سرینگر //زلزلیاتی پیمانے پر سب سے زیادہ خطرناک 4 اور 5 زون میں آنے والے جموں وکشمیر میں ہر ماہ اوسطاً زلزلے کے3سے4جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیںلیکن وادی بھر میں زلزلہ کی شدت برداشت کرنے والے تعمیراتی ڈھانچے کی عدم موجودگی مستقبل میں بہت بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔چند سال قبل ایک سابق ریاستی حکومت نے شہر سرینگر میں زلزلہ سے غیر محفوظ عمارتوں کی سروے کی تھی جس کے بعد ایک رپورٹ تیار کی گئی تھی جس میں قریب 2000ایسی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو غیر محفوظ قرار دی گئی اور ان میں سے چند ایک عمارتوں کو بعد میں گرایا بھی گیا لیکن انکی جگہ بڑے تعمیراتی کمپلیکس کھڑا کئے گئے۔اس سروے پر بعد میں کوئی عملدر آمد نہیں کیا جاسکا اور وادی بھر میں لگا تاربے ڈھنکی تعمیرات کھڑا ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر وادی میں 80فیصد عمارات زلزلے کیلئے محفوظ نہیںکیونکہ انہیں بنانے کے دوران اس چیز کا کوئی بھی خیال نہیں رکھا گیا ہے کہ یہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کر پائیں گی یا نہیں ۔پوری وادی میں دو منزل تو دور تین سے چار چار منزلہ تعمیرات کھڑا کی گئی ہیں، چاہئے سرکاری عمارات ہوں یا پھر غیر سرکاری۔ 8اکتوبر 2005کے تباہ کن زلزلے کے بعد سب سے زیادہ تباہی کرناہ اور اوڑی میں ہوئی۔ اُس وقت کی سرکار نے بڑے پیمانے پر تباہی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا تھا کہ جموں وکشمیر میں اب جو بھی تعمیرات کھڑا ہوں گی وہ زلزلہ سے محفوظ ہو، جو زلزلوں کے جھٹکوں کو بھی برداشت کر سکے اور جانی اور مالی نقصان بھی کم ہو ۔محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عموماً درمیانی اور گہری نوعیت کے زلزلوں سے نقصانات کا امکان کم ہی ہوتا ہے ،تاہم شیلو ٹائپ کے زلزلوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ زمین میں زیادہ گہرائی تک نہیں ہوتے ہیں۔محکمہ کے مطابق کم گہرائی میں آنے والے زلزلوں میں زمین کے اوپر جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کئے جاتے ہیں۔ زلزلے سے نقصانات کی وجوہات درمیانی شدت کے زلزلے کا بہت کم گہرائی میں ہونا شامل ہوتا ہے ۔ماہر ارضیات کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ہر ماہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ماہرین کہتے ہیں کہ اگر وہ زلزلے کے بارے میں پہلے ہی کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتے لیکن جس طرح سے یہاں زلزلے آتے ہیں اور یہ زلزلہ زون پانچ میں شمار ہوتا ہے تو اگر کبھی یہاں بھاری پیمانے کا زلزلہ آیا تو یہاں کافی تباہی ہو سکتی ہے کیونکہ وادی کے شہر ودیہات میں کسی قسم کا کوئی بھی ایسا انفراسٹرکچر تعمیر نہیں کیا گیا ہے، جو زلزلہ کی شدت کو برداشت کرسکے۔ ۔اس کے علاوہ جموں کے کشتواڑ اور ڈوڈہ ضلع میں بڑے بڑے ڈیم تعمیر کئے گئے ہیں جبکہ پہاڑوں کو چیر کر ٹنل تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح پہاڑوں کا قدرتی توازن بھی تبدیل ہو چکا ہے ،خطہ چناب زون 5 میں آتا ہے جہاں زلزلے کے کافی زیادہ امکانات ہیں۔ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ بیرون ممالک میں حکومتوں کے پاس زلزلے سے نپٹنے کیلئے کافی منصوبے ہیں اور وہاں جو عمارات تعمیر ہوتی ہیں وہ زلزلہ کی شدت کے مطابق تعمیرہوتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ آفات سماوی کے ڈائریکٹر عامر علی نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی بھی عمارات ہو ،چاہئے سرکاری یا غیر سرکاری ، زلزلے کی شدت برداشت کرنے کی اہل ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا اس پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں، تاہم سرکار کی طرف سے یہ ہدایت ہے کہ اب جو بھی تعمیرات کھڑا ہوں وہ زلزلہ سے غیر محفوظ نہ ہو۔