤں کے زیر اثر بھی ماں بیٹے کی جدائی میں آنسو بہا رہی تھی ۔اس کے والدین کو بیٹے کی جدائی نے زندہ لاش بنادیا تھا۔وہ مشکل سے زندگی کا بوجھ ڈھو رہے تھے ۔جینا نہیں چاہتے تھے مگر اپنے دوسرے بیٹے اور اپنے واحد آخری سہارے کے لئے جی رہے تھے۔ماں کی یہ حالت دیکھ اُسے اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہوا ،اسے ایسا لگا کوئی تیز چاقو سے اس کا دل سینے سے نکال رہا ہے ۔ والدین کی حالت کا دُکھ ،بھائی کی جدائی کا غم اور مسلسل رتجگے کی وجہ سے اس کا دماغ پھٹنے لگا تھا ، دُکھ اور درد کی وجہ سے بےدھیانی میں وہ ایک گولی کی جگہ نہ جانے کتنی گولیاں نگل بیٹھا اور مشکل سے اپنے کمرے میں پہنچ کر بیڈ پر ڈھ گیا۔صبح جب ماں جگانے گئی تو عمرؔ کی عمر مکمّل ہوچکی تھی اور ان کی امیدوں کا واحد آخری سہارا بھی ان سے ہمیشہ کے لئے دور ہوگیا تھا۔
���
شوپیان جموں وکشمیر