۔ 100سے زائد سٹالز اور زرعی جدتوں کی نمائش
سرینگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے زرعی شعبے کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کیلئے ٹیکنالوجی پر مبنی اور نامیاتی کاشتکاری پر زور دیا ہے۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی سرینگر میں گیارہویں ایگری ٹیک میلہ گونگل2026 کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں وزرا سکینہ ایتو اور جاوید احمد ڈار، وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی، رجسٹرار پروفیسر عظمت عالم خان، پرنسپل جی ایم سی سرینگر ڈاکٹر عفت حسن، ڈائریکٹر ایکسٹینشن ایجوکیشن ریحانہ حبیب کانٹھ سمیت یونیورسٹی کے اساتذہ، سائنسدانوں اور ماہرین نے شرکت کی۔ کشمیر کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے ترقی پسند کسانوں، نوجوان موجدین اور زرعی صنعتکاروں کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی۔
وزیراعلیٰ نے تین روزہ ایگری ٹیک میلہ کا افتتاح کرنے کے بعد کیمپس میں قائم 100سے زائد اسٹالز کا معائنہ کیا جہاں زرعی ٹیکنالوجی، جدید آلات، اسٹارٹ اپس اور کاروباری منصوبوں کی نمائش کی گئی تھی۔ انہوں نے اسٹال مالکان سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی مصنوعات، ٹیکنالوجی اور کاروباری اقدامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔اپنے خطاب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے کسانوں، باغبانوں، زرعی سائنسدانوں اور محققین کی مسلسل محنت سے خطے کے زرعی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر کو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا ہے تو مقامی زرعی پیداوار کے معیار اور مقدار دونوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ SKUAST-K اور SKUAST جموں نے تحقیق، جدت اور فیلڈ آٹ ریچ کے ذریعے کسانوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی اور نامیاتی کھیتی ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گونگل-2026 جیسے اقدامات کسانوں کو ماہرین سے براہِ راست رابطے، جدید آلات تک رسائی اور نئی منڈیوں کی تلاش کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں، جس سے جموں و کشمیر کے زرعی نظام کو مزید تقویت ملے گی۔